شہزاد اکبرریاست پاکستان کیلئے ایک بوجھ تھا: کاوے

برطانوی کمپنی براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی نے وزیراعظم کے سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کی چھٹی کروانے کو ایک اچھا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شخص کی ڈکشنری میں قانون کی حکمرانی، عدالتی احکامات کی تعمیل، اور بدعنوانی کے خاتمے جیسا کوئی لفظ موجود نہیں تھا اور وہ پاکستانی ریاست پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں تھا۔

شہزاد اکبر کے استعفے کے ردعمل میں انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا کہ شہزاد اکبر نے نیب کے ایما پر مجھ سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی لیکن بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس کی اپنی کوئی ساکھ نہیں تھی۔ یاد رہے کہ ماضی میں موسوی نے شہزاد اکبر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور انہیں ایک مشکوک شخصیت قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کے ایک ملاقات میں ان کے ساتھ ملنے آنے والے ایک جرنیل نے مجھ سے کمیشن کا مطالبہ کیا تھا۔ جواب میں شہزاد اکبر نے بھی موسوی پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی کمپ

نی براڈ شیٹ بیرون ملک کسی بھی پاکستانی سیاست دان کے خفیہ بینک اکاونٹ کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔ سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے یہ بھی کہا تھا کہ اثاثہ بازیافت کمپنی نے جو وعدے کیے انہیں پورا نہیں کیا گیا۔ شہزاد اکبر نے براڈ شیٹ کو ایوارڈ کی گئی بھاری رقم کی ادائیگی سے متعلق بتایا تھا کہ موسوی نے ایک ایسی کمپنی خریدی جس کا تصفیہ چل رہا تھا، اس کمپنی نے پاکستان کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا اور اسی وجہ سے پاکستان کو کچھ نہیں ملا۔

دوسری جانب کاوے موسوی نے کہا تھا کہ شہزاد اکبر ایسی تصویر کشی کررہے ہیں گویا براڈشیٹ نے کارکردگی نہیں دکھائی، اگر شہزاد اکبر نے اپنی تحقیق نہیں کی ہے تو انہیں برخاست کردیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ براڈشیٹ نے اپنا کام پورا کیا، عدالت نے اسے رقم سے نوازا کیونکہ اس نے یہ کام کیا تھا.

انہوں نے کہا کہ ایک نامعلوم شخص جو 2018 میں شہزاد اکبر کے ساتھ لندن میں انہیں ملا تھا، جب انہوں نے اس سے ایک ارب ڈالر کی چوری شدہ رقم کے اکاؤنٹ کے بارے میں بتایا تو اس نے اپنے حصے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت پاکستان کو اپنا حصہ مانگنے والے اس شخص کے بارے میں آگاہ کیا لیکن اس بارے میں کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

خیال رہے کہ برطانوی نژاد کاوے موسوی آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کے استاد رہے جبکہ انٹرنیشنل مصالحتی عدالت میں ثالث کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ تاہم بنیادی طور پر وہ ایک وکیل ہیں۔ ان کی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ 2000 میں پاکستان آئی تھی۔

صدر عارف علوی پر ’’عہدے کی خلاف‘‘ ورزی کا الزام

سابق صدر پرویز مشرف نے نیب کے لئے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔ کاوے موسوی کے مطابق پرویز مشرف چاہتے تھے کہ میاں نواز شریف، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیرونِ ممالک اثاثوں کا سراغ لگا کر لوٹی گئی رقم پاکستان واپس لائی جائے۔ لیکن ہم کسی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ اس لئے ہم نے واضح کر دیا کہ تھا ہم صرف ان 3 شخصیات کے خلاف تحقیقات نہیں کرینگے۔

ابتدائی بات چیت کے بعد نیب اور حکومت پاکستان کے درمیان ان کا معاہدہ ہوا۔ جس کے تحت انھیں ان تین شخصیات سمیت دیگر 200 اہداف کی ایک فہرست فراہم کی گئی۔ معاہدے کے مطابق نیب نے انھیں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا تھیں جن کی بنیاد پر براڈشیٹ ایل ایل سی کو ان افراد کی طرف سے بیرونِ ملک رکھی گئی

مبینہ کرپشن کی رقم کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کرنا تھے اور اسے پاکستان واپس لانے میں مدد فراہم کرنا تھی۔ کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ نیب نے ہم سے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں، آپ پیسہ خرچ کریں، ان افراد کے اثاثہ جات کا سراغ لگائیں اور لوٹی ہوئی رقم واپس دلانے میں ہماری مدد کریں۔ کل رقم کا 20 فیصد حصہ آپ کو معاوضے کے طور پر دیا جائے گا۔

کاوے موسوی کے مطابق وہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے پیسے کا سراغ لگا رہے تھے اور انھوں نے مبینہ طور پر کئی بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے موزوں شواہد حاصل کر لئے تھے جن میں سے کئی اکاؤنٹس کو منجمد بھی کروایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے لاکھوں ڈالرز مالیت کے اکاؤنٹس کا سراغ لگایا۔ اس سے قبل کے وہ ان اکاؤنٹس کو منجمد کروانے کے لئے حرکت میں آتے انھیں دھوکا دہی سے ہٹا دیا گیا۔ یاد رہے کہ نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ 2003میں ختم کر دیا تھا۔

Back to top button