عمران کو بھی میری طرح فوج کے ساتھ چلنا چاہیے

مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کو دھوکہ دے کر سیاسی غلطی کرنے والے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھی انکی طرح اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلیں۔ انکا کہنا تھا کہ عمران کو فوج کے ساتھ لڑائی جھگڑے والا کام نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں لیکن نقصان ضرور ہے جس سے بچنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کے فوج سے معاملات ٹھیک رہتے تو وہ آج بھی اقتدار میں ہوتے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے کئی بار ایشوز آتے اور حل بھی ہو جاتے ہیں جبکہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں۔ پرویز الٰہی نے عمران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے بجائے سیاسی مخالفین پر حملے کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں بہتری کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول "جب عمران کے پاس جاتا ہوں تو یہی کہتا ہوں کہ ہمیں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں کرنی بلکہ ہمارا ہدف ہمارے سیاسی مخالفین ہونے چاہیئں۔ یاد رہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد عمران اپنے جلسوں میں کھل کر فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کر رہے ہیں اور اشاروں کنایوں میں وہ اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمے دار اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرا رہے ہیں۔ عمران اپنی تقریروں میں میر جعفر اور میر صادق کے حوالے دیتے ہوئے فوجی قیادت کو خود سے غداری کا مرتکب قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر فوج نیوٹرل نہ ہوتی تو ان کا اقتدار بچ سکتا تھا۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ‘نیوٹرل’ ہونے کے سوال پر پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ ‘نیوٹریلٹی’ کیا ہو گی کہ ایک وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس دوران کچھ نہیں کیا۔ پرویز الٰہی کے مطابق عمران کے پونے چار سالہ دورِ اقتدار میں خارجہ پالیسی کے محاذ پرفوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اُن کے تعلقات میں اُونچ نیچ آتی رہی اور معاملات حل بھی ہوتے رہے۔ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے۔
عام انتخابات کے حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے لیے انتخابات فوری ہوں جب کہ صوبائی حکومتیں اپنی مدت پوری کریں۔ ان کےبقول اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران جو دباؤ ڈال رہے ہیں اور لانگ مارچ کا عندیہ دے رہے ہیں، وہ اسی لیے ہے کہ جلد سے جلد نئے الیکشن ہوں۔
شہباز شریف حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ "اب یہ کیوں بیساکھیاں تلاش کر رہے ہیں؟ اب یہ کیوں کسی کو ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اب یہ حکومت کریں اور ڈلیور کر کے دکھائیں۔ اشیا کی قیمتیں نیچے لے کر آئیں اور بجلی کا مسئلہ ٹھیک کریں۔” مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاملات طے پا جانے کے بعد اچانک بنی گالا جا کر عمران خان کا ساتھ دینے میں کسی ‘فون کال’ کے عمل دخل کو رد کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ شریف برادران کے ساتھ ہمارا ٹریک ریکارڈ اتنا اچھا نہیں تھا۔ اُنہوں نے ہر موقع پر ہمیں دھوکہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 22 برس تک مسلم لیگ (ن)کے ساتھ رہے اور کئی مواقع پر وزارتِ اعلیٰ کے وعدے کے بعد بھی ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ اس لیے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے معاملے پر ہم چاہ رہے تھے کہ ان کا ساتھ دے کر دوبارہ غلطی نہ دہرائیں۔
چوہدری پرویز الٰہی نے مسلم لیگ (ق) میں پھوٹ کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین اور اُن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ طارق بشیر چیمہ موجودہ حکومت میں وزیر ہیں، لیکن وہ مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں اور جیسے ہی وزارتیں ختم ہوں گی تو سب گھر واپس آ جائیں گے۔ خیال رہے تحریکِ عدم اعتماد کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں مسلم لیگ (ق) کے اراکین قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ اور چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین نے عمران خان کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ دونوں اراکین کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کابینہ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
