6 ہفتے میں نواز شریف کاکوئی علاج نہیں ہوا، مزید مہلت کیسے دیں؟

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ نواز شریف سزایافتہ ہیں، عدالت نے انھیں علاج کیلئے ریلیف دیا ہے 6 ہفتے میں نواز شریف کا کوئی علاج نہیں ہوا، بیرون ملک قیام میں توسیع کس بنیاد پر دی جائے. ایک طرف کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے دوسری طرف سیر سپاٹے، ڈاکٹر عدنان کو فون کر کے پوچھا ہے کہ کیا ریسٹورنٹ کی سیر بھی علاج کا حصہ ہے.
صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی تصویر پر بہت سے خدشات ہیں، ان کو علاج کیلئے 6 ہفتے کی ضمانت دی گئی تھی، نواز شریف کو دی گئی رعایت 25 دسمبر کو ختم ہوگئی، 27 دسمبر کو نواز شریف کے وکیل نے میڈیکل رپورٹ بھجوائی، رپورٹ کی بنیاد پر میڈیکل بورڈ کا اجلاس طلب کیا گیا، فیصلہ ہوا میڈیکل رپورٹ نامکمل ہے. علاج سے متعلق کوئی نئی رپورٹ نہیں بھیجی گئی بلکہ سابقہ رپورٹس کی سمری بنا کر ارسال کر دی گئی.ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ نے واضح کیا کہ جب تک ہمیں نواز شریف سے متعلق نئی رپورٹس نہیں ملیں گی تو ہم کوئی رائے نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا نواز شریف کے معالج کی جانب سے خط لکھا گیا، خط میں نواز شریف کی پرانی بیماریوں کی تفصیلات بتائی گئیں، رپورٹس میں جن بیماریوں کا ذکر ہے ہم پہلے سے جانتے ہیں، تصویر دیکھنے کے بعد ڈاکٹر عدنان کو فون کیا، ان سے پوچھا کیا نواز شریف کا گھومنا ان کے علاج کا حصہ ہے ؟ ہمیں نواز شریف کے علاج سے متعلق کوئی اطلاع نہیں۔
یاسمین راشد نے بتایا کہ ہمیں خط بھیجا گیا جس میں نوازشریف کو لاحق مختلف بیماریوں کا علاج کرایا گیا، ہم نے کل دیکھا وہ ریسٹورنٹ میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں جس کے بعد نواز شریف کے ذاتی معالج کو فون کیا اور کہا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں نوازشریف کی حالت بہت خراب ہیں اور انہیں فالج کا اندیشہ ہے دوسری طرف وہ سیر و تفریح میں مصروف ہیں.
وزیر صحت پنجاب نے بتایا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ نوازشریف لندن میں علاج کروارہے ہیں، اگر ان کی طبیعت بہتر ہوگئی ہے تو ہمیں رپورٹ بھیجیں، ہمیں کوئی معلومات نہیں لندن میں کیا علاج ہورہا ہے، ہمیں بتایا جائے کہ کیا سیر سپاٹے بھی علاج کا حصہ ہیں؟۔ یاسمین راشد نے مزید کہا کہ ایک طرف بیٹی ابا کی تیمارداری کےلیے درخواست دے رہی ہے کیا وہ ابا کی ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر تیمارداری کریں گی؟ یہ لوگ ہمیں سب رپورٹیں نہیں بھیج رہے، جو انہوں نے بھیجا اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 6 ہفتے میں کوئی کچھ نہیں ہوا تو کیوں نہیں ہوا، پھر کس بنیاد پر آپ مزید توسیع کے لیے درخواست دے رہے ہیں، ہمارے لیے بہت پریشانی کی بات ہے، آپ علاج کے لیے گئے ہیں، آپ سزا یافتہ ہیں، ہم نے اس لیے ریلیف دیا کہ آپ اپنا علاج کرائیں اور واپس آئیں، یہ بہت تشویشناک بات ہے آپ علاج کا کہہ کرگئے، لگتا ہے علاج نہیں کرارہے، اگر علاج ہوتا تو کچھ نہ کچھ نتیجہ بھیجتے۔ یاسمین راشد نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر عدنان کو کہا ہےکہ جو کچھ ہورہا ہے تحریری طور پر بھجوائیں، ہوا خوری ریسٹورنٹ میں کب ہوتی ہے؟ ایک بندہ جسے کہا گیا کہ اسے فالج کا اندیشہ ہے اس وقت ان کے معالج کو ساتھ ہونا چاہیے، یہاں کہتے تھے انہیں ابھی کچھ ہوجائے گا، کیا ریسٹورنٹ کی آب و ہوا بہت اچھی تھی؟ یا وہ خاص ہوا والا ریسٹورنٹ تھا جہاں نوازشریف گئے؟ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ انھوں نے میڈیکل بورڈ کی سفارشات اور رپورٹس کی بنیاد پر نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کی سفارش کی تھی وہ گائنی کی ڈاکٹر ہیں اگر نواز شریف کو گائنی کا کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ میڈیکل بورڈ کے علاوہ اپنی رائے کا اظہار بھی ضرور کرتیں.
واضح رہے کہ گزشتہ روز نوازشریف کی لندن کے ایک ریسٹورنٹ سے لی گئی تصویر سامنے آئی تھی جس میں وہ شہبازشریف اور دیگر کے ہمراہ موجود تھے، تصویر سامنے آنے کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
