عدلیہ اپنا لاڈلا بچانے کیلئے ننگی ہو گئی

سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے اور فوری رہائی کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اورعمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں دو ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کر لی جبکہ 9 مئی کے بعد درج ہونے والے کسی بھی نئے مقدمے میں 17 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا ہے دوسری جانب ڈویژن بینچ نے 15 مئی پیر تک کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روک دیا ہے

جبکہ دوسری طرف وفاقی کابینہ نے عمران خان کی گرفتاری میں چیف جسٹس کی غیر معمولی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’مس کنڈکٹ‘‘ قرار دیا ہے کابینہ نے چیف جسٹس کی جانب سے ’’آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی سمیت دیگر کلمات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدل کی اعلیٰ ترین کرسی پر بیٹھے شخص کا ایک کرپشن کے مقدمے میں یہ اظہار خیال عدل کے ماتھے پر شرمناک دھبہ ہے۔ اسلام، مہذب دنیا اور عدالتی فورمز کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ طرز عمل کسی منصف کا ہرگز نہیں ہوسکتا۔

دوسری جانب میاں گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بنچ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عمران خان ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔ایک گھنٹے کی تاخیر کے بعد ہائی کورٹ کے کمرہ نمبر 2 میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل بینچ نے سماعت کا آغاز کیا تھا ، جس میں بعد ازاں جمعہ کا وقفہ کر دیا گیا تھا۔اسی اثنا میں کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل نے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے جس پر جسٹس میاں گل حسن نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے کیسے سماعت کر سکتے ہیں، عدالت کی تکریم بہت ضروری ہے۔پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ نعرے لگانے والے وکیل کا تعلق ہم سے نہیں ہے تاہم سماعت کرنے والا بینچ اٹھ کر چلا گیا۔

وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہونے پر دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ 9 مئی کو درخواست دائر کررہے تھے کہ عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کو گرفتاری کے بعد انکوائری رپورٹ دکھائی گئی۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میڈیا سے پتا چلا کہ انکوائری تفتیش میں تبدیل کر دی۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس کیس میں آپ کو سوال نامہ دیا گیا؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سوال نامہ نہیں صرف نوٹس جاری کیا گیا، عمران خان کو انکوائری کے دوران 2 مارچ کو کال اپ نوٹس بھیجا گیا۔خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نیب انکوائری رپورٹ فراہم کرنے کا پابند ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ عمران خان کو انکوائری انوسٹی گیشن میں تبدیل کرکے فوری گرفتار کر لیا جائے گا۔جسٹس حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ کیا عمران خان اس نوٹس پر نیب کے سامنے پیش ہوئے؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نہیں، عمران خان پیش نہیں ہوئے بلکہ جواب جمع کروایا۔عمران خان کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ نیب اس وقت جانبدار ادارہ بن چکا ہے۔

بعد ازاں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی 2 ہفتے کے لیے عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب پراسیکوٹر جنرل اور عمران خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت کی تیاری کریں، مزید کہا گیا کہ اگلی سماعت پر اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ عمران خان کی ضمانت میں توسیع کی جائے یا اسے خارج کیا جائے۔جبکہ عدالت نے 9 مئی کے بعد درج ہونے والے کسی بھی نئے مقدمے میں عمران خان کو 17 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا اسٹیبشلمنٹ سے رابطے ہوگئے، آپ کی ڈیل کی اطلاعات ہیں، جس پر عمران خان نے مسکراتے ہوئے خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ گرفتاری کا ردعمل آئے گا۔انہوں نے کہا کہ جب مجھے اندر ڈال دیا گیا تو میں کیسے ذمہ دار ہو سکتا ہوں؟ سپریم کورٹ میں کہا کہ جو ہوا ٹھیک نہیں ہوا، یہ ملک میرا ہے عوام میری ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میں ہائی کورٹ میں تھا، گرفتاری کے وقت سر پر ڈنڈا مارا گیا، رینجرز نے مجھے گرفتار کیا میں گرفتاری مزاحمت نہیں کروں گا۔انہوں نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ نیب کی آفیشل ٹیم نے اہلیہ بشری بی بی سے لینڈ لائن پر بات کرائی لیکن بات نہیں ہوسکی، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسرت جمشید چیمہ سے بھی نیب کی لینڈ لائن سے بات ہوئی تھی۔عمران خان نے کہا کہ میں ہائی کورٹ میں بیٹھا تھا، مجھے گرفتار کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، مجھے اغوا کیا گیا۔ان کا کہنا تھا جب مجھے حراستی مرکز میں لے گئے تو پہلی مرتبہ وارنٹ دکھایا گیا، ایسا کہاں ہوتا ہے یہ تو جنگل کا قانون ہے، ایسے جیسے مارشل لا ڈیکلیئر ہوگیا ہو۔گرفتاری کے بعد ہوئے خونریز ہنگاموں کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ کل جب میں عدالت میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ 40 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس سے قبل عمران خان اپنے وکلا اور بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں عدالت پہنچے جبکہ شہر میں ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے نکلنے والے حامیوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ عدالت کے سامنے جمع ہونے والے پی ٹی آئی کے وکلا نے ’خان تیرے جانثار، بے شمار بے شمار‘ اور ’زندہ ہیں وکلا زندہ ہیں‘ کے نعرے لگائے جس کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے ایک مکا ہوا میں لہرایا۔عدالت پہنچنے کے بعد عمران خان ڈائری برانچ میں گئے جہاں ان کی بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مکمل کیا گیا، ان کی جانب سے ان کے وکلا نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کے علاوہ 4 دیگر درخواستیں بھی دائر کیں۔درخواست میں استدعا کی گئی عمران خان کے خلاف جتنے مقدمات درج ہوچکے ان کی تفصیلات فراہم کی جائے اور ان تمام مقدمات کو یکجا کردیا جائے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی القادر ٹرسٹ کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت کے لیے 2 رکنی ڈویژن بینچ تشکیل دیا تھا۔عمران خان کی عدالت میں پیشی کے موقع عدالت کے اطراف میں پی ٹی آئی کے کارکنان جمع ہوگئے تھے جنہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے منتشر کردیا۔خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم کی متوقع پیشی پر کارکنان کے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا اور انہیں آج اسلام ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

Back to top button