ایٹمی اثاثوں پر بائیڈن کے بیان پر پاکستانی رہنما ئوں کا ردعمل

پاکستانی رہنمائوں نے ایٹمی اثاثوں سے متعلق امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان پر شدید روعمل کا اظہار کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے قائد وسابق وزیر اعظم نواز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پرامریکی صدر کے بیان پرردعمل میں کہاپاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے، پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے، اس کا ایٹمی پروگرام کسی ملک کےلیے خطرہ نہیں،آزادریاستوں کی طرح پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھاوزارتِ عظمیٰ کےمنصب پر فائزرہنے کےباعث میں جانتاہوں کہ ہمارا جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دنیاکےمحفوظ ترین نظاموں میں سےایک ہے۔
ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہاامریکی صدر کےبیان پر میرے 2 سوالات ہیں: ایک ہماری جوہری صلاحیت کے بارے میں ۔ دوسرا امریکی صدراس بلاجواز نتیجے پر کن معلومات کی بنیاد پرپہنچے، عمران خان نے سوال اٹھایا کہ امریکا خود تو دنیا بھر میں جنگوں میں ملوث رہا ہے، جس کے برعکس پاکستان نے خاص طور پر جوہری صلاحیت کے حصول کے بعد کب جارحیت کا مظاہرہ کیا؟
وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے بارے میں جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے وہ بالکل غلط ہیں۔وجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر دفاع تھا اس وقت کی میری اطلاعات کے مطابق ہمارے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی ایجنسیاں ایک نہیں درجنوں بار تصدیق کر چکی ہیں کہ ہمارا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم‘ بالکل محفوظ ہے، بین الاقوامی معیارات کے مطابق اس کی ہر طرح کی سیکیورٹی موجود ہے، لہٰذا امریکی صدر کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما فوادچوہدری نے کہا چند روز قبل سعودی عرب کے بارے میں ہرزہ سرائی اور اب پاکستان پرغیر ذمہ دارانہ بیان، یوں لگتا ہے امریکی صدر جو بائیڈن امریکی عوام میں گرتی ہوئی ساکھ سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں،جو بائیڈن پاکستان کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات فوراً واپس لیں، ہماری موجودہ لیڈرشپ کمزور ہوسکتی ہے لیکن عوام کمزورنہیں ہیں۔
پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی اور رہنما شیریں مزاری نے امریکی صدر کو اپنی ٹوئٹ میں ٹیگ کر کے کہا کہ دنیا کے لیے اصل خطرہ امریکا کا جوہری پروگرام ہے کیونکہ آپ کا اپنے ہتھیاروں پرکنٹرول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2007 میں 6 زندہ جوہری بم لاد کر بی52 طیارہ پروازبھرتا ہے جس کی گھنٹوں (کسی کو) کوئی خبرنہیں ہوتی، جوہری صلاحیت سے لیس غیرذمہ دارسپرپاور جو مداخلت سے حکومتوں کی تبدیلی کا رجحان رکھتی ہے سمندر کو فوجوں سے بھررہی ہے،قیدیوں کی وحشت کی داستانیں گوانتانا موبے، ابوغریب اور بگرام تک دراز ہیں، آپ کے تو شہری تک محفوظ نہیں جنہیں آئے روز کوئی بندوق برداربھون ڈالتا ہے، بائیڈن صاحب، کچھ شرم کیجیے!
امریکی صدر کے بیان پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے غیر ذمے دارانہ بیان ان کی امریکی عوام میں دن بدن گرتی ہوئی مقبولیت سے توجہ ہٹانے کا شوشہ ہے، پاکستان کی موجودہ حکومت آپ کی غلام ہوگی، پاکستانی عوام آپ کے غلام نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے الزام لگایاتھا کہ پاکستان دنیا کے خطر ناک ترین جوہری ممالک میں سے ایک ہے، اور یہ کہ اس کے جوہری اثاثے غیر منظم ہیں۔
ڈیموکریٹک کانگریشنل کیمپین کمیٹی سے خطاب میں صدر بائیڈن نے پاکستان کو خطرناک ترین ملک قرار دے دیا ، اور کہا کہ پاکستان دنیا کے خطرناک ترین جوہری ممالک میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے جوہری ہتھیار میں کوئی باضابطگی اور ہم آہنگی نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر کو معلوم ہے کہ انہیں کیا چاہیے لیکن ان کے ساتھ بے شمار مسائل ہیں۔ روس میں کیا ہورہا ہے اور دنیا کے خطرناک جوہری ممالک میں سے ایک پاکستان میں کیا ہورہا ہے اور امریکا کو کس طرح اس سب کو دیکھنا اور ہینڈل کرنا ہے یہ اہم ہے۔
صدر بائیڈن کا کہنا تھا بہت کچھ ہورہا ہے لیکن اس میں امریکا کے لیے مواقع بھی ہیں کہ وہ صورتحال کو تبدیل کرسکے۔
