اس ہر دلعزیزی سے حاصل کیا ہونا ہے

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا
ہماری خاصیت رہی ہے معمولی باتوں پر اِترا جانا۔ ہمارا پروفائل اونچا ہو گیا شکر ہے۔ لیکن پٹرول کی ٹینکی میں تو پروفائل جاتا نہیں۔ تیل کی قیمتوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے‘ ہم پٹرول کو رو رہے ہیں‘ کسان بے چارہ ٹریکٹر اور ڈیزل کا کون سا نوحہ پڑھے؟ فی الحال تو امریکہ دوستی اور جواہرِسہولت کاری پہ ناز کیا جا رہا ہے لیکن اس سے آگے بھی سوچنا ہے یا نہیں؟برادر عرب ممالک جو نہ ختم ہونے والے خزانو ں پر بیٹھے تھے اُن کے حالات بدل گئے ہیں۔ یو اے ای کے تیور دیکھے جائیں۔ یہ ملک چلے تھے دنیا کو بدلنے‘ چند ہفتوں کی جھڑپوں کی تاب نہ لا سکے۔ بولنے کا انداز بدل گیا ۔ جنگ سے پیدا شدہ حالات نے رویوں میں کچھ عاجزی بھی پیدا کر دی ہے۔ جب وہ نہ بدلنے والے بدل گئے تو ہمارے حالات پر کچھ اثر نہ پڑے گا؟ اُن کے قارون کے خزانے تو پھر بھی قائم ہیں‘ یہاں ہمیشہ کی استدعا اور طلب ہی ہے۔ سفارتی اثر و رسوخ پر ناز کتنا کیا جا سکتا ہے؟ تیل کی کمی تو اس سے پوری نہیں ہو رہی۔ اتنا ذہن میں رہے کہ سہولت کار ضرور ہیں حالات پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ ایران نے امریکی مطالبات کے سامنے لچک دکھانی ہوتی‘ یعنی سرنڈر کرنا ہوتا تو کب کا کر دیا ہوتا۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے وہ عقل اور شعور سے بے نیاز‘ ہماری کہاں سنی جانی ہے۔ نہ ہی زور دے کر کہہ سکتے ہیں کہ ہٹ دھرمی اور بیوقوفی میں کچھ کمی لائی جائے۔
حالات یہاں کے جوں کے توں نہیں‘ ہر گزرتے دن خراب ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں کا بوجھ معیشت اُٹھا نہ سکے گی۔ امریکہ ایران کے معاملات سنبھل تو نہیں رہے اور مزید ایسے رہتے ہیں تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر نہ بھی گئیں تو بدستور یہی رہیں گی۔ بوجھ کس پر پڑنا ہے؟ لے دے کر اس ملک کے باسیوں پر۔حکومتی عیاشیوں میں تو کمی نہ آئے گی‘ نہ امیر طبقات کی فضول خرچیوں میں۔ محدود وسائل والے مزید مارے جائیں گے۔ سوال اتنا ضرور بنتا ہے کہ حدِ برداشت کیا ہے؟ گدھا بھی ایک حدتک ہانکا جا سکتا ہے۔ بیچارے عوام کتنا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔
سہولت کاری کی داد وصول کرنا اپنی جگہ لیکن مملکت کے بنیادی مسائل جہاں تھے وہیں موجود ہیں۔ معیشت تو ایک طرف رہی‘ صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال میں کوئی بہتری آئی ہے؟ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے حملے تھم نہیں سکے۔ اگرچہ خبریں اتنی نہیں‘ جس سے تاثر مل سکتا ہے کہ حالات بہتر ہیں‘ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایسا ہے نہیں ۔ بنوں اور لکی مروت کے حملے کوئی چھوٹے حملے نہیں تھے۔ کتنی ہی اموات ہوئیں‘ لیکن ملاحظہ ہو کہ ہماری طرف سے افغانستان پر کوئی ہوائی حملہ نہیں ہوا۔ حملوں سے بات بننی تھی تو اب تک ایران قائلِ شکست نہ ہو جاتا؟ امریکہ نے ایران کے خلاف سارے تیر چلا دیے اور اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ ہمارے پاس تین آپشن تھے۔ یہاں مقیم افغانوں کی جبراً واپسی‘ بارڈر اور تجارت کی بندش اور فضائی حملے۔ تینوں آپشن بروئے کار لائے گئے لیکن سکیورٹی صورتحال میں کتنی بہتری آئی؟ یہ بھی دیکھا جائے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر جو احتجاج اور انتباہ کیا گیا اُس کا لہجہ بدلا سا لگتا ہے۔ کہا گیا کہ حکامِ طالبان سے روابط کیے گئے لیکن اُن کی طرف سے مثبت ردِعمل نہ آیا۔ اس لہجے میں اور حملوں میں خاصا فرق ہے۔
موسمِ بہار ہو اور پتنگ کی اڑان تو بہت اچھی لگتی ہے۔ لیکن پتنگ کا کمال اتنا ہی ہوتا ہے‘ کٹ جاتی ہے یا ڈور کھینچنے والی انگلیاں تھک جاتی ہیں۔ پھر آسمان خالی ہو جاتا ہے۔ہمارے کردار کے چرچے ہوئے‘ داد دی اور وصول کی گئی۔ بڑی بھلی چیزیں ہیں اور اچھی لگتی ہیں۔ لیکن اس کا جشن کہاں تک منایا جائے‘ اور اس سے حاصل کیا ہونا ہے؟ کچھ سستا تیل ہی مل جاتا۔ کچھ ہمت کی ہوتی ‘ ایران بارڈر پر تیل کی ترسیل کا انتظام ہو جاتا۔ بھلے امریکہ کی ناراضی مول لینی پڑتی۔داد و تحسین اپنی جگہ مگر تیل کی قیمتوں سے اس قوم کا حشر ۔ جہاں تک ستائش کا تعلق ہے‘ جب سے ایران جنگ کی وجہ سے صدر ٹرمپ کا قد کاٹھ کم ہوا ہے اور اُن کی بات میں وہ گرج نہیں رہی تو اُن کے لفظوں میں وہ چاشنی بھی نہیں رہی۔ حالت اب یہ ہے کہ اُن کی بہت سی باتیں اب مذاق کے زمرے میں لی جانے لگی ہیں۔ اُن کے کئی جملے امریکی سوشل میڈیا میں مذاق کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔
بہرحال اپنے بنیادی تضادات پر نظر رہے۔ معاشی زبوں حالی کے ساتھ یہ صورتحال بھی سامنے رہے کہ سوائے چین کے پاکستان کے تمام بارڈر بند ہیں۔ مغربی بارڈر بند‘ مشرقی بارڈر بند اور جنگ کی وجہ سے ایران بارڈر پر بھی واجبی آمدورفت۔ حالات جتنے کشیدہ ہوں تجارت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔ چین اور بھارت کے درمیان بارڈر پر جھڑپیں بھی ہوں تو تجارت جاری رہتی ہے‘ دیگر تعلقات بھی بحال رہتے ہیں۔ یہاں تناؤ کے پہلے اثرات نمایاں ہوں تو تجارت کی بندش پہلا ردِعمل ہوتا ہے۔ یعنی دشمن کو جونقصان پہنچتا ہے اُس کا پتا نہیں لیکن اپنا نقصان ضرور کر لیتے ہیں۔ پچھلے سال معرکۂ حق ہو ا۔ ہمارے ہوا بازوں کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ اتنا ہی کافی نہیں؟کیا ہر رابطے کو ختم کرنا ضروری ہے؟ اس سے کیا حاصل ہو گا؟ کون سا ہدف ہے جو ایسے اقدامات سے حاصل کرنا مقصود ہے؟ بھلے معرکۂ حق ہوا ‘ بھلے نریندر مودی اور اُن کی جماعت کی جو بھی پالیسیاں ہوں‘ اسلام آباد اور دلی میں ایک دوسرے کے سفیر متعین ہونے چاہئیں اور تجارت کے راستے کھلنے چاہئیں۔ بیشک دشمنی دلوں میں رکھی جائے لیکن سمجھ رکھنے والے معمول کے تعلقات پر خواہ مخواہ کی کلہاڑی نہیں چلاتے۔
دفاعی صلاحیت مقدم ہے‘ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ کہاں کی حکمتِ عملی ہے کہ خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت سے بے خبری روا رکھی جائے؟ ہندوستان بھی خام تیل امپورٹ کرتا ہے لیکن اُس کی ریفائننگ کپیسٹی تو دیکھی جائے۔ ہم اس بارے میں غافل کیوں؟ اب پتا چلا کہ اس صلاحیت سے محروم رہنے سے سالانہ ایک بلین ڈالر کی ڈَز مملکت کو لگ رہی ہے۔ جشنِ فتح کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن آگے سوچنے کی بھی ضرورت ہے۔
گزارش یہ کہ حالات مشکل ہو رہے ہیں اور مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ معاشی اور سکیورٹی مسائل تو ہیں ہی سیاسی اُفق پر بھی تناؤ کی ایک بے جا کیفیت ہے۔ہمارے ہاں میں ہر معاملے پرپُلسیا ذہنیت کا چھا جانا سوچ کا ایک زاویہ ہے۔ مخالف آواز اُٹھے تو اُٹھانے والے کو دھر لیا جائے۔ ہر ناپسندیدہ روش کا ایک ہی علاج‘ زور زبردستی والا۔ہماری سفارتی کامیابیوں کے جواہر زیادہ اچھے لگیں اگر اندرونِ ملک بھی پیامِ رسانی اور سفارت کاری کی نوید ملے۔
