کیا امیر پر لگنے والا سپر ٹیکس غریب کو بھرنا ہوگا؟

شہباز شریف حکومت کی جانب سے بڑی صنعتوں پر لگائے گئے 10 فیصد سپر ٹیکس پر ردعمل دیتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ امیر طبقے پر لگایا گیا یہ سپر ٹیکس دراصل غریب کو بھرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ حکومت نے بڑی انڈسٹریز پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جن انڈسٹریز پر ٹیکس لگا ہے ان میں سیمنٹ، سٹیل، چینی، آئل اینڈ گیس، مشروبات اور کیمیکلز، ایل این جی ٹرمینلز، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹوموبیل، سگریٹ اور فرٹیلائزرز جیسی صنعتیں شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے لگائے نئے ٹیکسوں پر سوشل میڈیا پر تنقید و تعریف کا ملا جلا رجحان نظر آرہا ہے۔ حکومت کے اعلان پر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر خزانہ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’سپر ٹیکس ہماری معیشت کو مزید نچوڑنے کا سبب بنے گا۔‘ ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ امیروں پر ٹیکس نہیں بلکہ سپر ٹیکس کو غریب صارفین کی طرف منتقل کیا جائے گا، مہنگائی بڑھے گی اور ترقی رکے گی۔
حکومتی ناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ جو لوگ سیمنٹ اور چینی پر ٹیکس لگنے کا جشن منا رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ سیٹھ ٹیکس نہیں دے گا بلکہ صارفین کے لیے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دے گا اور غریب کو سیٹھوں کا سپر ٹیکس بھرنا پڑے گا۔ حکومتی فیصلے کے اعلان بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے آخری روز شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
جمعے کو سٹاک ایکسچینج میں کاروبار دو ہزار پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 40 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آ گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا اصرار ہے کہ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے سپر ٹیکس نافذ کیا گیا ہے اور معیشت بہتر بنانے کے لیے امیر طبقے پر ٹیکس لگا کر غریبوں کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سپر ٹیکس ہوتا کیا ہے اور اس سے حکومت کو کتنے پیسے ملیں گے؟ معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگاتی ہیں۔ معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق ’شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے امیر طبقے پر لگائے جانے والے ’سپر ٹیکس‘ کا کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ پاکستان میں امیر لوگوں اور اداروں کی تعداد بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’امیروں پر ٹیکس لگانے کی ساری بحث محض ایک مفروضہ ہے۔ امیروں اور بڑے سرمایہ داروں، جاگیرداروں کی تعداد پاکستان میں بہت کم ہے۔ ان پر سپر ٹیکس لگانے سے بجٹ خسارہ کم نہیں ہو گا۔ اس سے ریونیو میں کوئی نمایاں فرق نہیں پڑے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ریونیو اکٹھا کرنے کی تمام کوششیں غیر مؤثر ہیں کیونکہ پاکستانی معیشت اتنی مضبوط نہیں کہ اس سے زیادہ پیسے اکٹھے کیے جا سکیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ خسارہ صرف دفاعی اور غیرترقیاتی بجٹ کم کر کے اور دیگر حکومتی اخراجات نیچے لا کر ہی ختم کر سکتی ہے اور اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔ ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن خان بھی کہتے ہیں کہ سپر ٹیکس کا نفاذ صرف نمبر دکھانے کے لیے ہے اور اس سے معیشت پر کوئی بڑا مثبت اثر نہیں پڑ سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ’سپر ٹیکس ایک اضافی ٹیکس ہوتا ہے جو آمدن کے حساب سے عائد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے 2010 میں بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب سیلاب آیا تھا تاہم حالیہ سپر ٹیکس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔‘
ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق پاکستانی معیشت کی رفتار اتنی اچھی نہیں کہ وہ ایسے اقدامات کو کوئی مدد فراہم کر سکے۔ انکے مطابق یہ ٹیکس صرف صرف بک بیلنس کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔ ایسے ٹیکس اور ان کے نمبرز کاغذوں میں دکھانے کے لیے ہوتے ہیں اور ان نمبرز کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے معیشت کو کوئی بہت بڑا فائدہ ہونے جا رہا ہے یا بجٹ خسارہ ختم یا کم ہو جائے گا۔
