شادی انسان کو ذہنی بیماریوں سے کیسے بچاتی ہے؟

پاکستان میں شادی شدہ مرد اور خواتین عام طور پر اس رشتے کے نقصانات پر ہی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ناروے میں پہلی مرتبہ ایسی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں شادی کے فوائد پر بات کی گئی ہے۔ تحقیق کے دوران درمیانی اور بڑھتی عمر میں شادی کرنے کے  طبی فوائد بتائے گئے ہیں، اس سے قبل شادی اور غیر شادی شدہ زندگی پر متعدد تحقیقات سامنے آ چکی ہیں، جن میں شادی کے کئی فوائد بتائے جا چکے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شادی شدہ افراد زائد العمری میں دماغی امراض سے محفوظ رہتے ہیں، طبی جریدے ’نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ درمیانی یا بڑھتی عمر میں شادی کرلیتے ہیں، ان میں زائد العمری میں ڈمینشیا سمیت دماغی خلل کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ ڈمینشیا ایک ایسا مرض ہے، جس کا تاحال کوئی علاج دریافت نہیں ہوا، البتہ بھلکڑ پن اس مرض کو مختلف ادویات اور غذاؤں کے ذریعے قابو کیا جاتا ہے تاہم دماغی افعال کے مرض کی ادویات موجود ہیں لیکن اس میں بھی زیادہ تر ادویات فائدہ مند ثابت نہیں ہوتیں۔

اس حوالے سے بھی ماضی میں متعدد تحقیقات سامنے آ چکی ہیں یادداشت کمزور ہونے اور دماغی طور پر غیر فعال ہونے کا زائد العمری سے گہرا تعلق ہے، یعنی یہ مرض بڑھتی عمر کے ساتھ خود بخود انسان کو جکڑ لیتے ہیں تاہم انہیں روکنے کے کئی طریقے موجود ہیں، جن میں سے شادی بھی ایک طریقہ ہے۔ ناروے میں کی جانے والی تحقیق کے دوران ماہرین نے 8 ہزار 700 سے زیادہ 44 سے 65 سال کی عمر کے مرد و خواتین پر سروے کیا، جس کے دوران ماہرین نے رضا۔کاروں کی شادی کی عمر، ان کے بچوں اور ان کی روز مرہ کی زندگی اور کھانے پینے کی عادتوں کو بھی چیک کیا بعد ازاں ان افراد میں ڈمینشیا اور دماغی افعال سمیت دیگر ذہنی مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

رضاکاروں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو غیر شادی شدہ یا پھر طلاق یافتہ بھی تھے اور بعض افراد کے شریک حیات ان سے بچھڑ گئے تھے، تحقیق کے دوران ان افراد میں ڈمینشیا یا دماغی کمزوری کے مسائل زیادہ پائے گئے جن کے پاس شریک حیات نہیں تھے۔ ماہرین نے پایا کہ جن افراد کی شادیاں برقرار ہیں، ان کی ذہنی صحت قدرے بہتر ہے اور وہ دماغی طور پر بھی فعال ہیں۔

تاہم ماہرین نے کہا کہ ایسا بلکل نہیں ہے کہ شادی بڑھتی عمر میں ڈمینشیا سے تحفظ فراہم کرتی ہے لیکن نتائج سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ افراد میں اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات 8 فیصد تک ہوجاتے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ شادی شدہ افراد کس طرح ڈمینشیا سے محفوظ رہنے سمیت دماغی طور پر فعال رہتے ہیں، تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شادی شدہ افراد کے بچے اور خاندان ہوتا ہے، جن سے انہیں تنہائی سے نجات ملتی ہے اور وہ سماجی طور پر بھی متحرک رہتے ہیں اور ممکنہ طور پر اسی وجہ سے وہ دماغی طور پر متحرک رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شادی شدہ افراد جوڑے کی صورت میں ایک دوسرے کو سہارا بھی دیتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی و دماغی صحت بہتر رہتی ہے اور بظاہر وہ جسمانی طور پر بھی اچھے ہوتے ہیں۔

روزانہ6 منٹ کی ورزش الزائمر سے بچائو میں مفید

Back to top button