’’درجنوں بیماریوں کا واحد علاج دار چینی‘‘

دار چینی کو بطور گرم مصالحہ استعمال کیا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ اس چیز سے واقف ہیں کہ دار چینی بہت سی بیماریوں کا واحد علاج ہے۔دار چینی کو ایک مخصوص درخت کی چھال سے حاصل کیا جاتا ہے، یہ درخت سب سے زیادہ ایشیائی اور افریقی ممالک میں پایا جاتا ہے جن میں پاکستان اور سری لنکا وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔

دار چینی کو سُپر فوڈ کا درجہ بھی حاصل ہے کیوںکہ اس میں مصالحوں کی نسبت زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو کہ انسانی مجموعی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔غذائی ماہرین کے مطابق ہمارے جسم میں مضر اجزاء وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جن کے خلاف جدوجہد کرنے کیلئے ہمیں اینٹی آکسیڈنٹس کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اینٹی اکسیڈینٹس جیسے کہ پولی فینولز (Polyphenols) دراصل ایسے مالکیولز کو پیدا ہونے سے روکتے ہیں جو ہمارے جسم کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق 26 مسالوں میں جب اینٹی آکسیڈنٹس کی موجودگی کا مقابلہ ہوا تو دار چینی واضح طور پر فاتح قرار پائی، یہاں تک کہ اس نے سپر فوڈ کہلائے جانے والی ادرک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔امریکن ڈیپارٹمنٹ آف ایگری کلچر کے مطابق اڑھائی گرام دار چینی میں ساڑھے چھ گرام کیلوریز، 2 گرام کاربو ہائیڈریٹس، آئرن، کیلشیم اور میگنیشیم بھی پایاجاتا ہے۔

اس کے علاوہ دار چینی میں فاسفورس، پوٹاشیم، وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن ’کے‘ کے ساتھ ساتھ اس میں کولین، ایلفا کیروٹین، بیٹا کیروٹین، لائیکو پین، اور لیوٹین جیسے اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔اس کےعلاوہ دار چینی فائبر سے بھرپوربھی ہوتی ہے، جس کے ہر 100 گرام میں تقریباً 53 اعشاریہ 3 گرام فائبر ہوتا ہے۔

دار چینی کو ہائی بلڈ پریشر کا مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے۔ طبی تحقیقات کے مطابق بلڈ پریشر میں کمی لانے کے لیے دار چینی کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیوں کہ اس میں موجود میگنیشیم جیسے قدرتی اور مؤثر اجزاء بلڈ پریشر میں کمی لانے کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کا شکار مریض اس سے مرض سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہر روز آدھا چمچ دار چینی استعمال کر سکتے ہیں۔

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مریض شہد اور دارچینی ملا کر بھی استعمال کر سکتے ہیں، شہد کا ایک چھوٹا چمچ لے کر اس میں چھوٹا چمچ دارچینی پاؤڈر ملادیں اور اس مرکب کو آدھے گلاس پانی میں گھول کر پی جائیں، اس سے آپ کا کولیسٹرول لیول کم رہے گا۔دار چینی کو اگر متوازن غذاؤں کے ساتھ استعمال کیا جائے تو شوگر لیول کو نارمل رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے شوگر جیسے مرض کے خطرات میں کمی آتی ہے ور اگر شوگر کا مرض لاحق ہو چکا ہو تو دار چینی کے استعمال سے اس مرض کی علامات شدت نہیں اختیار کرتیں۔

دار چینی کو کھانے کی اشیا پر مصالحے کے طور پر یا سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، دار چینی کے سپلیمنٹس دن بھر تقسیم شدہ خوراکوں میں لیے جا سکتے ہیں یا کھانے کے ساتھ بھی اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔غذا میں دار چینی کی کھپت کو بڑھانے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ اس مصالحے کو اپنے پسندیدہ کھانوں، نمکینوں اور مشروبات میں شامل کریں، ذائقہ بڑھانے کے لیے دار چینی کو دلیہ، اسموتھیز، چیا پڈنگ اور سوپ جیسے پکوانوں میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تین ماہ تک روزانہ ایک سے دو گرام دار چینی کی مقدار محفوظ ہے۔اسے چھ ہفتوں تک تین سے چھ گرام کی مقدار میں بھی محفوظ پایا گیا ہے۔اگر آپ کسی خاص طبی صورتحال میں مدد کے لیے دار چینی کے سپلیمنٹس لے رہے ہیں تو مناسب اور محفوظ خوراک کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے اپنے ہیلتھ کیئر فراہم کنندہ سے بات کرنا ضروری ہے۔

دار چینی کے استعمال کے عام طور پر صحت پر فوائد ہی حاصل ہوتے ہیں اور بہت کم ہی اس کے مضر اثرات سامنے آئے ہیں جن پر بات کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔طبی ماہرین کے مطابق دار چینی کے زیادہ استعمال سے سر درد، سینے اور معدے میں جلن کا احساس،اپھارہ، پیٹ میں تکلیف، متلی، اسہال وغیرہ کی شکایت سامنے آ سکتی ہے۔

اگر آپ کو کسی بھی درج بالا اثرات کا سامنا ہے تو  ان علامات کے ظاہر ہوتے ہی دار چینی کا استعمال، دار چینی کے سپلیمنٹ  لینا بند کر دیں اور معالج سے رابطہ کریں۔

Back to top button