ہمارے بعد قیامت ہے

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
پاکستانی پارلیمنٹ ایک نہایت دلچسپ جگہ ہے۔ گزشتہ 24برسوں سے وہاں آنا جانا ہے اور اس دوران خود کو بھگوان سمجھنے والوں کے عروج و زوال اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب بڑے لوگ انہی حرکتوں کے باعث زوال کا شکار ہوتے رہے جو اُن سے پہلے والے کرتے آئے تھے۔ انسان ہمیشہ حیران رہتا ہے کہ لوگ دوسروں کی غلطیوں سے کیوں نہیں سیکھتے۔ جو وجہ مجھے سمجھ آئی‘ وہ یہ ہے کہ ہر انسان خود کو دوسروں سے مختلف اور بہتر سمجھتا ہے۔ وہ خود کو ذہین اور باقیوں کو بیوقوف تصور کرتا ہے۔ اس کا خیال ہوتا ہے کہ اس سے پہلے والا شخص احمق تھا‘ وہ حالات یا لوگوں کو درست انداز میں ہینڈل نہ کرسکا لیکن میں بہت سمجھدار ہوں اور وہ غلطیاں کبھی نہیں کروں گا جو میرے سے پہلے اس منصب پر بیٹھنے والے کرتے رہے۔ مگر انجام پھر بھی وہی نکلتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ طاقت ہے۔ جب طاقت آپ کے ہاتھ میں آتی ہے اور سب کچھ آپ کے اشارۂ ابرو پر ہونے لگتا ہے اور حواری یہ احساس دلانا شروع کر دیتے ہیں کہ ”اپُن ہی بھگوان ہے‘‘ تو پھر انسان احتیاط کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ نہ کبھی اس پر زوال آئے گا اور نہ ہی وہ کوئی غلطی کرے گا۔ 2012ء میں بھارتی فلمی سپر سٹار راجیش کھنہ کی وفات ہوئی تو ایک بھارتی ٹی وی پروگرام میں ان کے ایک دوست کو یہ کہتے سنا کہ جب راجیش کھنہ اپنے عروج پر تھے تو انہیں یقین تھا کہ نہ وہ کبھی بوڑھے ہوں گے اور نہ ہی ان کا زوال آئے گا۔ لیکن پھر ان کی تنہائی اور ڈپریشن ان کی موت کا سبب بنے کیونکہ وہ سپر سٹار جس کے گرد کبھی دنیا گھومتی تھی‘ آخر میں ایسا شخص بن گیا جس سے ملنے کوئی نہیں جاتا تھا۔
اسی طرح جب بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا سکینڈل سامنے آیا تو ایک میگزین نے یہ خصوصی رپورٹ شائع کی تھی کہ آخر بڑے اور کامیاب لوگ ہی سکینڈلز کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں مختلف سکینڈلز کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طاقتور اور کامیاب لوگ آہستہ آہستہ احتیاط ترک کر دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ چونکہ وہ اب تک کامیاب رہے ہیں اس لیے ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان خطرات کو نظر انداز کرتے جاتے ہیں جو واضح اشاروں کی صورت سامنے موجود ہوتے ہیں۔ یہی کچھ بل کلنٹن کے ساتھ ہوا۔ وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہوا شخص خود کو اس قدر طاقتور سمجھنے لگا کہ اس نے کبھی نہ سوچا کہ ایک 22سالہ لڑکی کے ساتھ دوستی اس کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
یہی سب کچھ میں نے پارلیمنٹ میں بھی ہوتے دیکھا ہے۔ یہاں بھی سیاسی احتیاط‘ جس کا تقاضا آپ کا عہدہ آپ سے کرتا ہے‘ پوری نہیں کی جاتی کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ ایک کامیاب شخص کے اندر اپنی شان و شوکت کا غرور اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ 2002ء کے بعد تقریباً ہر وزیراعظم سے میری ملاقات رہی ہے ان میں سے کسی ایک سے مل کر بھی کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ انہیں اندازہ ہے کہ یہ سب وقتی ہے اور ایک دن اچانک ان کے نیچے سے اقتدار کا قالین کھینچ لیا جائے گا۔ انہیں ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ وہ عمر بھر اسی کرسی پر رہیں گے۔ اسی لیے ان کے پاس کبھی ‘پلان بی‘ نہیں ہوتا اور پھر ایک طویل جنگ شروع ہوتی ہے جو کسی کو پھانسی‘ کسی کو جیل اور کسی کو جلاوطنی تک لے جاتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے کب سوچا ہو گا کہ ان جیسے طاقتور شخص کو بھی پھانسی دی جا سکتی ہے؟ بھٹو صاحب کو چھوڑیں‘ شاید کوئی پاکستانی بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ روایت ہے کہ اسی حیرت کے عالم میں بھٹو صاحب نے اپنے جلاد تارا مسیح سے وہ تاریخی جملہ کہا تھا: ”Finish it‘‘۔ نواز شریف کو دیکھ لیں‘ جنہوں نے بطور وزیراعظم چار سو دن بیرونِ ملک دوروں میں گزارے‘ وہ بھی اقتدار سے برطرفی کے بعد حیرت سے پوچھتے تھے: ”مجھے کیوں نکالا؟‘‘ شاید اُن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک جمہوری ملک میں عدالت کسی مرحلے پر انہیں گھر بھیج سکتی ہے۔ وہ ایک طویل منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ بالکل یہی کچھ عمران خان کے ساتھ بھی ہوا۔ ان کے وزرا فیض حمید کی وجہ سے اس قدر پُراعتماد تھے کہ ٹی وی شوز میں کہتے تھے کہ ”اپنا تو اب یہاں دس سال رہنے کا پلان ہے‘‘۔ ان کی پوری حکمت عملی یہ تھی کہ نومبر 2022ء میں فیض حمید آرمی چیف بنیں گے‘ آصف غفور ڈی جی آئی ایس آئی ہوں گے پھر الیکشن سے پہلے شہباز شریف کو سولہ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں سزا ہو گی‘ نواز شریف پہلے ہی ملک سے باہر تھے لہٰذا 2023ء کا الیکشن آسانی سے جیت کر دوبارہ حکومت قائم کرلی جائے گی۔ دورۂ ماسکو سے واپس آنے والے صحافی ہمیں بتایا کرتے تھے کہ فیض حمید پاکستان کا نیا پوتن ہے۔ میں حیرانی سے ان کی باتیں سنتا تھا اور سوچتا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو اپنے اقتدار پر کس قدر اعتماد ہے کہ وہ اتنی طویل منصوبہ بندی کیے بیٹھے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ 2022ء کے ابتدائی دنوں میں ایک ٹی وی شو میں اُس وقت کے وفاقی وزیر علی زیدی نے مجھ سے کہا تھا ”آپ بیشک ہمارے خلاف سکینڈلز فائل کرتے رہیں ہم 2028ء تک یہاں ہیں‘‘۔ یعنی ان کو یقین تھا کہ وہ 2023ء کا الیکشن جیت کر دوبارہ حکومت بنائیں گے۔ پھر کچھ عرصہ بعد بات 2035ء تک پہنچ گئی۔ اور پھر وہی عمران خان سڑکوں پر کھڑے پوچھ رہے تھے کہ ملک تو بہت اچھا چل رہا تھا‘ پھر مجھے کیوں نکالا؟ عمران خان کو بھی یہی لگتا تھا کہ ان سے پہلے جتنے وزرائے اعظم آئے اور اپنا وقت پورا نہ کر سکے‘ وہ اتنے ذہین نہ تھے جتنے وہ خود ہیں‘ یا ان کے پاس ویسی طاقت نہیں تھی جیسی ان کے پاس ہے۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے پارلیمنٹ آنا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کو فیض حمید کا ایک ماتحت چلاتا تھا‘ جو ارکانِ اسمبلی کو اکٹھا کرکے ایوان میں لاتا اور کہتا کہ فلاں بل پر ووٹ ڈالنا ہے‘ لہٰذا عمران خان کو محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ انہیں ایوان میں جانے‘ ارکان سے تعلق رکھنے یا پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اب یہی سوچ مجھے شہباز شریف کی دکھائی دیتی ہے‘ جو چھ ماہ سے پارلیمنٹ نہیں گئے۔ عمران خان کو لگتا تھا کہ قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید موجود ہیں تو انہیں فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب شہباز شریف کی سوچ بھی کچھ ایسی ہی ہو چکی ہے کہ ایک پیج پر ہوتے ہوئے انہیں کسی چیز کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اسی لیے پیر کے روز پارلیمنٹ میں ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا جب ایوان میں نہ وزیراعظم موجود تھے‘ نہ ڈپٹی وزیراعظم‘ نہ وزیرداخلہ‘ نہ وزیر دفاع اور نہ ہی دیگر درجنوں وزرا۔ حتیٰ کہ حکومتی ارکان بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ مولانا فضل الرحمن‘ بیرسٹر گوہر علی اور محمود خان اچکزئی خالی حکومتی نشستوں کو دیکھ کر حیرت سے تقاریر کر رہے تھے۔ کبھی تحریک انصاف پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ایوان میں نہیں آتی مگر اب حکومت خود ایوان سے غائب ہے۔ مجھے اس وقت بے اختیار ہنسی آئی جب محمود اچکزئی نے سپیکر سے کہا کہ اگر عمران خان کو علاج کیلئے ہسپتال نہ لے جایا گیا تو وہ ایوان نہیں چلنے دیں گے‘ پھر گلہ نہ کیجیے گا۔ میں نے ایوان پر نظر دوڑائی تو وہاں پہلے ہی حکومت کا کوئی نمائندہ موجود نہ تھا۔ ایوان تو ویسے بھی اپوزیشن ارکان چلا رہے تھے۔ شہباز شریف کے بغیر ایوان ایک سال سے اسی طرح چل رہا ہے جیسے عمران خان کے دور میں چلتا تھا۔ پھر اچکزئی کی اس دھمکی پر ہنسی نہ آئے تو اور کیا آئے؟
سب بڑے لوگ جو خود کو بھگوان سمجھنے لگتے ہیں دراصل خود کو دھوکا دیتے رہتے ہیں کہ وہ ناگزیر ہیں۔ کبھی نواز شریف‘ کبھی عمران خان‘ اور آج کل شہباز شریف خود کو یوں سمجھتے ہیں جیسے کرۂ ارض کے آخری انسان ہوں‘ اور ان کے بعد قیامت ہے۔
