7 جنوری پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار

نارتھ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ 7 جنوری پاکستانی پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا اور جو نقصان آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری سے ہوا ہے وہ پورا کرنے کیلئے بہت لمبا عرصہ درکار ہو گا۔ پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ ہمارے اراکین نے قومی اسمبلی سے واک آوٹ سے قبل پیش کئے جانے والے آرمی ایکٹ میں ترامیم کیخلاف ووٹ دیا ۔ تاہم افسوس کہ پارلیمنٹ کی بڑی جماعتوں نے ربڑ سٹمپ کی مانند کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ہمارے اختلاف کی آوازوں کو بے رحمی سے نظر انداز کیا اور ایوان کی کارروائی میں ہماری آوازوں کو شامل بھی نہ کیا۔
یاد رہے کہ 7 جنوری کے روز صرف جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے دونوں ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ نے آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کی۔ ان لوگوں نے بلند آواز میں ’نو نو‘ کے نعرے لگائے، بل کی کاپیاں پھاڑیں اور ایوان سے واک آوٹ کر گئے۔ علی وزیر اور محسن داوڑ نے دوسروں کی نسبت احتجاج کو قدرے طویل کیا اور سپیکر ڈائس کے قریب آکر بل کی کاپیاں تار تار کیں، کاغذ کے ٹکڑے سپیکر کے چبوترے پر پھینکے اور ایوان سے باہر گئے۔
بل پاس ہونے کے بعد امکان تھا کہ پارلیمانی لیڈر یا کم از کم وزیر اعظم یا وزیر دفاع ترمیم پاس کروانے پر ایوان کا شکریہ ادا کریں گے لیکن انہوں نے یہ بھی ضروری نہ سمجھا اور سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔ یعنی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کے فورا بعد ٹشو پیپر کی طرح فارغ کرکے پھینک دیا۔
ادھر پی ٹی ایم کے رکن اسمبلی محسن داوڑ نے بل کی منظوری کے بعد ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہم نے واک آؤٹ سے قبل آرمی ایکٹ کے خلاف ووٹ دیا۔ پارلیمان نے ایک ربڑ کی مہر کی مانند کام کیا۔ اختلافی آوازیں چند ہی تھیں مگر سپیکر نے انھیں بھی بولنے کی اجازت نہیں دی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے تاریک دنوں میں سے ایک ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ آج جو نقصان ہوا ہے اسے بھرنے میں بہت وقت لگے گا۔‘
دوسری طرف نون لیگ نے بھی پیپلز پارٹی کی طرح آرمی ایکٹ میں توسیع کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا لیکن سابق وزیراعظم اور سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسیی شریف برادران کی ہدایت کے باوجود اجلاس میں نہ آئے اور اپنی عزت بچا لی۔
ذرائع کے مطابق آرمی ترمیمی ایکٹ کی حمایت پر مسلم لیگ ن میں شدید اختلاف تھا اور پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں 25 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم رات گے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی بات کرنے والے ارکان کو شہباز شریف کا خصوصی پیغام پہنچایا گیا۔ ذرائع نے بتایاکہ شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر خفا اراکین کو قومی اسمبلی اجلاس میں آنا پڑا اور ووٹ بھی دنیا پڑا، شاہد خاقان عباسی صدر شہباز شریف کی ہدایت کے باوجود اجلاس میں نہ آئے اور ترمیمی ایکٹ کی ن لیگ کی جانب سے غیر مشروط حمایت پر بطور احتجاج اجلاس میں شرکت نہ کی۔
خاقان عباسی کی طرح احسن اقبال نے بھی اصول پسندی کا مظاہرہ کیا اور اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال کا موقف ہے کہ اب ن لیگ والے عوام کو کیا منہ دکھائیں گے ،ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کا کیسے دفاع کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button