شہریت سے متعلق انڈین بل تعصب پر مبنی ہے، پاکستان

پاکستان نے انڈیا کی پارلیمان کی جانب سے گذشتہ روز منظور کی جانے والی تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق ترمیمی بل کو تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا میں پاکستان اور دو دیگر ممالک کے شہریوں کو شہریت دینے کی حالیہ قانون سازی تعصب پر مبنی ہے۔
خیال رہے پیر کو انڈین پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے 12 گھنٹے طویل گرما گرم بحث کے بعد تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا تھا۔ بل کے حق میں 311 ووٹ آئے جبکہ اس کی مخالفت میں 80 ووٹ پڑے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بیان میں کہا ہے کہ قانون سازی کے مطابق ان ممالک کے مسلمان شہریوں کو انڈین شہریت نہیں ملے گی جبکہ صرف ہندوؤں کو شہریت دی جائے گی۔ ’حالیہ قانون سازی عالمی انسانی حقوق کی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین فیصلہ مذہبی لحاظ سے تعصب پر مبنی اور امتیازی ہے۔ ’یہ فیصلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘
ترجمان کے مطابق اس فیصلے سے انڈیا میں اقلیتوں کے حقوق اور سکیورٹی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ قانون سازی انتہاپسندی اور ہندوتوا سوچ کو خطے میں مسلط کرنے کی کوشش ہے۔

’انڈیا کی یہ کوشش ہمسایہ ممالک میں مذہب کی بنیاد پر دخل اندازی ہے۔‘
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس فیصلے کو مسترد کرتا ہے۔ ’گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل، سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ اور گائے ذبح کرنے پر ہجوم کا تشدد انتہا پسند ذہنیت کا نتیجہ ہے۔‘
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ کشمیر میں نو لاکھ انڈین فوجی نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ قانون سازی نے ایک مرتبہ پھر انڈیا کی جمہوریت اور سیکیولرزم کے دعوے کو بے نقاب کیا ہے۔ ’فیصلہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے۔‘
خیال رہے نئے قانوں کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے انڈیا آنے والے ہندو، بودھ، جین، سکھ، مسیحی اور پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
جب پیر کو وزیرِ داخلہ امت شاہ نے ایوان میں بل پیش کرنے کی اجازت چاہی تو حزبِ اختلاف کے اراکین نے ایوان میں خوب ہنگامہ برپا کیا۔

حیدر آباد سے رکنِ پارلیمان اسد الدین اویسی نے بل کی مخالفت کی اور اس کی کاپی پھاڑ دی۔ اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ بل میں مسلمانوں کو شامل نہ کرنے سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر یہ بتایا جائے کہ مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت کیوں ہے؟ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے اس بل کو لانے کا مقصد بنگالی ہندوؤں کے ووٹ حاصل کرنا ہے۔
اس نئے قانون کے تحت کسی بھی شخص کو انڈین شہریت کے لیے کم از کم 11 سال کی مدت ہندوستان میں گزارنی ضروری ہے لیکن اس ترمیمی بل میں پڑوسی ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتی برادری کو چھوٹ دی گئی ہے اور 11 سال کی مدت کو کم کرکے چھ سال کر دیا گيا ہے۔
بل کو عام طور پر مسلم مخالف بل کہا جا رہا ہے اور اسے انڈین آئین کی روح کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بل میں کئی شمال مشرقی ریاستوں کو استثنیٰ حاصل ہے تاہم آسام، میگھالیہ، منی پور، میزورم، تریپورہ، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش میں اس ترمیمی بل کی شد و مد کے ساتھ مخالفت کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ یہ ریاستیں بنگلہ دیش کے قریب ہیں اور بہت سے لوگ وہاں سے نکل کر ان ریاستوں میں آباد ہوئے ہیں۔
