ہمارا الیکٹرونک میڈیا اور اینکرز کس کے اثاثے بن چکے ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کارعمار مسعود نے کہا ہے کہ آج کا پاکستانی الیکٹرانک میڈیا ایک مصنوعی میڈیا ہے جس کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں رہا ہے۔ وہ نادیدہ ہاتھ ہی پچھلے برسوں میں سچ کو دباتے اور چھپاتے ہوئے عمران خان کو دیوتا ثابت کرتا رہا۔ عمار مسعود کے بقول سیاسی جماعتوں کے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہمارا آج کا الیکٹرانک میڈیا اور اینکرز اب کسی کے ”اثاثے“ بن چکے ہیں۔ جو کسی بھی وقت، کسی کے اشارے پر پوری بساط الٹ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر عمران کا جو حلقہ اثر تخلیق ہو چکا ہے اس میں الیکٹرانک میڈیا کے مسلسل دروغ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ہم نے اس نادیدہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کی ایسی ذہن سازی کر دی ہے کہ اب انہیں درست بات سمجھ ہی نہیں آ سکتی۔ مسلسل جھوٹ سننے کے سبب لوگ اب سچ سننے کے روادار ہی نہیں رہے۔ جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں پھر سے جمہوریت آ گئی ہے اور عمران کا دور بیت گیا ہے انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ جب تک ریموٹ کنٹرولڈ الیکٹرانک میڈیا، اینکرز، اور تجزیہ کار موجود ہیں، پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جمہوریت اب بھی صرف ایک واٹس ایپ کال کی مار ہے۔ ذرا کال تو آنے دیجئے پھر دیکھیے کہ یہی اینکرز، تجزیہ کاراور نومولود صحافی کس طرح اپنی نوکریوں کو بچانے کے لیے نواز شریف کو غدار قرار دیتے ہیں، آصف زرداری پر بہتان لگاتے ہیں، اور مولانا فضل الرحمن کے غلیظ خاکے بناتے ہیں۔ یاد رکھیئے، جب تک یہ اینکرز نما ”اثاثے“ وٹس ایپ کی گھنٹیوں پر ناچتے رہیں گے، پاکستان میں نہ تو کبھی جمہوریت آ سکے گی اور نہ ہی کبھی آزادی صحافت کا کوئی تصور عوام کے ذہنوں میں سما سکے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دور حکومت کے آخری ایام میں ہمیں پتہ چلا کہ آزاد الیکٹرانک میڈیا بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔ مشرف کے دور تاریک کو ختم کرنے میں ایک آزاد الیکٹرانک میڈیا کا بہت ہاتھ تھا۔ اس زمانے میں بہت بیباکی سے لوگوں نے کھل کر ایک آمر کے بارے میں بات کی۔ جمہوریت کے معنی سمجھائے۔ آئین کی داستان سنائی۔ ہمارے جیسے ملک میں یہ سب باتیں بہت اچنبھے کی تھیں۔ مشرف کا دور قبیح ختم ہوا تو اس ملک کے ارباب و بست کشاد کو یہ بات سمجھ آ گئی کہ الیکٹرانک میڈیا اتنا طاقتور ہے کہ اس کی مدد سے نہ صرف جب چاہے حکومتوں کو رسوا یا تبدیل کیا جا سکتا ہے بلکہ کسی وقت بھی، کوئی بھی بیانیہ تخلق کیا جا سکتا ہے۔
بقول عمار مسعود، ہم نے دیکھا کہ 2013 کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں بڑے غیر محسوس انداز میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک جیسی سطحی سوچ والے کمزور اینکروں کی بھرتیاں کروائی گئیں۔ ایک جیسا جمہوریت مخالف بیانیہ رکھنے والوں اینکرز اور تجزیہ کاروں کا جال بڑے نپے تلے انداز میں ہر ٹی وی چینل میں بچھایا گیا۔ ان پڑھ اور نومولود صحافیوں کو سکرین پر زیادہ جگہ دی جانے لگی۔ یہ سلسلہ کسی ایک چینل تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پلاننگ ہر چھوٹے بڑے چینل کے لیے کی گئی۔ ہر چینل میں کچھ مخصوص اشاروں پر اینکرز کی بھرتیاں کی گئیں۔ المیہ یہ ہوا کہ رپورٹر کی اہمیت بھلا کر اینکر پرسن کو صحافت کا منبع بنا کر پیش کیا گیا۔ ایسے ایسے اینکرز بھرتی کروائے گئے جن کی اصل تنخواہ چند ہزار تھی مگر ان کو من پسند خبریں دینے کے لیے کسی اور چینل پر کئی ملین روپوں کے عوض ملازم کروایا گیا۔ ان میں سے بہت سے لوگ بنیادی ابتدائی تعلیم سے بھی بے بہرہ تھے حتی کہ کچھ نے میٹرک تک نہیں کیا ہوا اور انگریزی تو درکنار اردو میں دو لائنیں لکھنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لیکن انہیں قوم کے مصلح اور ریفارمر کے طور پر پیش کیا گیا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ مسلسل ٹی وی پر آنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان پالتو اینکرز کی فالونگ کسی بھی حق گو صحافی سے بہت زیادہ ہو گئی۔ ان مصنوعی کرداروں سے مسلسل پرائم ٹائم پر پروگرام کروائے گئے اور دوسرے چینلز کے اہم ٹاک شوز میں ان کی شرکت کو لازم بنایا گیا۔ یہ قصہ یک طرفہ نہیں رہا۔ ایک جانب جمہوریت کش رویے کو صحافت بنا کر پیش کیا گیا اور دوسری جانب ان پروفیشنل صحافیوں کو رفتہ رفتہ اداروں سے فارغ کیا گیا جو حق بات کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ انتہائی غیر محسوس طریقے سے ایک ایسا میڈیا تخلیق کیا گیا جس میں وہ سارے صحافی ناپید ہو گئے جنہوں نے ضیا دور میں کوڑے کھائے تھے، جنہوں نے مشرف آمریت کی مخالفت کی تھی، جنہوں نے ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری رویوں کی حوصلہ افزائی کی تھی، جنہوں نے ہمیشہ آئین پاکستان کی حرمت کو بیان کیا تھا۔ ایسے سب صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو لفافہ، غدار اور ایجنٹ قرار دے کر ٹی وی سکرینوں سے الگ کر دیا گیا۔ انکی جگہ سوٹڈ بوٹڈ نوجوان بچوں نے لے لی جن کا منشا صحافت کا علم بلند کرنے سے زیادہ اپنی پر تعیش نوکریوں کو بچانا تھا۔ ان کے پیچھے چھپے ہاتھوں نے ان سے جو کام لیے ان میں اہم ترین کام آئین کا مذاق اڑانا اور یہ تاثر قائم کرنا تھق کہ چند قوتیں ملک کی سلامتی کے لیے بہت ضروری ہیں ورنہ ہمارا حشر بھی عراق اور لیبیا جیسا ہو گا۔ اسکے علاوہ بغیر کوئی ثبوت پیش مسلسل یہ بیانیہ قائم کیا گیا کہ تمام سیاستدان کرپٹ ہیں، نام نہاد اینکرز کے ذریعے اصل کرپٹ لوگوں کی کرپشن کو چھپانا گیا اور چند قوتوں کے قریبی سیاستدانوں کو مسیحا بنا کر پیش کیا گیا۔ ایسے میں ٹی وی پر بہت کم اینکرز ایسے تھے جنہوں نے اس دور تاریک میں اپنی صحافت بھی بچائی اور عزت بھی محفوظ رکھی۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس سب کے بعد اب ایسا سماج تخلیق ہو چکا ہے جہاں لوگ عمران کی ہر بات پر ایمان لے آتے ہیں۔ اسکے ہر یو ٹرن کو سعادت بتاتے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک بہت حصہ اس الیکٹرانک میڈیا کا ہے۔ اب تک اکثر لوگوں کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ بھارے کے اینکرز کی نوکریاں کہاں سے فون کر کے ذریعے کروائی جاتی تھیں۔ کس کے مشورے سے یہ لوگ اپنے پروگرام کے موضوع کا انتخاب کرتے تھے۔ کس کی اجازت سے یہ پروگراموں میں مہمانوں کو مدعو کرتے تھے۔ کس کی آشیر باد پر کسی خبر کو دبایا یا اٹھایا جاتا تھا۔ اب ان حقائق سے بہت حد تک پردہ اٹھ چکا ہے۔
پانچ سال کی الیکٹرانک میڈیا کی محنت سے وہ معاشرہ تخلیق ہوا ہے جسکے مضمرات ہم بھگت رہے ہیں۔ اس میں بہت سے اینکر اور تجزیہ کار عمران خان کی توصیف پر مامور رہے ہیں۔ جنہوں نے ہر غلط پالسی کا دفاع کیا اور ہر ایسی خبر پر پردہ ڈالا جس سے عمران کی کسی حماقت یا کرپشن کا پردہ چاک ہوتا تھا۔
بقول عمار مسعود، ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ موجودہ الیکٹرانک میڈیا نہ تو آزاد صحافت کا پرتو ہے اور نہ ہی حق کا داعی ہے۔ یہ میڈیا عمران خان کی توصیف اور انکی حکومت کی مثبت رپورٹنگ کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔ حکومت تبدیل ہو گئی مگر یہ میڈیا اب بھی وہی ہے۔ بہت سے اینکرز اب بھی انہی نادیدہ وٹس ایپ کال کے منتظر ہیں۔ 17 ٹی وی چینلز پر پوری طرح قبضہ کرنے کے بعد اب بھی یہ میڈیا کسی نادیدہ ہاتھ کے اختیار میں ہے۔ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں پانچ منٹ میں ایک وٹس ایپ پر پاکستان میں مصنوعی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ایک اشارے پر پرویز الہی کو سب سے بڑا ڈاکو اور ایک ہی ہلے میں اسے سب سے بڑا ریفارمر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ جب چاہے جمہوریت کے لتے لیے جا سکتے ہیں اور جب چاہے آمریت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا سکتے ہیں۔ سیاسی طنز و مزاح کے پروگراموں کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں نفرت، غلاظت، پھکڑ پن، جمہوریت کش رویے اور سیاستدانوں کی تضحیک ٹھونسی گئی۔ مزاح ہر بہادر قوم کا خاصہ ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جس قوم میں مشتاق احمد یوسفی، دلاور فگار، ضمیر جعفری، شفیق الرحمن، کرنل محمد خاں اور نذیر احمد شیخ جیسے مزاح نگار پیدا ہوئے اس قوم کو سیاسی طنز و مزاح کے پروگراموں کے ذریعے جگت، پھکڑ پن اور تضحیک، تحقیر جمہوریت اور توہین سیاست کی کھلم کھلا تربیت دی گئی۔ لہذا عمار مسعود کے خیال میں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ الیکٹرانک میڈیا ایک مصنوعی میڈیا ہے۔ اس کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں رہا ہے۔ وہ نادیدہ ہاتھ ہی ان سے پروگرام کرواتا رہا، سچی خبر کو دباتا رہا اور عمران خان کو دیوتا کا روپ دیتا رہا۔ سیاسی جماعتوں کے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ الیکٹرانک میڈیا اور یہ اینکر اب کسی کے لئے ”اثاثے“ بن چکے ہیں جو کسی بھی وقت، کسی کے اشارے پر پوری بساط الٹ سکتے ہیں۔
اور جب تک یہ ”اثاثے“ واٹس ایپ کی گھنٹیوں پر ناچتے رہیں گے اس ملک میں نہ تو جمہوریت آ سکے گی اور نہ ہی کبھی آزادی صحافت کا کوئی تصور عوام کے ذہنوں میں سما سکے گا۔
