آرمی چیف مخالف بیان پر اعتزاز کیخلاف کارروائی سے گریز کیوں؟


آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پر شریف خاندان کو کرپشن کیسز میں ریلیف فراہم کرنے کے الزام پر اعظم سواتی کی گرفتاری اور اسی الزام پر چوہدری اعتزاز احسن کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینا اس وقت عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اس معاملے پر اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چودھری اعتزاز نے جو کلمات ادا کئے وہ کسی اور پاکستانی نے کہے ہوتے تو اس کا انجام علی وزیر جیسا نہ سہی تو کم از کم اعظم سواتی جیسا ضرور ہوتا۔ اسکے علاوہ چودھری صاحب کو شاید عمران خان کی طرح ”توہین عدالت“ کے الزام سے محفوظ رہنے کے راستے بھی ڈھونڈنا پڑتے۔

ایک ہی الزام پر دو مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کے خلاف مختلف سلوک کیے جانے کے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کے خلاف حکومت نے جنرل باجوہ پر الزام لگانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ ان کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ حامد میر کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جب رانا ثنا سے سوال کیا گیا کہ اعظم سواتی نے آرمی چیف کے خلاف ٹوئیٹس کیں تو آپ نے ان کو گرفتار کر لیا لیکن اعتزاز احسن نے بھی وہی بات کی لیکن ان کو تو کچھ نہیں کہا گیا تو کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ اس کی وجہ پیپلز پارٹی نہیں بلکہ یہ ہے کہ اعتزاز احسن کا دماغی توازن درست نہیں رہا۔ وہ اب جس کا بھی کیس لڑتے ہیں اس کا نقصان کروا دیتے ہیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن نے جیو نیوز کے مالک میر شکیل الرحمان کا کیس لڑتے ہو جو موقف اختیا کیا اس سے پیچھا چھڑاتے ہوئے میر صاحب کو چھ ماہ لگ گئے تھے۔ حامد میر نے کہا کہ آج کل اعتزاز احسن اے آر وائے کے وکیل ہیں اور وکیل کسی بھی شخص یا ادارے کی وکالت کر سکتا ہے۔ اس پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ بس اب پھر اے آر وائے کی بھی خیر نہیں۔

یاد رہے کہ بیرسٹر اعتزاز احسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کے کیسز میں ان کی بریت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایما پر ہوئی ہے اور ایسا کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے بہت بڑا جرم کیا ہے۔ اس بیان پر پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے بھی سخت ردعمل دیکھنے میں آیا تھا جب اس کے قائم مقام صدر رانا فاروق سعید نے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے اعتزاز احسن کی پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چودھری اعتزاز احسن کے خلاف اس لیے کارروائی نہیں ہوسکتی ہے کہ وہ جدی پشتی اشرافیہ ہیں۔ ان کی ذہانت وفطانت بھی قابل رشک ہے۔ وکالت ویسے بھی ان کا پیشہ ہے اور اس میں انہوں نے بہت نام کمایا ہے۔اپریل 2007ء میں جب جنرل پرویز مشرف نے تب کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے برطرف کیا تو اعتزاز خود چیف جسٹس کا ”ڈرائیور“ بن کر عدلیہ بحالی کی تحریک چلانے شہر شہر جانا شروع ہو گئے۔ انہیں شاعری کا شوق بھی ہے۔ اس کی وجہ سے عدلیہ بحالی تحریک کے دنوں میں انہوں نے ایک نعرہ متعارف کروایا تھا جو ”ریاست ہو گی ماں کے جیسی“ کا عہد باندھتا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔ اسے دہرانا وقت کا زیاں ہو گا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ محض یاد دلانا ہی کافی ہے کہ چودھری اعتزاز کی چلائی تحریک کی بدولت بالآخر افتخار چودھری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر بحال ہو گئے تھے۔ ریاست مگر ”ماں جیسی“ کیا بننی تھی اسکی ماں کی ایسی تیسی پھیر دی گئی۔ بلکہ افتخار چودھری اپنے منصب کو ازخود نوٹسوں کی برسات کے ذریعے کھڑکی توڑ رش لینے کے لئے استعمال کرنا شروع ہو گئے۔ ان کی فعالیت نے میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کو مادرانہ شفقت سے تو ہرگز نہیں نوازا۔ ہماری سیاسی اشرافیہ اگرچہ اس کی وجہ سے ”چور اور لٹیرے“ نظر آنا شروع ہو گئی۔”چوروں“ کی بابت تاثر یہ بھی اجاگر ہوا کہ وہ ”جعلی ڈگریوں“ کی بدولت قانون ساز اداروں میں ”گھس“ آتے ہیں۔ یہ تاثر مضبوط تر ہو گیا تو افتخار چودھری نے ان دنوں کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ایک ”چٹھی“ لکھنے کا تقاضہ شروع کر دیا۔ اس ”چٹھی“ کے ذریعے وہ آصف زرداری کے سوئس بینکوں میں چھپائے ڈالروں کا سراغ لگانا چاہ رہے تھے۔ گیلانی صاحب پاکستان کی ”عالمی رسوائی“سے بچنے کی خاطر مطلوبہ چٹھی لکھنے کو تیار نہ ہوئے۔ بالآخر توہین عدالت کے مجرم قرار پائے۔ وزارت عظمیٰ سے انہیں فارغ کرتے ہوئے ہم سب پاکستانیوں کو بھی ”حیف ہے اس قوم پر“ کا طعنہ دیتے ہوئے معتوب ٹھہرایا گیا۔ یعنی یوسف رضا گیلانی نے جن ججوں کو بحال کیا انھوں نے ہی انہیں اقتدار سے نکال باہر کیا۔

لیکن عدالتی فعالیت کے اس موسم میں چودھری اعتزاز احسن تقریباًلاتعلق نظر آئے۔ شدت سے یہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس ہی نہ کی کہ ”عدلیہ بحالی“ کے باوجود ریاست کو ماں کی صورت کیوں نہیں مل پا رہی۔ لیکن اس معاملے پر اعتزاز احسن کی بے اعتنائی نے میرا دل توڑ دیا اور ہم دونوں کے مابین وہ گرم جوشی برقرار نہ رہ پائی جو کئی دہائیوں پر محیط تھی۔

Back to top button