بھارتی فلم ’’مشن مجنوں‘‘ پر پاکستانی کیوں سیخ پا؟

وقار ذکا کرپٹو کرنسی سکینڈل میں کیوں پھنس گئے؟

معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ وقار ذکا ایف آئی اے کی جانب سے اپنے خلاف دائر کردہ کرپٹو کرنسی اسکینڈل میں میں بری طرح پھنستے نظر آتے ہیں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ رمیش کمار کی عدالت نے پاکستان الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016، تعزیرات پاکستان، انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2020 اور فارن ایکسچینج ریگیولیشن ایکٹ 1947 کے تحت قابل سزا جرم کے مرتکب ہونے پر وقار ذکا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ وقار ذکا پر الزام ہے کہ ان کے اکائونٹ میں 8 کروڑ 60 لاکھ روپے بیرونی ذرائع سے منتقل کیے گئے۔ اسکے علاوہ انکے اکاؤنٹ سے 8 کروڑ 70 لاکھ روپے کی رقم نکلوائی بھی گئی۔ لیکن وقار زکا کے وکیل نے عدالت میں درخواست جمع کراتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ان کے مؤکل پیشہ وارانہ کام کے سلسلے میں امریکا میں قیام پزیر ہیں لہٰذا ان کو پیش ہونے سے استثنیٰ دے دیا جائے۔ انہوں نے ثبوت کے طور پر واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے تصدیق شدہ ایک ڈاکومنٹ بھی جمع کروایا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وقار زکا اس وقت امریکہ میں ہیں۔ جج نے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست پر حکم دیئے بغیر وقار ذکا کے وکیل سے کہا کہ کیونکہ ان کے مؤکل نے عدالت کے سامنے سرنڈر نہیں کیا اور موجودہ کیس میں ضمانت کی درخواست بھی نہیں دی اس لئے انہیں پیش ہونا ہوگا، جج نے کیس کی سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ عدالت نے دسمبر کے اواخر میں 8 کروڑ 60 لاکھ روپے کرپٹو کرنسی سکینڈل میں وقار ذکا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر وقار ذکا کے خلاف انکوائری شروع کی گئی تھی۔ گزشتہ تین برس کے دوران ان کے بینک اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 61 لاکھ روپے آئے۔ وقار کی بینک سٹیٹمنٹ میں انکشاف ہوا کہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں پیسے بیرونی ترسیلات اور چیکوں کے ذریعے آئے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ باہر سے آنے والی رقم خاندان کے مختلف اراکین کے اکاؤنٹس میں انٹرنل ٹرانسفر کے ذریعے نکالی جاتی تھی، ایف آئی اے نے بتایا کہ وقار ذکا سوشل میڈیا کو فلاحی مقاصد اور انٹرنیشنل فنڈنگ کے لیے استعمال کرتے تھے۔

ایف آئی اے نے الزام عائد کیا کہ پبلک ڈیٹا بیس میں درجنوں خبریں، بلاگز اور ویڈیوز ایسی پائی گئیں جن سے وقار کے کرپٹو کرنسی سکینڈل میں ملوث ہونے کا ثبوت ملتا ہے، ایف آئی اے نے بتایا کہ بینک اور اداروں کے ریکارڈز کی نقول اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ اخذ کیا گیا کہ ملزم بینکوں کے قواعد و ضوابط اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کی تجارت اور فنڈز کی منتقلی اور منافع حاصل کرنے کی غرض سے ورچوئل اثاثوں کیلئے سہولت کاری میں فراڈ اور بددیانتی کرتے پایا گیا۔ انکوائری شروع کرنے کے بعد ملزم کو طلب کیا گیا تو اس نے ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کر دیا، اس کے علاوہ ملزم سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف قابل اعتراض مواد نشر کرنے اور بیانات دینے، سرکاری عہدیداروں کو دھمکانے اور عوام کو ریاست کے خلاف اُکساتے ہوئے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔

یاد ریے کہ وقار ذکا نے اپنے کیریئر کا آغاز نجی چینل انڈس میوزک سے کیا تھا اور سب سے پہلے ایک وی جے کی حیثیت سے سامنے آئے تھے۔ بعد میں انھیں دیسی کڑیاں اور دی کرکٹ چیلنج جیسے شوز سے خاصی پذیرائی ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوشل میڈیا سینسیشن بن گئے۔ سوشل میڈیا پر پذایرائی ملنے کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا پر ایسے پرائیوٹ گروپس بنائے جہاں وہ گذشتہ چند سال سے لوگوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کے طریقے بتاتے ہیں اور انھیں اس شعبے کی جانب آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ اپنے پبلک اکاؤنٹس پر روزانہ کرپٹو سے ہونے والے مالی فائدوں کا تذکرہ کرتے ہیں اور لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ آپ بھی میرا گروپ جوائن کریں اور پیسے کمائیں۔ انھی گروپس میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ ان گروپس میں شمولیت، فیس دیے بغیر ممکن نہیں اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ وقار ذکا کا دعویٰ ہے کہ وہ گروپ کے ارکان کو کرپٹو کے متعلق معلومات اور اس کرنسی کے ذریعے پیسے کمانے کے گُر سکھاتے ہیں۔

فیس بک پر وقار ذکا کے مرکزی گروپ میں انٹری فیس 10 ڈالر ہے اور اس کے تقریباً 50 ہزار ارکان ہیں۔ یہ وہ گروپ ہے جس میں کرپٹو کے متعلق بنیادی باتیں شئیر کی جاتی ہیں اور صارفین کو کرپٹو ٹریننگ کورس والے گروپ میں داخلے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ کرپٹو ٹریننگ کورس کے گروپ میں انٹری فیس 150 ڈالرز ہے۔ گروپ میں شامل شخص کا کہنا تھا کہ ان گروپس میں کرپٹو کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنے افراد کی مثالیں موجود ہیں تاہم لوگوں کو نقصان بھی ہوتا ہے اور چند دن قبل خود وقار ذکا ایک ویڈیو میں بتا رہے تھے کہ کیسے انھیں تقریباً چار لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ رقم جلد واپس لائیں گے۔ اگرچہ وقار ذکا اکثر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے کرپٹو کرنسی میں اپنی مہارت کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں تاہم ان کی مہارت بارے اب تک کوئی تصدیق شدہ معلومات موجود نہیں ہیں۔

بھارتی فلم ’’مشن مجنوں‘‘ میں پاکستانی مسلمانوں کو فرسودہ لباس میں ملبوس، آنکھوں میں سرمہ لگائے اور سر پر ٹوپی جمائے ہوئے دکھانے پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین سخت ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔ فلم میں مسلمانوں کو دقیانوسی اور روایتی انداز میں پیش کرنے پر ٹوئٹر صارفین نے کڑی تنقید اور تبصرے کیے ہیں۔ حال ہی میں نیٹ فلکس انڈیا کی جانب سے ’مشن مجنوں‘ نامی بھارتی فلم کا ٹریلر جاری کیا گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی، اداکار سدھارت ملہوترا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے ٹریلر شیئر کیا جس کے جواب میں سوشل میڈیا پر میمز کا انبار لگ گیا۔ فلم میں سدھارت ملہوترا بھارتی جاسوس بن کر پاکستان جاتا ہے۔ اس دوران وہ جس سے بھی ملتا ہے ’آداب‘ کا لفط استعمال کرتا ہے۔ اسے سر پر ٹوپی ٹکائے اور آنکھوں میں سرمہ لگائے دکھایا جاتا ہے۔ چنانچہ فلم میں مسلمانوں کو دقیانوسی انداز میں پیش کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے سدھارت ملہوترا پر کڑی تنقید کی ہے۔ معروف ٹی وی میزبان رابعہ انعم نے فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فضول فلمیں بنانا بند کرو، جعلی آداب، ٹوپی، سرمے والی آنکھیں اور حماقت بھری کہانی۔۔۔ اب بس کر دو بس۔۔رافع نامی صارف نے بالی وڈ فلموں میں پاکستانیوں کے خدوخال اور کردار کے حوالے سے نمائندگی کرنے پر ایک تصویر شیئر کی جس میں ٹوپی، سُرما اور رومال موجود ہے۔ عبدالاحد جاوید نے لکھا کہ میرا ایک سوال ہے، کیا واقعی آپ سمجھتے ہیں کہ ایک ایجنٹ پاکستان میں آداب بولتا ہو گا تاکہ فوری طور پر پکڑا جائے؟ ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ بالی وڈ کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے اور اب تک انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ پاکستانی مسلمان جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو آداب نہیں کہتے، وہ السلام علیکم کہتے ہیں۔ انہوں نے بھارتیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کرتے ہوئے کم از کم عقل کا استعمال تو کرلیا کرو!۔ انابا نے لکھا کہ فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے شخص کا ایک ہی کارنامہ تھا اور وہ یہ ہے کہ کپور اور سنز میں پاکستانی اداکار فواد خان اسکا بھائی بنا تھا۔ بنٹی نامی صارف نے لکھا کہ ’ارے جناب یہ سدھارت میاں تو بہت بُری طرح ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ مشن مجنوں کی کاسٹ میں راشمیکا مندانا، پرمیت سیٹھی، بھومیکا چاولا، شاریب ہاشمی اور ارجن باجوہ بھی شامل ہیں، یہ فلم نیٹ فلکس پر 20 جنوری کو ریلیز کی جائے گی۔ فلم کے ٹریلر میں اداکار سدھارت ملہوترا بھارتی جاسوس کا کردار ادا کر رہے ہیں جسے پاکستان کے جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کا کام سونپا جاتا ہے، ٹریلر میں پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ فلم کے ٹریلر کو 27 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا ہے، اس پر چار ہزار سے زیادہ لائیکس ہیں جبکہ ڈھائی ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ فلم میں سب سے زیادہ جس بات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ ’سچے واقعات پر مبنی‘ ہونے کا دعویٰ ہے۔

فلم میکر اور صحافی زین خان نے سدھارتھ ملہوترا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم دونوں جانتے ہیں کہ یہ سچے واقعات سے انسپائرڈ نہیں بلکہ افسانہ ہیں۔ شائستہ زیدی نے لکھا کہ ’پاکستان بارے اس طرح کی بیکار فلمیں بنانا بند کریں۔ شہریار رضوان نے لکھا کہ یہ کتنا مضحکہ خیز اور بچگانہ عمل ہے، انڈیا کا جاسوس پاکستان کی جوہری تنصیبات میں گھس جاتا ہے، یہ کونسے سچے واقعات سے انسپائرڈ فلم ہے۔ نیٹ فلیکس پلیز لوگوں کو گمراہ کرنا بند کرو۔ اوریجنل آئیڈیاز لے کر آئو۔ یہ 2023 ہے۔  ایک اور صارف عزیر سعید نے لکھا کہ ’پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے انڈین جنون قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسے ہیں، طاقت اور ہمت ہے تو آپ ان کا استعمال ایسا ماحول پیدا کرنے میں کریں جو امن، ہم آہنگی پیدا کرے اور ہمارے رہنماؤں کو دیر پا دوستی کے لیے راستہ ہموار کرنے پر مجبور کرے۔

مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی اور معروف لکھاری فاطمہ بھٹو نے بھی انڈین فلم انڈسٹری پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ انڈین شوبز انڈسٹری کے پاس پاکستان سے نفرت کے علاوہ بیچنے کے لیے کچھ نہیں۔ عیسیٰ ملک نامی صارف نے فلم کے ٹریلر میں دکھائے گئے پاکستانی نیوکلیئر پلانٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں حیران ہوں کہ بم نے ٹوپی نہیں پہنی، کاجل نہیں لگایا اور اس نیوکلیئر پلانٹ نے بھی پھٹتے وقت آداب نہیں کہا۔ مہر حسین نامی صارف نے لکھا کہ ہمارے پڑوسیوں کو کون بتائے کہ اب ہمارے ہاں لڑکوں کے نام ایسے نہیں ہوتے جیسے کہ وہ اپنی فلموں میں رکھتے ہیں۔

Back to top button