ترامیمی ایکٹ کی منظوری، حکومت اپوزیشن کے گن گانے لگی

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پارلیمان میں سروسز ایکٹ ترامیمی بل کی منظوری پر کہا کہ جو بردباری تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے دکھائی گئی وہ اس بات کی عکاس ہے کہ جب پاکستان کو ان کی یکجہتی کی ضرورت پڑتی ہے تو تمام جماعتیں اور قیادت سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج کا دن اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ جب کبھی ملک کو ضرورت پڑی سیاسی قیادت ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ملک کے مفاد کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کوئی بھی ایسی قانون سازی، جس سے پاکستانی عوام کا مفاد وابستہ ہو اس میں بھی یہی یکجہتی دکھائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 امید، عام آدمی، پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے ریلیف، پاکستان کی ترقی، مشکلات کے خاتمے کا سال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سیاسی استحکام آتا ہے اور معاشرے میں تناؤ کی سیاست کا خاتمہ ہوتا ہے تو عوام کو اس کا فائدہ اس طرح ملتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اچھا پرفارم کرتی ہے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے جس سے روزگار میں اضافہ، بے روزگاری میں کمی اور مہنگائی میں کمی آنے میں مدد ملتی ہے۔
اس موقع پر سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی قومی مفاد کی قانون سازی ہے جس کا اکثریت سے منظور ہونا خوش آئند ہے، انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں اپوزیشن جماعتیں مزید مثبت اپوزیشن کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹیوں میں بہت سی ایسی قانون سازی ہوتی ہے جو عوام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں لیکن اسے غیر ضروری التوا کا سامنا رہتا ہے اس میں اپوزیشن کا اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے جس کی ایک مثال زینب الرٹ بل ہے جو کئی ماہ زیر التوا رہا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حمایت کیے جانے بعد بھی کیا ٓحتساب جاری رہے گا کہ سوال کے جواب میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت کا اس احتساب کوئی ذاتی ایجنڈا وابستہ نہیں بلکہ یہ ملک اور قوم کی ضرورت ہے جس سے صرف ان لوگوں کو گھبرانا چاہیئے جن کے دامن پر کوئی داغ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی طرح نیب بھی ایک ادارہ ہے اور اداروں کو مضبوط بنانا حکومت کا کام ہے اور آئینی دائرہ کار میں ان کے افعال میں سہولت کاری فراہم کرنا حکومت کے فرائض میں شامل ہے جو ہم کرتے رہیں گے۔ پارلیمنٹ کے ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل کو آج ہونے والے سینیٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں پیش کیا جائے گا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا سینیٹ میں منظوری کے بعد کل یہ قانون بن جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بل کی منظوری کے بعد حکومت قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے کچھ بات چیت پہلے ہی ہوچکی ہے وزیر دفاع پرویز خٹک اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر مذاکراتی عمل کی سربراہی کریں گے۔ جس کے بعد اراکین الیکشن کمیشن کی تعیناتیوں کا معاملہ دیکھا جائے گا۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ یہ 3 انتہائی اہم معاملات ہیں جس پر حکومت اہوزیشن کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان اہم ترین بلز کے حوالے سے بلز پر میکانزم پر کام ہورہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button