کیا عمران خان پاکستان سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی ہنگامہ آرائیوں نے پاکستان کے دشمن کا کلیجہ ٹھنڈا اور ہمارا دل زخمی کر دیا جو میرے، آپ کے اور ہم سب کے پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ہمارا کوئی بدترین دشمن ہزار کوششوں کے باوجود نہیں کر سکتا تھا۔

کوئی سیاسی رہنما پاکستان سے زیادہ اہم نہیں، کسی سیاسی جماعت کی اس ملک کے مفاد کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں۔ اپنے ایک کالم میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران خان کی ایک کرپشن کیس میں نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر ایسا کیا ہوا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے جلاو گھیراو کا بازار گرم کر دیا۔ سرکاری اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سب سے خطرناک معاملہ جو دیکھنے کو ملا وہ ان مظاہرین کی طرف سے افواج پاکستان کی اہم ترین عمارتوں اور دفاعی علامتوں پر حملے اور انہیں نقصان پہنچانا تھا۔

مظاہرین پاکستان فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایج کیو کا بیرونی گیٹ توڑ کے اندر داخل ہوئے، لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا، وہاں لوٹ کھسوٹ کرکے عمارت کو آگ لگا دی اور سب کچھ تباہ و برباد کر دیا۔ اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی افواج ِپاکستان اور دفاع پاکستان سے متعلق علامتوں کو آگ لگائی گئی۔ گویا دفاعی ادارے جلاو گھیراو کرنے والے احتجاجیوں کا خاص نشانہ تھے۔

افسوس کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد جیسے ہی احتجاج شروع ہوئے تحریک انصاف کے کسی ایک بھی رہنما نے اپنے ورکروں اور احتجاج کرنے والوں کو تنبیہ نہ کی کہ اُنہیں ہر حال میں پرامن رہنا ہے بلکہ چند ایک رہنما تو کارکنوں کو اشتعال دلاتے نظر آئے۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اپنی گرفتاری سے قبل ایک ٹی وی شو میں جب اسد عمر سے سوال کیا گیا تو اُنہوں نے یہ ماننے سے ہی انکار کر دیا کہ یہ تحریک انصاف کے کارکن ہو سکتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ شرپسندی کرنے والے کوئی اور لوگ ہیں جو یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت کر کے ملبہ تحریک انصاف پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

جیو کے سینئر صحافی اعزاز سید نے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سے پوچھا تھا کہ کیا وہ جلاو گھیراو اور فوج کی اہم ترین عمارتوں اور تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں تو اس پر اُن دونوں نے گول مول جواب دئیے، بعد میں سامنے آنے والی آڈیو لیک سے پتا چلا کہ یہ سب تو پلاننگ کے ساتھ کیا گیا۔ کور کمانڈر لاہور کے گھر پرحملہ تو سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ عمران خان اور تحریک انصاف گزشتہ ایک سال سے فوج کے خلاف نفرت ابھار رہے تھے۔ عمران خان ہمیشہ کہتے رہے کہ وہ تو صرف فوج کے چند افراد کے خلاف ہیں، فوج تو اُن کی اپنی ہے، فوج کمزور ہوئی تو پاکستان کمزور ہو گا بلکہ پاکستان قائم ہی نہیں رہ سکتا۔

کاش کوئی عمران خان  کوان دو دنوںمیں تحریک انصاف کی احتجاج کے نام پرکی جانے والی تباہی و بربادی کی وڈیوز دکھائے، کیسے جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا، کیسے کور کمانڈر ہاوس لاہور کو آگ لگا ئی گئی، کیسے تحریک انصاف کے اسلحہ بردار احتجاجی پشاور میں فائرنگ کرتےرہے ، ائیر فورس کے ایک دفتر کے باہر لڑاکا جہاز کے ماڈل کو آگ لگائی گئی، چاغی کے پہاڑ کے ماڈل کو بھی تباہ و برباد کر دیا، نشان حیدر حاصل کرنے والے ہیروز کی ایک یادگار کو بھی توڑ ڈالا۔

فوج کے خلاف نعرے بازی کی۔ آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ دشمن جو کام 75 سال میں نہ کر سکا وہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاسی گروہ نے کر دکھایا۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھارت میں مٹھایاں بانٹی جا رہی ہیں، اُن کا میڈیا عمران خان کی جماعت کے کارناموں کو خوب مرچ مسالہ لگا کر پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف خوب پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ خان صاحب کی جماعت کی ہنگامہ آرائیوں نے پاکستان کےدشمن کا کلیجہ ٹھنڈا اور ہمارا دل زخمی کر دیا۔

Back to top button