اکبر بادشاہ پر دین الٰہی ایجاد کرنے کا الزام کتنا درست ہے؟

مغل بادشاہ جلال الدین اکبر المعروف اکبر اعظم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے ’دینِ الٰہی‘ کے نام سے ایک نیا مذہب ایجاد کیا تھا جو مختلف مذاہب کا ملغوبہ تھا، مگر اس دعوے کے شواہد اتنے مضبوط نظر نہیں آتے۔ جلال الدین محمد اکبر واحد مغل بادشاہ ہیں جنہیں تاریخ نے اعظم کا خطاب دیا، مگر ان کے مذہبی تصورات کی نسبت سے انہیں تاریخ میں ایک متنازع کردار کے طور پر پیش کیا گیا، ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے واقعی کوئی الگ دین بنا لیا تھا یا پھر ہمارے تاریخ دانوں نے ان کے ساتھ تعصب برتا ہے؟
اس حوالے سے ویسے تو شمس العلما مولانا محمد حسین آزاد نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’دربارِ اکبری‘ میں لکھ دیا ہے کہ بے لیاقت شیطان جب اپنے حریف کی لیاقت اپنی طاقت سے باہر دیکھتے ہیں تو اپنا جتھا بڑھانے کو مذہب کا جھگڑا بیچ میں لے آتے ہیں کیونکہ اس میں فقط دشمنی ہی نہیں بڑھتی بلکہ کیسا ہی با لیاقت حریف ہو اس کی جمعیت ٹوٹ جاتی ہے۔ اکبر نے ہندوستان کے تکثیری سماج کے پیش نظر رواداری کو فروغ دیا لیکن بعض تنگ نظر علما نے اسے گناہِ عظیم بنا کر اس کے کھاتے میں ایک الگ دین ڈال دیا۔
الٰہ آباد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ترپاٹھی نے اپنی کتاب ’مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال‘ میں اکبر کے خلاف کیے جانے والے اس لغو پراپیگنڈے اور ان وجوہات کا جائزہ لیا ہے جن کی وجہ سے اکبر کو دین الہٰی کے پرچارک کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، پاکستان کے قیام کے بعد دو قومی نظریے کی تعبیر کے پس منظر میں بھی سرکاری تاریخ دانوں نے یہ ضروری محسوس کیا کہ وہ اکبر کے خلاف اس پراپیگنڈے کو ہوا دیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اکبرِ اعظم کو کافرِ اعظم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اکبراعظم جب پیدا ہوا تو ہندوستان میں ایسی ہندو مسلم تحریکوں کا غلبہ چل رہا تھا جن کا مقصد لوگوں کے مذہبی خیالات کے ظاہری پہلوؤں کی بجائے ان کے باطنی اور روحانی پہلوؤں کو اُجاگر کرنا تھا۔ اس کے معلمین میں منعم خان اور بایزید جیسے سنی، اور بیرم خان اور عبد الطیف جیسے شیعہ بھی شامل تھے۔ عبدالطیف کو لوگ ایران میں سنی اور ہندوستان میں شیعہ سمجھتے تھے۔ اس نے اکبر کے دل و دماغ کو صوفیانہ طرز زندگی سے روشناس کرایا اور اس کے ذہن کو مولانا روم اور حافظ کے اشعار و غزلیات سے مالا مال کر دیا۔ اکبر نے دور اتالیقی میں ہی صوفیوں، درویشوں اور علمائے کرام کے ساتھ عقیدت و محبت سے ملنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اکثر بھیس بدل کر فقیروں، سادھوؤں اور شیخوں سے ملتا، وہ چشتیہ سلسلے کا معتقد تھا۔
اکبر کو جب تاجِ شاہی پہنایا گیا تو اس کی عمر محض 14 سال تھی۔ اسلیے اس نے اگلے سالوں میں صرف شمشیر و سناں کے رموز ہی نہیں سیکھے بلکہ رازِ حیات کی کھوج بھی جاری رکھی اور اس مقصد کے لیے ہندوستان کے مذاہب اور فکر کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اسلام کے عقائد، اخلاقیات، فلسفہ، تاریخ، تصوف، روایات اور فقہ کا مطالعہ کیا اور ہندوستان کے چوٹی کے علما سے بیان سنے جن میں شیخ عبد النبی، ابو الفیض، ابو الفتح، نقیب خان اور شیخ تاج الدین شامل ہیں۔ اپنی تاج پوشی کے ایک سال کے اندر ہی ا س نے ایک عبادت خانہ تعمیر کروایا جس کے چار حصے تھے۔
مغربی حصے میں سید، جنوبی میں علما، شمالی میں مشائخ اور مشرقی حصے میں اکبر کے دربار کے مشہور علما و فضلا بیٹھا کرتے تھے۔ دو سال تک یہ مباحث دین اسلام تک ہی محدود تھے۔ اکبر کو ان کے اطوار سخت ناگوار گزرتے، اس نے سوچا کہ اگر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو عبادت خانے کا حصہ بنایا جائے تو شاید یہ لوگ سنجیدہ ہو جائیں، چنانچہ اس نے مسیحیوں، ہندوؤں، جینیوں، بدھوں اور دہریوں پر بھی عبادتخانے کے دروازے کھول دیئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان موضوعات پر بھی بحث مباحثہ ہونے لگا جن کے متعلق مسلمانوں میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا۔
عبادت خانے میں کبھی کبھی تو فریقین غصے میں مغلوب ہو جاتے ایک دوسرے کو دھمکاتے اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی کہ اگر شہنشاہ موجود نہ ہوتا تو وہ مار پیٹ پر اتر آتے، اس پر اکبر نے یہاں محافظ بھی تعینات کر دیئے لیکن یہ عبادت خانہ مختلف غلط فہمیوں کا باعث بن گیا، جس پر اکبر نے عبادت خانہ تو بند کر دیا مگر ذاتی طور پر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مکالمہ جاری رکھا جس پر بے بنیاد افواہیں بھی پھیل گئیں کہ بادشاہ تبدیلی مذہب میں دلچسپی رکھتا ہے، یہ افواہیں پھیلانے والوں میں ان کے اپنے دربار سے وابستہ دو جید عالم شیخ عبداللہ سلطان پوری اور عبدالنبی صدر الصدور پیش پیش تھے۔
چند ماہ بعد اکبر کے دربار سے ایک فرمان جاری ہوا جس پر مشہور علما نے دستخط کیے جس میں بادشاہ کے عادل ہونے کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا رتبہ اللہ کی نگاہ میں ایک مجتہد سے زیادہ بلند ہے۔اکبر نے آگے چل کر نہ صرف خود شکار کرنا ترک کر دیا بلکہ گوشت خوری بھی چھوڑ دی۔ اسی طرح اس نے مخصوص لوگوں کے علاوہ شراب بنانا اور فروخت کرنا بھی ممنوع قرار دے دیا، جس کو لوگوں نے ایک الگ دین کے طور پر پیش کیا۔
