سیاسی انتشار، پاکستان کیIMFسے ’ڈیل خطرے میں

سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری سے پیدا ہونے والی صورت حال نے جہاں سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے وہیں اس واقعہ نے ملک کے اقتصادی چیلنجز کے حل کی جانب پیش رفت کے حوالے سے مزید غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے جب کہ پاکستان میں بننے والی صورت حال سے بین الاقوامی مانیٹری فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ملک میں سیاسی بحران نے ایک ایسے وقت میں سر اٹھایا ہے جب یہ موسم خزاں میں انتخابات کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بدترین معاشی بحران کا بھی سامنا ہے۔اسی طرح اس کا ساڑھے چھ ارب ڈالر کا پروگرام بھی جون میں ختم ہو رہا ہے جبکہ دیگر معاشی ذرائع میں بھی کمی آ رہی ہے۔وقت تیزی سے گزر رہا ہے، آئی ایم ایف مشن کے پاکستان کے دورے کو تقریباً 100 روز گزر چکے ہیں اور فریقین کے درمیان ابھی تک ابتدائی ڈیل بھی نہیں ہوئی ہے جو کہ اگلی قسط کو محفوظ بنانے کی جانب اہم قدم تصور کی جاتی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے 11 مئی کو ملک میں مالی اصلاحات کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی پالیسیوں اور ان پر کامیابی سے عمل درآمد کے لیے وسیع تر عوامی حمایت کی ضرورت ہو گی۔حالیہ مہینوں میں پاکستان کے اقتصادی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق بیرون ممالک سے تارکین وطن کی رقوم میں، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں، رواں برس اپریل میں گزشتہ سال کے اس ماہ کے مقابلے میں 29 فیصد کمی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق کئی دہائیوں سے "ناقص اور وقتی طور پر اپنائی گئی پالیسیوں” کے نتیجے میں جنم لینے والی مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ عوام کی تعلیم اور صحت جیسے اہم پہلوؤں پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔واشنگٹن میں مقیم پاکستانی مصنف اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹیجگ امور کے ماہر شجاع نواز کہتے ہیں کہ حالیہ واقعات سے پیدا ہونے والے جمود اور انتشار نے پھر سے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ عوام کو جواب دہ جمہوریت کے تسلسل میں ہی ملکی مسائل کا حل ہے۔
عمران خان کی گرفتاری اور اس سے قبل جاری سیاسی تناؤ اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مستقبل کی راہ میں الیکشن کی اپنی اہمیت ہے لیکن انتخابات بذات خود کسی مسئلے کا حل نہیں ہر چند کہ یہ جمہوریت کے تسلسل کے لیے ضروری ہیں۔ شجاع نواز نے مزید کہا کہ انتخابات کے علاوہ ایک جمہوری نظام میں سویلین اتھارٹی ، فوج کا حکومت کے تابع ہونا، ایک آزاد نظام عدل ،موثر اقتصادی پالیسیاں اور قابل ترین پالیسی ساز جمہوریت کے اہم ترین عناصر ہیں اور پاکستان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔
عالمی بینک کے سابق مشیر اور پاکستان کے اقتصادی مسائل اور پانی کی دستیابی پر تحقیقی کتاب کے مصنف طارق حسین اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان کے مخصوص معروضی حالات اور تاریخ تقاضا کرتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہی ایک قابل عمل اور دیرپا نظام حکومت ہونا چاہیے لیکن وہ "حکومتی عملداری” کو کامیابی کی روح قرار دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا "میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے اہم ترین لفظ بہتر حکومتی عمل داری یعنی گڈ گورنس ہونا چاہیے کیونکہ اس کی عدم موجودگی نے ہمارے مسائل کو بگاڑ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بیرونی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی استحکام کی بھی ضرورت ہے۔”وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ اس وقت تارکین وطن کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم پاکستانی معیشت کےلیے انتہائی ضروری ہیںبعض مبصرین کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم میں اتنی بڑی کمی پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ عمران خان کے دور میں ان میں اضافہ ہوا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں میں مقبول ہیں۔ سوال یہ ہے کیا کہ پاکستانی اب اسٹیٹ بینک کی بجائے دوسرے طریقوں سے پاکستان رقوم بھیج رہے ہیں یا وہ ملکی صورت حال کو دیکھ کر زیادہ رقوم بھیجنے سے گریزاں ہیں؟
محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں قوموں کی ترقی جمہوری نظام حکومت، آزاد سوچ، تنوع اور اختراعات کے حوصلہ افزا ماحول میں ہی ممکن ہو سکتی ہےجس میں جمہوری ادارے عوام کو جوابدہ ہوں۔دوسری جانب فوجی ڈکٹیٹرشپ اورذہنی طور پر بند معاشروں میں وقتی طور پر تو کچھ اقتصادی بہتری آسکتی ہے لیکن یہ دیر پا نہیں ہو سکتی کیونکہ وہاں کے حکمران عوام کو جوابدہ نہیں ہوتے اور لوگ آزادانہ تحقیق یا تنقیدی سوچ سے کام نہیں کر سکتے۔
طارق حسین کہتے ہیں کہ پاکستان کے اقتصادی مسائل کا دیر پا حل تلاش کرنا ہی ملک کے ایک بہتر مستقبل کی ضمانت ہوگا۔وہ کہتے ہیں کہ اگر موجودہ پی ڈی ایم کے مقابلے میں عمران خان کی پارٹی الیکشن انتخابی فتح بھی حاصل کرلے تو انہیں بھی ملک کو ایک بہتر ترقی کی راہ پر ڈالنےکے لیےبڑی تگ و دو کرنی پڑےگی ۔انہوں نے معیشت کو بہتر خطوط پر استوار کرنے کےلیے کہا کہ "قرض اتارنے کے لیے مزید قرض لینے کی پالیسی کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک موثر اور جوابدہ نظام حکومت ہے۔
