نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹ پنجاب حکومت کو ارسال

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ان کی تازہ میڈیکل رپورٹس پنجاب حکومت کو ارسال کر دی ہیں جس میں کہا گیا ہے مکمل صحتیابی تک انہیں لندن میں ہی زیرعلاج رہنا چاہیے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کی رپورٹس حکومت کو بھجواتے ہوئے میڈیکل رپورٹس ٹویٹر پر بھی شیئر کر دی ہیں، ان رپورٹس میں پیٹ اسکین اور ایکو کارڈیا گرام وغیرہ شامل ہیں۔
نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ برطانوی معالج ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کی جانب سے تیار کی گئی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ دی گائیز اینڈ سینٹ تھامس اسپتال میں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس تعداد مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لئے ماہرین کام کررہے ہیں، نواز شریف جب تک مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوتے انہیں لندن میں ہی زیر علاج رہنا چاہئے۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر لارنس نے دل کے دورے کے خطرے کے پیش نظر فوری انجیوگرافی کرانے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فوری انجیو گرافی نہ کرائی گئی تو دل کی حالت مزید تشویشناک ہوسکتی ہے۔


واضح رہے کہ نوازشریف کی لندن میں شہبازشریف، بیٹوں اور بھتیجوں کے ہمراہ تصویر منظر عام پر آئی تھی جس میں سابق وزیراعظم ہشاش بشاش انداز میں ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کی میز پر موجود نظر آ رہے ہیں ،اس حوالے سے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ تصویر دیکھ کر ڈاکٹر عدنان کو فون کیا، ان سے پوچھا نوازشریف کا گھومنا علاج کا حصہ ہے، حکومت کو علاج سے متعلق کوئی اطلاع نہیں۔ بعد ازاں نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیراعظم کی رپورٹس ٹویٹر پر شیئر کیں اور کہا کہ رپورٹس حکومت کو بھی بھجوا دی ہیں. ڈاکٹر عدنان کے مطابق نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس نے تیار کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کی فوری انجیو گرافی نہ کروائی گئی تو ان کی حالت تشویشناک ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button