عمران کی جہازی سائز کابینہ بمقابلہ شہباز کی بھاری بھر کم کابینہ


ماضی میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جہازی سائز کابینہ پر تنقید کرنے والے شہباز شریف کے اپنی کابینہ اراکین کی تعداد اب 55 ہوگئی ہے حالانکہ ملک شدید ترین معاشی مشکلات میں گھرا ہوا۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کبھی اتنی بڑی کابینہ نہ بناتے اگر انہیں گیارہ جماعتوں کی اتحادی حکومت کے سربراہی نہ کرنا پڑتی۔ وزیراعظم کی کابینہ میں اب تک 34 وفاقی وزرا، چھ وزرائے مملکت اور 11 معاونین شامل ہیں، جبکہ انہوں نے چار مشیران بھی مقرر کر رکھے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں مزید تین معاونین خصوصی کی تعیناتی کی ہے، جس سے ان کی کابینہ میں وزرا، معاونین اور مشیران کی کل تعداد 55 ہوگئی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف تو حکومت معاشی مشکلات اور اخراجات میں کمی کرنے کی بات کرتی ہے تو وہیں وفاقی کابینہ میں اراکین کی تعداد بڑھا رہی ہے، جن کی تنخواہیں اور مرعات قومی خزانے سے ہی دی جاتی ہیں۔ عام لوگ پوچھتے ہیں کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال عوام کو چائے کم پینے کی تلقین کرتے ہیں لیکن کابینہ کا حجم کم کرنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم کی کابینہ میں 34 وفاقی وزرا، چھ وزرائے مملکت اور 11 معاونین شامل ہیں، جبکہ انہوں نے چار مشیران بھی مقرر کر رکھے ہیں۔

حکومتوں میں وزیراعظم کے مشیران اور معاونین خصوصی کو وفاقی وزرا یا وزرائے مملکت کا درجہ بھی دیا جاتا ہے، اور اس روایت پر پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ اور پاکستان تحریک انصاف کی سابق وفاقی حکومتوں نے بھی عمل کیا۔
سیاسی تجزیہ كار حسن عسكری كے خیال میں معاون خصوصی كا عہدہ محض ذاتی پسند ناپسند كی بنیاد پر پیدا كیا اور دیا جاتا ہے۔ان كا كہنا تھا كہ اتنے زیادہ معاونین خصوصی ركھنے كی خاطر خواہ وجہ نظر نہیں آتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’تکنیکی طور پر اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ وزیراعظم كا استحقاق ہے، اور قانون انہیں معاونین خصوصی مقرر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

موجودہ وفاقی کابینہ کے اراکین، مشیروں اور معاونین خصوصی کی کل تعداد تقریباً اتنی ہی بنتی ہے جتنی سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں تھی۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر دوسرے اعتراضات کے علاوہ بڑی کابینہ اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی ’غیرضروری فوج‘ رکھنے کے باعث بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ تحریک انصاف دور حکومت میں اراکین وفاقی کابینہ کی کل تعداد زیادہ سے زیادہ 32 رہی، جن میں 28 وفاقی وزرا اور چار وزرائے مملکت رہے، جبكہ عمران خان نے پانچ مشیران بھی مقرر كیے تھے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے معاونین خصوصی کی ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ تعداد ایک درجن سے زیادہ بھی رہی، جن میں اکثریت غیرمنتخب افراد کی تھی۔ وفاقی سطح پر وزارتیں ہوتی ہیں، اور ہر وزارت کے سربراہ کے فرائض وفاقی وزیر انجام دیتا ہے، جبکہ زیادہ اہم وزارتوں کے لیے وزرائے مملکت بھی تعینات کیے جاتے ہیں۔ وزیر مملکت کو جونیئر وزیر بھی کہا جا سکتا ہے، جو وزارت کا کاروبار چلانے میں وفاقی وزیر کی معاونت کرتا ہے۔

دستور پاکستان کے آرٹیکل 90 کے مطابق وزرا پر مشتمل کابینہ کے سربراہ وزیراعظم ہوں گے، جو صدر کو ان کے کاموں کی انجام دہی میں مدد اور مشورہ دے گی، جبکہ کابینہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے آگے جواب دہ ہوگی۔ آئین کا آرٹیکل 92 وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تعیناتی کا طریقہ بتاتا ہے، جس کے مطابق وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملکت پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اراکین کی ان عہدوں پر تقرری کریں گے۔

تاہم ایوان بالا یا سینیٹ سے لیے گئے وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تعداد ہاؤس کے اراکین کی کل تعداد کے ایک چوتھائی سے زیادہ ہونے پر آئین پابندی لگاتا ہے، جبکہ کابینہ میں وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی کل تعداد پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اراکین کی مجموعی تعداد کے 11 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
آرٹیکل 57 کے تحت وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کو پارلیمان کے کسی بھی ایوان یا دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس یا کسی بھی ایوان کی کسی کمیٹی کی کارروائی میں شرکت اور بات کرنے کا حق دیتا ہے۔

وفاقی حکومت کے ضوابط (رولز آف بزنس 1973) کے تحت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صرف وفاقی وزرا ہی شرکت کر سکتے ہیں تاہم وزرائے مملکت کو وزیراعظم خصوصی دعوت کے ذریعے مدعو کر سکتے ہیں۔ آئین پاكستان کی رو سے وفاقی کابینہ صرف وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت پر مشتمل ہوتی ہے۔ تاہم آئین کا آرٹیکل 93 وزیراعظم کو اپنے لیے مشیران کی تقرری کا حق دیتا ہے، جن کی زیادہ سے زیادہ تعداد پانچ ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2020 کے ایک فیصلے میں وضاحت کر دی ہے کہ وزیراعظم کے مشیر وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں ہو سکتے، اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صرف مخصوص حالات میں خصوصی دعوت پر ہی شرکت کر سکتے ہیں۔عدالت کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کے مشیر کو جس ڈویژن کا سربراہ مقرر کیا جاتا ہے وہاں وہ پالیسی سازی کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے، جو صرف وزیراعظم اور وفاقی وزیر کا استحقاق ہے۔

ناقدین کے مطابق اصولاً مشیر اور معاون خصوصی کے عہدوں پر ٹیکنوکریٹس کی تقرری کی جانی چاہیے جو وزیراعظم کو اس مخصوص شعبے سے متعلق مشورہ دے سکیں۔ لیکن عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے، یہ سیاسی عہدے بن کر رہ گئے ہیں، جن پر وزیراعظم اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر تقرریاں کرتے ہیں۔

وزیراعظم قومی اسمبلی میں اپنے حمایتیوں کو خوش کرنے کے لیے بھی انہیں نوازنے کی خاطر مشیر یا معاون خصوصی بناتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو ان کی اپنی جماعت مسلم لیگ ن کے علاوہ چھوٹی بڑی 10 دوسری جماعتوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت کے پارلیمان میں سیاسی حلیفوں کی تعداد موجودہ حکومت کے حمایتیوں سے کم تھی، تاہم سابق وزیراعظم عمران خان نے زیادہ معاونین خصوصی کا تقرر کیا۔ تاہم خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں اتحادیوں کو راضی رکھنے کے چکر میں شہباز شریف کی کابینہ عمران خان کی کابینہ سے بھی بڑی ہو جائے گی۔

Back to top button