ملزم کو احمد گورایہ کے قتل کا ٹاسک کس ایجنسی نے دیا؟

ایک پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایا کے قتل کی سازش تیار کرنے کے الزام پر برطانیہ میں گرفتار ہونے والے کرائے کے قاتل گوہر خان نے اپنے سابقہ موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے برطانوی عدالت کے سامنے کہا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اسے کس ایجنسی نے اس مقصد کے لیے بھرتی کیا تھا۔ اس سے پہلے تفتیش کے دوران گوہر خان نے برطانوی پولیس کو بتایا تھا کہ اسے ایک پاکستانی ایجنسی نے اسکے ایک جاننے والے کے ذریعے اس کام کے لیے رابطہ کیا تھا۔

برٹش پروسیکیوشن کے مطابق گوہر خان کو احمد وقاص گورایہ کے قتل کے عوض ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈز بطور معاوضہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جس کے بعد وہ واردات ڈالنے ہالینڈ بھی گیا لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پایا۔
24 جنوری 2022 کو لندن کی کنگسٹن کوٹ میں اپنے سابقہ موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے گوہر خان نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان میں کون سا ادارہ یا شخص کیوں نیدرلینڈ میں مقیم بلاگر وقاص گورایہ کو قتل کروانا چاہتا تھا۔ ملزم گوہر خان نے عدالت کو بتایا کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وقاص گورایہ کو قتل کرنے کے لیے ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی رقم کہاں سے آ رہی تھی۔ 31 برس کے گوہر خان کے خلاف پاکستانی بلاگر وقاص گورایہ کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔

گوہر خان پر الزام ہے کہ بلاگر احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کے لیے بطور اجرتی قاتل اُن کی خدمات حاصل کی گئی تھیں تاہم ملزم اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

ملزم نے پیر کے روز عدالت کو بتایا کہ اسے نہیں معلوم کہ مبینہ مڈل مین مزمل کیوں وقاص گورایہ کو قتل کروانا چاہتا تھا۔ ملزم نے کہا کہ اس نے یہ جاننے کی بھی کوشش نہیں کی کیونکہ ان کا بلاگر وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا۔ ملزم کا مؤقف ہے کہ مزمل ان کے کارگو کے کاروبار میں بطور ڈیلیوری مین کام کرتا تھا اور انھوں نے ملزم کے کاروبار کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ جب مزمل نے اسے ایک پراجیکٹ کی پیشکش کی تو اس نے اپنے کاروباری نقصانات کو کم کرنے کے لیے پراجیکٹ کرنے کی حامی بھری۔ گوہر خان کا مؤقف ہے کہ اس کا ارادہ تھا کہ وہ مزمل سے دس بیس ہزار پاؤنڈ حاصل کرنے کے بعد وہ کام نہیں کریں گے۔

ملزم نے عدالت کو بتایا کہ مزمل نے اسے کبھی واشگاف الفاظ میں ’قتل‘ کرنے کا نہیں کہا لیکن جب اس نے بلاگر وقاص گورایہ کی تصویر اور رہائش کا ایڈریس بھیجا تو اس پر واضح ہو گیا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ ملزم نے کہا کہ جب پہلی بار اسے پراجیکٹ کی آفر کی گئی تو اس نے سوچا کہ کوئی مجرمانہ کام ہی ہو گا لیکن یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ پراجیکٹ کسی شخص کو قتل کرنے سے متعلق ہو سکتا ہے۔

استغاثہ کے وکیل کے سوال پر گوہر خان نے کہا کہ اس کے ذہن میں آیا کہ شاید مزمل پاکستان میں شراب کے کچھ کنٹینرز منگوانا چاہتا ہے۔ ملزم نے کہا کہ پاکستان جہاں شراب کی فروخت ممنوع ہے، وہاں شراب کے تین چار کنٹینرز کی مالیت 70/80 ہزار پاؤنڈز تک ہو سکتی ہے۔

ملزم سے جب پوچھا گیا کہ وہ کسی کو قتل کرنے کے عمل کو کیسا سمجھتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’انتہائی خوفناک۔ میں نے زندگی میں کسی کو کبھی مکا بھی نہیں مارا۔ میں کیسے قتل کر سکتا ہوں۔‘ ملزم نے کہا کہ وہ ایک خاندان والا شخص ہے، اس کی بیوی اور چھ بچوں کا خاندان ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی جرائم میں ملوث نہیں رہا اور یہ پہلی بار ہے کہ پولیس نے اسے گرفتار کیا۔

ملزم نے استغاثہ کے وکیل کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ اس کی غلطی تھی کہ اس نے بلاگر کے قتل کی سازش کے بارے میں پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔ جب ملزم سے پوچھا گیا کہ مڈل مین مزمل نے یہ کیوں سوچا کہ ملزم گوہر خان اس کام کے لیے موزوں شخص ہے تو ملزم کا کہنا تھا کہ شاید اس کی وجہ لندن کا وہ علاقہ ہے جہاں میں رہتا ہوں۔ ملزم نے کہا کہ ’میں چیلسی کے علاقے میں نہیں رہتا، جہاں میں رہتا ہوں وہاں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے۔‘

ملزم نے بار بار اس مؤقف کو عدالت کے سامنے دہرایا کہ اس کا مقصد مزمل سے دس بیس ہزار پاؤنڈ حاصل کرنے تھے جس نے ان کے چلتے ہوئے کامیاب کاروبار کو تباہ کر دیا تھا۔ عدالت کے ایک سوال پر کہ ملزم گوہر خان کو مزمل نے کاروبار میں کتنا نقصان پہنچایا تھا تو ملزم نے کہا کہ بیس سے ستر ہزار پاؤنڈ تک کا نقصان پہنچایا جبکہ ’میری شہرت کو نقصان اسکے علاوہ ہے۔

شہزاد اکبر کو کپتان سے کئے گئے جھوٹے دعوے لے ڈوبے

ملزم سے پوچھا گیا کہ اسے پراجیکٹ مکمل کرنے میں اتنی جلدی کیوں تھی تو ان کا جواب تھا کہ کیونکہ میں مطلوبہ رقم حاصل کر کے اسے چھوڑنا چاہتا تھا۔ملزم سے پوچھا گیا کہ جب مزمل نے اسے کہا کہ یہ پراجیکٹ مکمل کرنے سے آپ دنیا اور آخرت میں امیر ہو جائیں گے تو ان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ گوہر خان نے کہا کہ اُن کے نزدیک اِس کا کوئی مطلب نہیں اور اسلام میں کسی جواز پر انسانی قتل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ملزم سے پوچھا گیا کہ اس نے روٹرڈیم پہنچ کر 19 انچ لمبی تیز چھری کیوں خریدی؟ تو اس نے کہا کہ اس نے ہوٹل کے کمرے میں ڈبل روٹی، چکن سٹیک اور فروٹ کاٹنے کے لیے چھری خریدی تھی۔ پراسیکیوشن نے ملزم سے پوچھا کہ جب کم قیمت چھریاں میسر تھیں تو اس نے 13 یورو کی مہنگی چھری کیوں خریدی، تو اس نے کہا مجھے لگا یہ میری ضرورت کے مطابق ہے۔ ملزم نے کہا کہ روٹرڈیم کی جس دکان سے میں نے چھری خریدی تھی وہاں اس سے مہنگی چھریاں بھی موجود تھیں۔ ملزم گوہر خان نے تسلیم کیا کہ جب وہ بلاگر وقاص گورایہ کے رہائشی علاقے میں گئے تو چھری سیمت دوسرا سامان جو انھوں نے خریدا تھا وہ ان کے پاس گاڑی میں موجود تھا۔

ملزم نے اس الزام کی تردید کی کہ اس نے چھری بطور ہتھیار اٹھا رکھی تھی۔ اس نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ انھوں نے ہوٹل کے کمرے میں اپنا کھانا تیار کرنے کے لیے چھری خریدی تھی۔گوہر خان نے کہا کہ اس نے کسی موقع پر بھی مڈل مین مزمل کو چھری نہیں دکھائی تھی۔ ملزم نے تسلیم کیا کہ گرفتاری کے بعد اس نے پولیس کے ساتھ انٹرویو میں چھری خریدنے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ ملزم نے کہا کہ جب پولیس کو میرے سامان سے ملنے والے رسیدوں سے چھری کی خریداری کا پتہ چلا تو پولیس نے مجھ سے پوچھا اور میں نے تمام بات انھیں بتا دی تھی۔

وکیل استغاثہ کے اِس سوال پر کہ کیا وہ ایک دھوکہ باز شخص ہیں، ملزم نے کہا کہ ’مزمل کی حد تک تو آپ کہہ سکتے ہیں۔‘ ملزم نے کہا کہ زندگی میں جہاں تک ہو سکے وہ سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملزم نے تسلیم کیا کہ اس نے کرئیڈن کی مسجد کے ایک استاد سے کہا تھا کہ کیا وہ نیدرلینڈز میں کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کا ریفرنس دے کر وہ نیدرلینڈز میں داخل ہو سکیں۔

ملزم نے کہا کہ مجھے اس پر افسوس ہے۔ ملزم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے ایک ٹریول ایجنٹ کو کہا تھا کہ وہ نمونے کے بغیر ہی کووڈ پی سی آر سرٹیفکیٹ حاصل کرا دے۔ ملزم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے ڈچ امیگریشن کے حکام کے لیے ایک جعلی لیٹر بھی تیار کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ روٹرڈیم مہں ان کا ایک بھائی ہے جس کی طبعیت ٹھیک نہیں اور وہ اسکی تیماداری کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ ملزم نے کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ میں نے جعلی لیٹر تیار کیا تھا۔‘

Back to top button