فیروز خان نے جھوٹے الزام لگانے پر سابقہ اہلیہ کو نوٹس دے دیا

اداکار فیروز خان نے کراچی کی فیملی عدالت میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی سابق اہلیہ علیزے فاطمہ شاہ کو ان پر تشدد کے جھوٹے الزامات لگانے اور عدالت میں جھوٹے شواہد جمع کروانے پر نوٹس جاری کیا جائے۔ علیزے اور فیروز خان کے درمیان بچوں کی حوالگی اور ان کے اخراجات سے متعلق دو الگ الگ کیسز فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، جن کی یکم نومبر کو ہونے والی سماعت پر فیروز خان نے ایک نئی درخواست دائر کی۔ فیروز خان نے وکیل فائق جاگیرانی کے توسط سے سیکشن 476 اور 195 (1) کے تحت درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ علیزے فاطمہ سلطان نے عدالت میں نامکمل اور جھوٹے شواہد پیش کیے، جن میں انہوں نے سابق شوہر پر تشدد کے الزامات لگائے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ علیزے فاطمہ سلطان کو تشدد کے جھوٹے الزامات عائد کرنے اور عدالت میں نامکمل اور جھوٹے شواہد پیش کرنے پر نوٹس جاری کیا جائے، کیوں کہ انہوں نے عدالت کو گمراہ کیا۔

فیروز کے وکیل کی جانب سے دائرہ درخواست میں بتایا گیا کہ علیزے نے اپنی درخواست میں درخشاں تھانے کی ایک نامکمل درخواست بھی جمع کروائی، جس سے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تھانے میں تشدد کی شکایت رپورٹ درج کروائی تھی جب کہ اس درخواست پر تھانے کے افسر کے نہ تو دستخط ہیں، نہ ہی وصول کرنے والے کسی دوسرے اہلکار سے متعلق کوئی معلومات ہے۔ فیروز خان کی درخواست میں بتایا گیا کہ تشدد کے الزامات لگانے کی درخواست نامکمل ہے، کیوں کہ اس میں تھانے کے انچارج یا اہلکار کے وصول کرنے کے دستخط، نام یا شناختی کارڈ نمبر بھی درج نہیں۔ اداکار کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ علیزے کو انہیں بدنام کرنے، ان پر تشدد کے الزامات لگانے اور عدالت میں نامکمل درخواست جمع کروانے پر نوٹس جاری کیا جائے۔ فیروز خان کے وکیل کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست پر جج طاہر عباسی نے اداکار کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل کے لیے 5 نومبر کو طلب کرلیا۔ کیس کی اگلی سماعت پر اب اداکار کے وکیل عدالت میں ثابت کریں گے کہ علیزے نے کس طرح عدالت کو گمراہ کیا؟

خیال رہے کہ بچوں کے اخراجات کا کیس علیزے سلطان نے دائر کر رکھا ہے جب کہ بچوں کی حوالگی کا کیس فیروز خان نے دائر کر رکھا ہے۔ یکم نومبر سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران علیزے سلطان نے عدالت میں خود پر تشدد کی پولیس اور میڈیکل رپورٹس جمع کروانے سمیت تشدد کی تصاویر بھی جمع کروائی تھیں، جس کے بعد ان پر تشدد کی تصاویر وائرل ہوگئی تھیں اور شوبز شخصیات نے فیروز خان پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

فیروز نے شوبز شخصیات کی تنقید کے بعد خود پر لگنے والے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور اب انہوں نے کورٹ میں درخواست جمع کروائی کہ علیزے فاطمہ سلطان نے عدالت کو بھی غلط رپورٹس جمع کرواکر کورٹ کو گمراہ کیا۔ علیزے اور فیروز خان کے درمیان ستمبر کے آغاز میں طلاق ہوگئی تھی، دونوں نے 21 ستمبر کو سوشل میڈیا پوسٹس میں بتایا تھا کہ ان کے درمیان 3 ستمبر کو طلاق ہوگئی۔ دونوں نے 2018 میں شادی کی تھی اور ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش 2019 جب کہ رواں برس کے آغاز میں جوڑے کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔ دونوں کے درمیان گزشتہ دو سال سے اختلافات کی خبریں تھیں مگر پھر ان کے ہاں رواں برس دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد خیال کیا گیا کہ ان کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے لیکن پھر ستمبر میں دونوں نے طلاق کی تصدیق کی۔

Back to top button