اداکارہ مریم انصاری پر غیرمسلم ہونے کی تہمت کیوں لگائی گئی؟

اداکارہ مریم انصاری نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر حمل کی تصاویر شیئر کرنا ان کیلئے درد سر بن گیا تھا، سوشل میڈیا صارفین نے مجھے غیرمسلم کہنا شروع کر دیا تھا، جس سے شدید ڈپریشن کا شکار رہی۔اداکارہ نے چند ماہ قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کے ذریعے اپنے مداحوں کو اُمید سے ہونے کی خبر دی تھی اور ساتھ ہی بے بی بمپ کے ساتھ تصاویر پوسٹ کی تھیں، مریم انصاری نے فروری 2021 میں سابق کرکٹر معین خان کے بیٹے اویس خان سے شادی کی، دونوں نے فروری 2020 میں سادگی سے نکاح کیا تھا۔بعدازاں مریم انصاری نے 6 جولائی 2023 کو انسٹاگرام پوسٹ پر اعلان کیا تھا کہ ان کے ہاں پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے، اداکارہ کے مطابق ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش 4 جولائی کو ہوئی اور انہوں نے بیٹی کا نام ’’امایا خان‘‘رکھا ہے، انہوں نے شوہر اویس خان کے ہمراہ رومانوی تصاویر بھی شیئر کیں، ایک تصویر میں انہیں بے بی بمپ کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔اداکارہ کی پوسٹ میں مداحوں نے بھی مبارک باد کے کمنٹس کیے جب کہ بعض لوگوں بولڈ فوٹو شوٹ پر اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔مریم انصاری نے بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ’جب فوٹو شوٹ کروایا تھا اس وقت میں چھ ماہ کی حاملہ تھی، میرے حمل کے فوٹوشوٹ کو بہت بُرا سمجھا گیا جیسے میں مسلمان نہیں ہوں، لوگوں نے کہا کہ یہ تو انگریزوں کا کلچر ہے، جس پر میں نے کہا کہ کیوں پاکستانیوں کے بچے نہیں پیدا ہوتے؟مسلمان خواتین حاملہ نہیں ہوتیں؟اداکارہ نے بتایا کہ میرے فوٹوشوٹ پر صرف منفی باتیں نہیں تھیں بلکہ بہت سارے فینز نے مجھے مبارک باد بھی دی، لیکن مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کچھ لوگوں نے میری اتنی بڑی خوشی کو دکھ کا باعث بنا دیا جس کی وجہ سے مجھے اپنا انسٹا گرام ڈی ایکٹیویٹ کرنا پڑا۔مریم انصاری نے کہا کہ منفی باتیں پڑھ کر میں جذباتی طور پر اندر سے ٹوٹ گئی، اس سے قبل بھی اداکاری نے ویڈیو پیغام کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین کی تنقید پر افسوس کا اظہار کیا، مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کب سے حاملہ ہونا بدتمیزی، بے غیرتی اور بے حیائی ہوگئی، آپ بھی ایسے ہی پیدا ہوئے تھے، اس میں شرم محسوس کرنے والی کیا بات ہے؟

Back to top button