کیا راہول گاندھی کا مارچ کانگرس کو زندہ کر پائے گا؟

بھارتی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی آج کل اپنی جماعت کانگریس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے قریہ قریہ گلی گلی ملک کے جنوبی سرے سے شمالی سرے تک پیدل مارچ کر رہے ہیں۔ بحر ہند کے ساحل پر انتہائی جنوبی پوائنٹ کنیا کماری سے یہ سفر شروع کرکے وہ حال ہی میں ایک سو دن میں تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے نئی دہلی پہنچے۔ اگلے مرحلے میں اب وہ اس ماہ کے آخر تک جموں و کشمیرکے دارالحکومت سرینگر میں اس سفر کا اختتام کریں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ 2014ء سے اب تک دو پارلیمانی انتخابات اور 40 کے قریب مختلف ریاستی انتخابات میں کراری شکست کے بعد ان کو لگا ہے کہ بھارت کو ایک بار اور دریافت کرنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ملک میں ایسی کیا تبدیلی آئی ہے، کہ ان کی کانگریس پارٹی کے انتخابی نشان ہاتھ کا کوئی ہاتھ پکڑے والا نہیں؟
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کسے معلوم تھا ستر سالوں کے بعد اس خطے کی پہلی سیاسی جماعت کانگریس کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ اس کے لیڈران کو بھارت کو ایک بار پھر دریافت کرنا پڑے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی کی ”بھارت جوڑو یاترا” انکی کانگرس پارٹی کو از سر نو منظم کرنے کے علاوہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل بیٹھنے کی ایک کاوش ہے۔ اس کے علاوہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سخت گیر ہندوتوا نظریے کے مخالفین کو منظم کرکے اس کے خلاف ایک نظریاتی محاذ بنانے کی تگ و دو بھی ہے۔
اپنے اس سفر میں راہول ہر روز نہ صرف عام لوگو ں سے بلکہ کانگریس پارٹی کے ان سابق کارکنان اور خیرخواہوں سے بھی مل رہے ہیں، جو پارٹی سے امید کھو چکے تھے۔ پارٹی کی پے درے پے ہار سے یہ سبھی ناامید ہو چکے تھے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ ایند اینالیسز ونگ یعنی را کے سابق سربراہ امر جیت سنگھ دلت کے علاوہ جنوب بھارت کی فلم اداکار کمل ہاسن سے لیکر شہری حقوق کے کارکن یوگیندر یادو تک نے ان کے مارچ میں شرکت کی۔ جب راہول نے یہ یاترا شروع کی تو ان کے ناقدین نے اسے ایک اور غیر سنجیدہ پیش قدمی قرار دینے کی کوشش کی۔ اور جب اس کو عوامی حمایت حاصل ہونے لگی تو کہا جانے لگا کہ ابھی 2024ء کے انتخابات دور ہیں، تب تک اس کا اثر زائل ہو جائے گا۔
اس دوران راہول گاندھی کی بدلی ہوئی شکل و صورت پر بھی آوازیں کسی گئیں۔ ان کی بڑی ہوئی داڑھی مونچھیں کی وجہ سے ان کو عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ اس یاترا کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد کانگریس نے نظریاتی طور پر بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کیا۔ اس سے قبل خاص طور پر راہول گاندھی بی جے پی کے سخت گیر ہندو توا کے مقابلے نرم ہندو توا کے علمبردار بن گئے تھے۔ اس لیے ان کو بی جے پی کی ”بی” ٹیم سے بھی تشبہہ دی جاتی تھی۔ سوال کیے جاتے تھے کہ اگر عوام کے پاس بغیر ملاوٹ کے ہندو توا موجود ہے، اور اگر ان کو اسی پر ووٹ کرنا ہے، تو وہ کیوں راہول کی ملاوٹ والے ہندو توا کی طرف جائیں گے۔ خیر لگتا ہے کہ کانگریس کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ نظریاتی طور پر بی جے پی اور اس کے لیڈر نریندر مودی کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔
آج کل راہول گاندھی پولرائزیشن کی سیاست پر سیدھا حملہ کرتے ہیں اور یہ نعرہ دیتے ہیں کہ وہ کثیر الجہتی، رنگا رنگ تہذیب اور مختلف مذاہب والے اس ملک کو متحد کرنے کے لیے نکلے ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران کا کہنا ہے کہ راہول تو بھارت کو متحد کرنے نکلے ہیں، مگر مودی تو پوری دنیا کو بھارت کی لیڈرشپ کے تحت متحدکرنے نکلے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اس سال بھارت گروپ 20 ممالک یعنی جی 20 کی صدارت کر رہا ہے اور اسی سال ستمبر میں نئی دہلی میں اس کے رہنماؤں کے چوٹی کے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس پر اتنا طوفان بدتمیزی کھڑا کیا گیا ہے کہ جیسے اقوام عالم میں مودی نے بھارت کو کوئی بڑی سیٹ دلوائی ہے۔ اب ان سے کون کہے کی جی 20 کی سربراہی ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے اور اس گروپ کا کوئی سیکرٹریٹ بھی کہیں نہیں ہے۔
اس سال یہ صدارت برازیل اور پھر اگلے سال جنوبی افریقہ کے پاس جائے گی۔ اس سے قبل اس گروپ میں شامل ہر کسی ملک کے پاس یہ صدارت رہی ہے۔ نہ صرف جی20 کی سربراہی بلکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور اس کو درشن کے لیے اگلے سال جنوری میں کھولنا، مودی کی ذاتی کامیابیاں بتائی جا رہی ہیں۔ لہازا راہول گاندھی کے لیے سب سے بڑا چلینچ اس بیانیے کے اثر کو کسی نہ کسی طرح زائل کرنا ہوگا۔ اس دوران سب سے اہم بات یہ ہو گئی ہے کہ رام مندر کے پجاری اور اس کے دیگر ذمہ داروں نے بھی راہول گاندھی کی یاترا کی حمایت کر دی ہے، جس سے لگتا ہے کہ ان پیدل مارچ نے کہیں نہ کہیں یا تو ہندو توا کے نظریے میں دراڑ ڈال دی ہے، یا بی جے پی کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن کیا راہول کی یہ یاترا انتخابی طور پر کانگریس کو فائدہ پہنچائے گی، یہ وقت ہی بتائے گا۔
