کیا عمران اس بار سومنات فتح کر کے بت توڑ پائیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ اسلام آباد عمران خان کا ”سومنات“ ہے جس پر وہ ”یلغار“ کرنے کے عادی ہیں۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ ماضی میں کبھی بھی سومنات فتح کرنے اور وہاں موجود بت توڑنے میں کامیاب نہیں ہو پائے، لہذا اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس مرتبہ سومنات فتح کر پائیں گے یا دوبارہ خالی ہاتھ واپس آئیں گے؟ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اپنی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سیاسی منظر نامے پر جو دھوم دھڑکا نظر آرہا ہوتا ہے وہ محض فریب ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے ہماری اشرافیہ کے مختلف گروہوں کے مابین جو حقیقی چپقلش جاری ہوتی ہے اس بارے عام پاکستانی قطعاًبے خبر ہوتے ہیں۔

‘پراجیکٹ عمران’کھڑا کرنے والے اب کس پریشانی کا شکار ہیں؟

انکا کہنا ہے کہ اپریل 2007 کا آغاز ہوتے ہی ”عدلیہ بحالی کی تحریک“ شروع ہو گئی تھی۔ پاکستانیوں کی اکثریت اسکی بابت بہت شاداں محسوس کرتی رہی۔ ہم نے امید باندھ لی کہ افتخار چودھری کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد ہماری ریاست واقعتاً ”ماں کے جیسی“ ہوجائے گی۔ بالآخر چودھری اپنے منصب پر بحال بھی ہو گئے۔ ہم بدنصیبوں کے لئے ”ریاست“ مگر سوتیلی ماں جیسا سلوک ہی کرتی رہی۔ لیکن اگر آپ ”عدلیہ بحالی تحریک“ کا غور سے جائزہ لیں تو اس کا حقیقی ہدف جنرل مشرف کو اقتدار سے فارغ کرنا تھا۔ ”ریاست“ کو ”ماں کے جیسی“ بنانا ہرگز مقصود نہیں تھا۔ دراصل مشرف امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے لئے بوجھ بن چکا تھا اور ”عدلیہ بحالی کی تحریک“ اس ”بوجھ“ سے نجات پانے کے کام آئی۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ 28 اکتوبر سے عمران اسلام آباد پر ایک اور ”یلغار“کے لئے لاہور سے ”لانگ مارچ“ کی صورت روانہ ہوچکے ہیں۔مارچ کے افتتاحی روز انہوں نے 4 نومبر تک اسلام آباد میں داخل ہونے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔ اب وہ تاریخ بڑھا دی گئی ہے۔ باور کیا جارہا ہے کہ وہ غالباً 11 نومبر کو اسلام آباد آئیں گے۔ عمران نے لاہور سے اسلام آباد تک کے سفر کو آٹھ دنوں تک پھیلایا تو ملکی سیاست کا دیرینہ طالب علم ہوتے ہوئے میرا ماتھا اس کی بابت ٹھنکا اور میرا دھیان 1993 پیش ہونے والے ”کاکڑ فارمولا” کی طرف چلا گیا جس کے مطابق صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف سے استعفے لے لیے گئے تھے، لیکن اب ایسی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آ رہی۔ لیکن اس سوال کا جواب ڈھونڈنا لازمی ہے کہ دانستہ طور پر سست رو بنائے گئے ”لانگ مارچ“ کا حقیقی ہدف کیا ہے۔ بظاہر اس کا مقصد شہباز شریف کو فوری انتخاب کی تاریخ دینے پرمجبور کرنا ہے۔ فی الوقت وہ اس کے لئے آمادہ ہوئے نظر نہیں آرہے۔ فرض کیا وہ آمادہ ہونے کو مائل ہونا بھی شروع کر دیں تو لندن میں مقیم ان کے بڑے بھائی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے جارحانہ پیغام دے دیا ہے کہ ”جتھے“ سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ حکومت میں شامل دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی بھی یہی سوچ ہے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اب جبکہ حکومت میں بیٹھی جماعتیں اپنے موقف پر ڈٹی رہیں تو عمران خان کو یقیناً کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ جو ”نیوٹرل“ ہوئے ”ایمپائر“ کو متحرک ہونے کو مجبور کرے۔ ”ایمپائر“ کو تاہم رواں مہینے کے آخری ہفتے کا انتظار بھی کرنا ہے۔ اس ہفتے ”تعیناتی“ کے تناظر میں اہم ترین فیصلہ ہونا ہے۔ عمران کی حقیقی ترجیح تو یہ تھی کہ وہ موجودہ وزیر اعظم کو اس ناظر میں ”بے اختیار“ بنا دیں۔ ابھی تک وہ یہ ہدف حاصل نہیں کر پائے ہیں اور نہ ہی ایسا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ معاملہ لہٰذا ”وقت کم اور مقابلہ سخت“ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اپنے لانگ مارچ کی بدولت عمران اپنے لئے نام نہاد ”فیس سیونگ“ حاصل نہ کر پائے تو ہر صورت اسلام آباد پہنچنے کو ڈٹ جائیں گے جو ”فیس سیونگ“ کے بجائے ”شو ڈاﺅن“ کی جانب لے جائے گا۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اسکے بعد کیا ہوگا؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ 2014 میں بھی 126 روز کا دھرنا دینے اور اسلام آباد میں پی ٹی وی کی عمارت اور پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر حملہ آور ہونے اور توڑ پھوڑ کرنے کے باوجود عمران کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا تھا، حالانکہ تب اسٹیبلشمنٹ ان کی پشت پناہی کر رہی تھی۔ لہذا اب جب کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عمران ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ چکے ہیں تو اس سوال کا جواب سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔

Back to top button