’’سیٹ ڈایزائنر سے اداکاری میں کمال حاصل کرنیوالے طارق جمیل‘‘

پاکستان ٹیلی ویژن کو ایک سے بڑھ کر ایک ہٹ ڈرامے دینے والے معروف اداکار طارق جمیل طارق صاحب نوشہرہ (کے پی ) میں 1951ء کو پیدا ہوئے تھے، وہ پشتو روانی سے بولتے مگر ان کا تعلق ہندکو بولنے والے پراچہ خاندان سے تھا، وہ پنجابی اور اُردو بھی بہت سلیس اور رواں بولتے تھے، طارق صاحب نے ابتدائی تعلیم نوشہرہ کینٹ اور مسلم ماڈل سکول لاہور سے حاصل کی، گزشتہ کئی برسوں سے وہ کراچی میں ہی مقیم تھے۔
معروف اداکار کے اپنے وقت میں پاکستان ٹیلی وژن کے بلاک بسٹر سیریلز آنچ ،جنجال پورہ اور راہیں سے کون واقف نہیں؟ پی ٹی وی کی تاریخ میں ’راہیں‘ سب زیادہ ریونیو کمانے والا ڈرامہ سیریل قرار پایا، 1997ء میں منشا یاد کا پنجابی ناول ’ٹاواں ٹاواں تارا‘ اشاعت پذیر ہوا تو اس ناول کو ادبی حلقوں میں بہت پزیرائی ملی۔
اس وقت پی ٹی وی کے چیئرمین پرویز رشید کی خواہش پر منشا یاد نے اس ناول کو ’راہیں‘ ڈرامہ سیریل میں ڈھالا جب کہ منشا یاد کی خواہش پر لاہور سینٹر کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر طارق جمیل نے اسے ڈرامائی شکل دی، اس ڈرامے کو 1999ء میں پی ٹی وی کا نیشنل ایوارڈ بھی ملا، راہیں میں جاذبہ سلطان، سمیرا یوسف، صائمہ سلیم، غیوراختر، مسعود اختر، حبیب، توقیر ناصر اور سلیم شیخ جیسے بڑے اداکاروں نے کام کیا۔
طارق جمیل نے اپنے کیریئر کا آغاز پی ٹی وی کراچی سینٹر سے بطور سیٹ ڈیزائنر کیا۔ وہ این سی اے لاہور سے فائن آرٹس میں گریجویٹ تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انہوں نے اردو میں ایم اے بھی کر رکھا تھا۔ پی ٹی وی میں چند سال گزارنے کے بعد انھوں نے ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔
کچھ عرصے بعد انہوں نے پی ٹی وی کو دوبارہ بطور اسسٹنٹ پروڈیو سر جوائن کیا۔ 70 کی دہائی میں شوکت صدیقی کے چھپنے والے شہرہ آفاق ناول ’جانگلوس‘ کی پی ٹی وی نے 1989ء میں ڈرامائی تشکیل کی تو اس کے ڈائریکٹر کاظم پاشا تھے جب کہ طارق جمیل نے انہیں اسسٹ کیا۔
1993ء میں ’آنچ‘ طارق جمیل کا پہلا ڈرامہ سیریل تھا جس کی انہوں نے ہدایات دیں۔ ’آنچ‘ ناہید سلطانہ اختر نے تحریر کیا۔ انہوں نے پہلے سے شائع شدہ اپنے ہی ناول ’بہتے پانی پر مکان‘ کی ڈرامائی تشکیل کی۔ یہ سیریل کراچی سینٹر کی پیش کش تھی۔ اس ڈرامے میں شفیع محمد شاہ اور شگفتہ اعجاز نے مرکزی کردار ادا کیے۔
بعد ازاں طارق جمیل لاہور سینٹر آگئے جہاں 1997ء میں انہوں نے ایک اور منفرد و مقبول کام ’جنجال پورہ‘ کے نام سے کیا۔ اس ڈرامہ سیریل میں پہلی دفعہ کُھل کر خواجہ سراؤں کی زندگی، ان کی خوشی غمی اور رہن سہن کو دکھایا گیا، یہ تحریر شاہد محمو د ندیم کی تھی جبکہ کاسٹ میں سویرا ندیم اور مدیحہ گوہر کے علاوہ محمود اسلم، نیئر اعجاز اور نسیم وکی نے بالترتیب ریما، گرو چھیمی اور چنبیلی کے نام سے خواجہ سرا کے کردار نبھائے۔
موجودہ صدی کے آ غاز میں انہوں نے ڈاکٹر طارق عزیز کا تحریر کردہ ڈرامہ سیریل ’دوپٹہ‘ ڈائریکٹ کیا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں قوی خان، نایاب، قندیل، فرزین، حبیب اور محمود اسلم جیسے فنکار شامل تھے۔
2003ء میں طارق صاحب نے منشا یاد کی سیریل ’پورے چاند کی رات‘ پر کام شروع کیا، ڈرامے کا نام رکھنے کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ ہمیشہ مثبت عنوان ہونا چاہئے، ادب کا خاص مطالعہ کر چُکے تھے، ان کی گفت گو میں ٹھہراؤ، گہرائی، تخلیقی پن اور متانت تھی۔ ان کی پہلی بیوی وفات پا گئیں تو انہوں نے دوسری شادی کی (گو ان کے ہاں کوئی اولاد نرینہ نہ ہوئی)۔
2005 ء میں جیو نے اپنے انٹرٹینمنٹ چینل کے لیے پی ٹی وی سے ایوب خاور اور طارق جمیل جیسے ڈائریکٹرز کی خدمات کئی گُنا معاوضے پر حاصل کر لیں، ایوب خاور صاحب کو ریٹائرمنٹ کے فوائد مل گئے لیکن سروس پوری نہ ہونے کی وجہ سے طارق صاحب کو کچھ خاص فائدہ نہ ہوا۔ جیو میں طارق صاحب نے پانچ چھ سال گزارے مگر کوئی خاص کام نہ کیا۔ واقفانِ حال کا کہنا تھا کہ جیو کا مقصد کام کروانا نہیں تھا بل کہ پی ٹی وی سے کام کے بندوں کو نکالنا تھا جس میں وہ کامیاب رہا، واقعی 2005ء کے بعد پی ٹی وی کا ڈراما تاریخ ہوگیا۔
جیو میں انہوں نے چند ڈرامے کیے جن میں حمید کاشمیری کا لکھا ہوا ’ہفت آسمان‘ ڈاکٹر انور سجاد کا ’تلاشِ وجود‘ اور 2008ء کے الیکشن کے موقع پر عبدالقادر جونیجو کا ’گھوڑا اور گاڑی‘ شامل ہیں۔ ان ڈراموں میں معاون اور پروڈیوسر کے طور پر علی ہاشمی نے کام کیا۔ 2005ء میں وہ جیو لاہور میں بیٹھتے تھے۔
جیو چھوڑنے کے بعد طارق صاحب نے اداکاری شروع کر دی وہ عموماً باپ کا کردار ہی ادا کرتے کیوں کہ جتنی تعداد میں ڈرامے بن رہے ہیں اس حساب سے کئی ایسے کرداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کے مشہور ڈراموں میں ’دلِ مومن‘، ’سات پردوں میں‘، ’پیا نام کا دیا‘ اور ’اڑان‘ شامل ہیں۔
طارق صاحب ایک سال قبل لاہور اپنے گھر منتقل ہوئے تھے، 8 اپریل کی شام ایک ورسٹائل تخلیق کار طبیعت کی معمولی خرابی کے بعد تقریباً 72 سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا، لاہور میں ہی طارق جمیل صاحب کو 9 اپریل کی سہہ پہر سپردِ خاک کر دیا گیا، یقیناً طارق جمیل اپنے نام سے زیادہ اپنے کام سے یاد رکھے جائیں گے۔

Back to top button