کیا بطور وزیر اعظم عمران خان واقعی بے اختیار تھے؟


اقتدار سے بے دخلی کے بعد فوری نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلنے والے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے دور حکومت میں ایک بے اختیار وزیر اعظم ہونے کا دعویٰ انکے سیاسی مخالفین کی جانب سے ایک بھونڈا مذاق قرار دیا ہے چونکہ موصوف بطور وزیراعظم منہ بھر کر یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ ایک بااختیار وزیراعظم ہیں اور تمام فیصلے اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں خان صاحب خود بطور وزیراعظم یہ اعتراف کیا کرتے تھے کہ خفیہ ایجنسیاں ان کا فون سنتی ہیں اور انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ کل کو یہی ایجنسیاں انکی دیانت اور امانت کی گواہی دیں گی۔ لیکن اب موصوف صبح و شام اپنے جلسوں میں ایجنسیوں پر یہ الزام لگا کر چیختے چنگھاڑتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ بطور وزیر اعظم ان کا فون ریکارڈ کیا جاتا رہا اور ان کی خفیہ گندی ویڈیوز بنائی گئیں جو کہ ایجنسیوں کا کام نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوری حکومتوں اور فوج کے درمیان طاقت اور اختیار کی رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں۔ جنرل ایوب خان کے پہلے مارشل لا سے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنے والے آرمی چیف جنرل مشرف تک کئی بار فوج نے براہ راست حکومت کی۔ تاہم جمہوری ادوار میں بھی پس پردہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں جس میں مرکزی سوال یہ رہا ہے کہ پاکستان میں سول حکومت اہم فیصلوں کے معاملے میں کتنی بااختیار ہوتی ہے؟ اس بحث کو عمران خان کے اس بیان نے تیز تر کر دیا ہے جس میں انھوں نے یہ گلہ کیا کہ پچھلی حکومت دیکھنے میں تو ان کی تھی لیکن دراصل حکمرانی کوئی اور کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر 2018 کے الیکشن میں عمران خان کو تاریخی دھاندلی کے ذریعے اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی لیے پچھلا دور ہائبرڈ نظام حکومت کہلاتا تھا جس میں عمران بیک سیٹ ڈرائیونگ کر رہے تھے جب کہ ملکی خارجہ پالیسی سے لیکر پارلیمنٹ تک کو فوج اور آئی ایس آئی سے وابستہ کرنل بریگیڈئیر اور جنرل حضرات چلا رہے تھے۔ عمران خان جس حد تک اپنی حکومت چلانے کے لیے آئی ایس آئی پر انحصار کرتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قومی اسمبلی کی بلڈنگ میں خفیہ ایجنسی کا باقاعدہ ایک آفس موجود تھا جس کا انچارج ایک حاضر سروس کرنل تھا جو آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ایما پر اراکین پارلیمنٹ کو ہنساتا اور رلاتا تھا۔ اور یہ سب کچھ عمران کی مرضی اور منشا سے ہو رہا تھا جو بطور وزیراعظم صبح و شام جنرل قمر باجوہ اور فیض حمید کے گن گایا کرتے تھے۔

لہذا ناقدین کہتے ہیں کہ عمران کی جانب سے اب یہ گلہ کیا جانا کہ حکومت ان کی تھی لیکن اسے چلاتا کوئی اور تھا ایک لطیفے سے کم نہیں۔ انکے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا ناقدین عمران خان کو ان کے دور حکومت کے بیانات یاد دلاتے ہوئے سوال کر رہے ہیں ماضی میں فوج کے ساتھ ’ایک پیج‘ پر ہونے کا پرچار کرنے والے خان صاحب کو اپنے اقتدار کی بے اختیاری حکومت جانے کے بعد ہی کیوں یاد آ رہی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ عمران کو سمجھنا چاہئے کہ جو لوگ انہیں اقتدار میں لائے تھے انہوں نے ہی انہیں بے دخل کیا ہے، لہذا گلہ کس بات کا؟

دوسری جانب عمران خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کوئی بھی وزیر اعظم حکومت میں رہتے ہوئے کبھی بھی طاقتور حلقوں کے خلاف ملکی مفاد میں بات نہیں کرتا۔اس بحث کا آغاز تب ہوا جب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے یہ گلہ کیا کہ الیکشن 2018 کے بعد بطور وزیر اعظم ملک چلانے کی ذمہ داری مجھ پر تھی، تاہم اصل طاقت کسی اور کے پاس تھی۔ حکومت میری تھی لیکن حکمرانی کسی اور کی تھی۔ مجھے ساڑھے تین سال میں آدھی پاور بھی مل جاتی تو ہم شیر شاہ سوری سے مقابلہ کر لیتے۔ ہم اربوں کے ٹیکس ڈیفالٹر پکڑتے تو پتہ چلتا وہ کہیں اور چلے جاتے اور حکم کچھ اور مل جاتا۔ بظاہر عمران نے کسی ادارے یا شخصیت کا نام نہیں لیا تاہم ایک اور مقام پر اسی دن ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ وہ کن طاقتور لوگوں کی بات کر رہے ہیں، عمران نے جواب دیا کہ ’وہ این آر او دینے والے لاگ، آپ اعتزاز احسن کا بیان دیکھ لیں۔‘ واضح رہے اعتزاز احسن نے 11 اکتوبر کو الزام عائد کیا تھا کہ ’نواز شریف، شہباز شریف اور مریم کو کرپشن کیسز سے جنرل باجوہ نے نکلوایا ہے۔‘

اس بیان کے بعد سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی نے بھی ٹویٹر پر جنرل باجوہ پر شریفوں کو این آر او دینے کا الزام عائد کیا تو ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا۔ عمران خان نے اعظم سواتی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے انکی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ عمران اور تحریک انصاف کی جانب سے کبھی فوجی قیادت اور کبھی جنرل باجوہ کے خلاف تنقید کا سلسلہ تو ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ تاہم گذشتہ چند ماہ کے دوران اس تنقید میں اُتار چڑھاؤ کے بعد حالیہ دنوں میں اس میں شدت دیکھی گئی۔

تحریک انصاف کی جانب سے اس تنقید کے بعد، جو مسلم لیگ ن رہنماؤں کی عدالتوں سے بریت کے بعد شدت اختیار کر رہی ہے، سوشل میڈیا پر عمران خان کے چند بیانات کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو اس وقت کے ہیں جب وہ برسراقتدار تھے۔ ان بیانات میں سے ایک تین دسمبر 2018 کا ہے جس میں عمران خان صحافیوں سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ ’اس وقت پاکستان کی فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایک اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے جنرل ضیا کی، ایک ہوتی ہے جنرل مشرف کی، ایک ہے جنرل باجوہ کی جو ایک منتخب حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک پیج پر کھڑے ہیں۔‘ ایک صحافی جب ان سے اس موقع پر سوال کرتا ہے کہ ’فیصلے کیا آپ کرتے ہیں؟‘ تو عمران جواب دیتے ہیں کہ ’ظاہر ہے میں لیتا ہوں، آج تک ایک بھی فیصلہ ایسا نہیں ہے جو کہ میرا فیصلہ نہ ہو۔‘ ایک اور ویڈیو 24 مارچ 2020 کی ہے جس میں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان کہتے نظر آتے ہیں کہ ’جو بھی فیصلہ ہے، ذمہ دار میں ہوں اور میں ذمہ دار ایسے ہوں کہ کوئی فیصلہ میرے پوچھے بغیر نہیں ہوتا۔‘

عمران خان کے پرانے اور حالیہ بیانات میں تضاد تو واضح ہے تاہم جن حالات میں یہ بیانات دیے گئے وہ بھی یکسر مختلف ہیں۔ واضح رہے کہ عمران خان سے قبل مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی فوج اور اسٹیبلشمنٹ پر سیاسی عمل میں مداخلت کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ تاہم فوج کی جانب سے پہلے اور اب بھی تمام الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے اور یہ موقف اپنایا جاتا رہا ہے کہ وہ اس عمل میں نیوٹرل ہے۔

Back to top button