آرمی کو خود چیف منتخب کرنے کی تجویز پر خواجہ آصف تنقید کی زد میں

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف آرمی کو اپنا چیف خود منتخب کرنے کا اختیار دینے کی تجویز پر تنقید کی زد میں آگئے، فواد چوہدری نے اسے پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور انتخابات کا مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومت منتخب ہو کر اہم تعیناتیاں کرے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام ‘بولو طلعت حسین کے ساتھ’ میں پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ن) کے آرمی چیف کی تبدیلی کے مؤقف کے حوالے سے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے یہ ریمارکس دیے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس تنازع کو اب ختم ہونا چاہیے، خواجہ آصف سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری کے وقت وزیر دفاع تھے۔دونوں مواقعوں پر نواز شریف وزیراعظم تھے اور ان تقرریوں پر ان کے کوئی ذاتی مقاصد نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی تقرری سے پہلے سابق سیکریٹری برائے دفاع سے ان کی بطور آرمی چیف تقرری پر رائے مانگی تھی، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ تمام تر 3 اسٹار جنرلز اس پوسٹ کے لیے موزوں ہیں۔وزیر دفاع نے کہا میں اس لیے وضاحت کررہا ہوں کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل انتہائی شفاف ہے۔
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو نومبر میں نئے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے سوال اٹھانے اور شک کا اظہار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا تقرر ادارے کے اندر کسی سسٹم کے ذریعے کیوں نہیں ہوسکتا؟ عدلیہ بھی تو اپنے چیف جسٹس کا تقرر کرتی ہے۔ اس بات پر ہوسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر مجھ پر تنقید شروع ہو جائے، عوام میں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے بہت زیادہ بحث کیا جانا غیرمتوقع ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب جنرل مشرف نے 7سے 9 سال کی توسیع لی تو اس نے معاملہ کو بہت زیادہ بے نقاب کر دیا ہے۔ فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر خواجہ آصف کے انٹرویو کا کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ‘وزیر دفاع جیسے لوگ پاکستان کے لئے خطرہ ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ‘اگر منتخب وزیر اعظم نے آرمی چیف بھی تعینات نہیں کرنا تو پھر وہ کیا صرف پیسے بنانے کیلئے وزیر اعظم بنے گا؟
ان کا کہنا تھا کہ نون لیگ کا یہ 1985 والا گروہ پاکستان کے آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نئ حکومت منتخب ہو جو اہم تعیناتیاں کرے یہ عوام کا حق ہے۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے سربراہ اظہر مہشوانی نے وزیر دفاع کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے کھل کر پی ڈی ایم کی حکومت لانے کا اصل مقصد بتا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے وزیراعظم سے آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار لے کر موجودہ آرمی چیف کو دینے کی تجویز دے دی۔
صحافی سرل الیمڈا نے بھی اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام برادرکشی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ خواجہ آصف کا ارادہ تھا کہ پاکستان کے قدیم تجسس میں سے ایک کی طرف توجہ مبذول کرائی جائے۔
