14 سالہ جنگ کے بعد برٹنی سپیئرز نے باپ سے جان چھڑا لی

محض 26 برس کی عمر میں دو ناکام شادیوں کے بعد نشے کی لت کا شکار ہو جانے والی امیر ترین امریکی گلوکورہ برٹنی سپئیرز نے بالآخر 14 سالہ عدالتی جنگ کے بعد اپنے والد سے جان چھڑوا لی ہے۔ 26 برس کی عمر میں عدالتی حکم پر اپنے والد کی سر پرستی میں چلی جانے والی برٹنی سپیئرز نے اب 40 سال کی عمر میں بالآخر عدالت سے اپنے والد کی سرپرستی ختم کروانے کا حکمنامہ حاصل کر لیا یے تاکہ وہ ایک بار پھر سے آزادانہ زندگی گزارنے شروع کر سکے۔
اپنی مرضی کے مطابق آزاد زندگی گزارنے کا حق ملنے کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ برٹنی جلد گلوکاری اور شوبز کی دنیا میں واپسی آ جائیں گی اور ممکنہ طور پر تیسری شادی بھی کر لیں گی۔ برٹنی نے رواں برس ستمبر میں اپنے بوائے فرینڈ سام اصغری سے منگنی کی تھی اور اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے منگیتر سے تیسری شادی کر لیں گی۔ یاد رہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کی سپریم کورٹ نے 12 نومبر کو برٹنی اسپیئرز کی ’سرپرستی‘ ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
لیکن کیس کی سماعت کرنے والی جج برینڈا نے گلوکارہ کی ’سرپرستی‘ ختم کرتے ہوئے بعض افراد کو کچھ ہفتوں تک ذمہ داریاں دیں کہ وہ دولت، جائداد اور ہر طرح کے معاملات کا اختیار برٹنی اسپیئرز کو ملنے تک انکا ساتھ دیں۔ عدالت نے 30 منٹ تک والد کی ’سرپرستی‘ ختم کرنے کے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران برٹنی اسپیئرز عدالت میں موجود نہیں تھیں جب کہ عدالت کے باہر گلوکارہ کے مداح ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے۔عدالت نے فوری طور پر برٹنی اسپیئرز کی ’سرپرستی‘ ختم کرنے کا حکم جاری کیا جسکا اطلاق عدالتی فیصلے کے بعد نافذ العمل ہو چکا ہے۔ عدالت نے برٹنی اسپیئرز کی ذہنی صحت سے متعلق کوئی بھی ہدایت جاری کیے بغیر انہیں ان کی مرضی کے مطابق آزاد زندگی گزارنے کا اختیار دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے فوری بعد برٹنی نے انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر اس عدالتی فیصلے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا دن اور سب سے بڑی فتح قرار دیتے ہوئے مسرت اور خوشی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے اپنا ساتھ دینے پر مداحوں کا شکریہ ادا کیا، اور آزادی ملنے پر خدا کا شکر بھی ادا کیا۔
یاد رہے کہ برٹنی اسپیئرز کے والد فروری 2008 سے ان کے قانونی ’سرپرست‘ تھے اور گلوکارہ انہیں برسوں سے ہٹوانے کی کوششوں میں مصروف تھیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران عدالت میں اس معاملے پر کئی سماعتیں ہوئیں جس دوران برٹنی نے عدالت کو یہ بھی یہ بتایا کہ ان کے والد ان پر تشدد کرتے رہے تھے۔ عدالت نے برٹنی کے والد کو 2008 میں تب ان کا سرپرست مقرر کیا تھا جب وہ ڈیپریشن کا شکار ہو گئی تھیں۔ گلوکارہ تب ڈیپریشن کا شکار ہوگئی تھیں جب ان کی طلاق ہونے کے بعد بچوں کی حوالگی سے متعلق عدالت میں کیس چل رہا تھا اور وہ خوفزدہ تھیں کہ بچوں کو ان کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
دوسری شادی کے طلاق پر ختم ہونے اور بچوں کے نہ ملنے کے غم میں اداکارہ ذہنی مسائل کا شکار ہوگئی تھیں۔بعد ازاں برٹنی اسپیئرز نے دوسری شادی گلوکار کیون فیڈرلائن سے 2004 کے آخر میں کی جن سے 2007 میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس سے قبل برٹنی نے اپنے بچپن کے دوست جیسن ایلن الیگزینڈر سے شادی کی تھی مگر بد قسمتی سے اسی سال دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی تھی۔
مسلسل دو ناکام شادیوں کے بعد برٹنی اسپیئرز ڈیپریشن میں چلی گئی تھی اور کم عمری میں شراب نوشی بھی شروع کر دی تھی، چنانچہ عدالت نے ان کی دیکھ بھال کے لیے انکے والد کو سرپرست بنا دیا تھا۔ انکے والد 14 سال تک ان کے ’سرپرست‘ رہے اور وہ ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور رہیں۔ تاہم اب انہیں آزادی مل گئی یے لیکن یہ اور بات کہ اب 40 برس کی عمر میں انکا کیرئیر اور حسن پہلے جیسا نہیں رہا۔
