25 سال کی خاموشی کے بعد نامورامریکی اداکارہ نے سب بتا دیا

امریکہ کی نامور اداکارہ اینابیلا شیورہ نے ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف زیر سماعت مقدمے میں بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پروڈیوسر نے 25 سال قبل ان کے گھر میں ان کا ریپ کیا۔
اینابیلا شیورہ نے عدالت کے سامنے ہاروی وائنسٹن پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ زبردستی ان کے فلیٹ میں گھس گئے تھے اور انہوں نے ان پر حملہ بھی کیا۔اداکارہ کے مطابق میں کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح خود کو ہاروی سے دور کروں، میں نے ایسا کرنے کے لیے انہیں مکے اور لاتیں بھی ماریں۔اپنے ساتھ ہوئے ناخوشگوار واقعے کو یاد کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ 1993 سے 1994 کے دوران میری ملاقات ہولی وڈ پروڈیوسر سے ہوئی، ہم ملتے اور ساتھ رات کا کھانا بھی کھاتے تھے، ایک رات ہاروی وائنسٹن نے مجھے میرے فلیٹ تک لفٹ دینے کی پیشکش کی جسے میں نے قبول کرلیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جیسے ہی میں اپنے گھر میں داخل ہوئی تو تھوڑی دیر میں ہی محسوس ہوا کہ دروازے پر کوئی ہے، جب دروازہ کھولا تو سامنے ہاروی وائنسٹن کھڑے تھے جنہوں نے مجھے دھکا دیا، زبردستی کمرے میں لے کرگئے اور بعدازاں مجھے جنسی ہراساں کیا۔اینابیلا شیورہ کے مطابق وہ اس دوران خود کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں لیکن ہاروی وائنسٹن نے انہیں ریپ کا نشانہ بنایا۔
نیویارک کی عدالت میں زیر سماعت کیس ہاروی وائنسٹن کے لیے انتہائی اہم ہے—فوٹو: رائٹرزاینابیلا شیورہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اس وقت اس حد تک خوفزدہ ہوچکی تھیں کہ ان کا پورا جسم کانپ رہا تھا اور وہ بہت زیادہ تکلیف میں مبتلا تھیں۔اداکارہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جس دن انہیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا اس کے چند روز بعد ہی ان کا پروڈیوسر سے دوبارہ سامنا ہوا اور اس وقت ہاروی وائنسٹن کا کہنا تھا کہ یہ راز صرف میرے اور ان کے درمیان ہی رہے گا۔
اینابیلا شیورہ کے مطابق اس واقعے کے بعد سے ہاروی وائنسٹن انہیں جنسی پراساں کرتے رہے، 1997 میں کانز فیسٹیول کے دوران بھی ہاروی وائنسٹن نے ہوٹل میں ان کے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم وہ اتنی خوفزدہ تھیں کہ کمرے سے باہر ہی نہیں نکلیں۔دوسری جانب 67 سالہ ہاروی وائنسٹن نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے اداکارہ سے سوال کیا کہ انہوں نے اس وقت پولیس کو یہ سب کیوں نہیں بتایا جس پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ بےحد خوفزدہ تھیں۔

ہاروی وائنسٹن پر اکتوبر 2017 میں پہلی بار خواتین نے الزام عائد کیا—فائل فوٹو: سی بی سیاداکارہ کے مطابق ‘میں ہاروی وائنسٹن کو جانتی تھی، اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگر کسی کا ریپ ہوجائے تو اسے کھل کر بات کرنی چاہیے، میں یہی سمجھتی تھی کہ ریپ ہونے کی صورت میں خاموش رہنا واحد حل ہے’۔اینابیلا شیورہ نے کہا کہہ اس واقعے نے انہیں اس حد تک صدمہ پہنچایا ہے کہ وہ شراب نوشی کی عادی ہوگئیں جبکہ خود کو نقصان پہنچانا بھی شروع کردیا۔

اداکارہ اینابیلا شیورہ نے بھی عدالت میں ہاروی وائنسٹن کے خلاف بیان ریکارڈ کروادیا — فوٹو:  سی این اینخیال رہے کہ نیویارک کی عدالت میں ہاروی وائنسٹن کے خلاف 6 جنوری 2020 سے 2 خواتین کے ’ریپ‘ سے متعلق اہم کیس زیرسماعت ہے اور اگر ان پر دونوں الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں 28 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
مذکورہ پروڈیوسر پر الزام تھا کہ انہوں نے 2006 میں ایک خاتون کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی جبکہ 2013 میں نیویارک کے ایک ہوٹل میں خاتون کا ریپ کیا۔البتہ ہاروی وائنسٹن کی ٹیم نے ان دونوں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ پروڈیوسر نے خواتین کے ساتھ زبردستی نہیں کی، وہ اپنی مرضی سے ان کے ساتھ جنسی تعلق میں رہیں۔

ہاروی وائنسٹن پر الزام لگانے والی خواتین میں معروف اداکارائیں بھی شامل ہیں—فوٹو: یو ایس ٹوڈےیاد رہے کہ ہاروی وائنسٹن پر کم سے کم 100 خواتین و اداکاراؤں نے ریپ، جنسی استحصال اور جنسی ہراسانی کے الزامات لگا رکھے ہیں جب کہ ان کے خلاف درجنوں خواتین نے سول مقدمات بھی دائر کر رکھے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button