باجوڑ خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 54تک پہنچ گئی

باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کے ورکرز کنونشن میں خودکش دھماکے میں زخمی ہونیوالے مزید 3زخمی دم توڑ گئے،جاں بحق افراد کی تعداد54تک پہنچ گئی۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے دھماکے کے مزید تین زخمیوں کے دم توڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں 90 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، 38 میتیں شناخت کے بعد ورثا اپنے ساتھ لے گئے جب کہ 8 لاشیں ناقابل شناخت ہونے کے باعث اسپتال میں رکھی ہیں۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال میں باجوڑ دھماکے کے 16 زخمی زیرعلاج ہیں جن میں سے بیشترکی حالت تسلی بخش ہے اور ایک زخمی آئی سی یو میں ہے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نذیر خان کا کہنا ہےکہ باجوڑ دھماکے کے بعد تین مشکوک افراد کو حراست میں لیاگیا ہے۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے دھماکا خودکش قرار دیا اور کہاکہ باجوڑ دھماکا خود کش تھا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے میں 10کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جائے وقوعہ سے بال بیئرنگ برآمد ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ ناصر ستی نے بھی بتایاکہ باجوڑ دھماکہ خودکش لگتا ہے، تحقیقات کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام خیبرپختونخوا کے ترجمان عبدالجلیل جان نے بتایاکہ ورکرز کنونشن میں 4 بجے کے قریب مولانا لائق کی تقریرکے دوران دھماکا ہوا۔انہوں نے بتایاکہ ایم این اے مولانا جمال الدین اورسینیٹر عبدالرشید بھی کنونشن میں موجود تھے جبکہ تحصیل خار کے امیرمولانا ضیاء اللہ دھماکے میں جاں بحق ہوئے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ میں ورکرز کنونشن میں دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا اور وزیراعظم، وزیراعلیٰ کے پی سے واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اپیل کی کہ جے یو آئی کے کارکنان اسپتال پہنچ کر خون کے عطیات دیں۔کارکنوں کو تلقین کی کہ جے یو آئی کے کارکن پرامن رہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر سیاسی قائدین نے باجوڑ دھماکے کی شدید مذمت کی۔

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے باجوڑ دھماکے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سےاظہار افسوس کیا اور جاں بحق افراد کیلئے مغفرت اور  زخمیوں کیلئے جلد صحتیابی کی دعا کی۔

اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہاکہ باجوڑ حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، سیاسی جماعتوں پر حملے سے واضح ہے کہ دشمن پاکستان میں جمہوری نظام کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ داران کی نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی، دشمن کے ایسے ہتھکنڈوں کو قوم، قانون نافذ کرنے والے ادارےکبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، پوری قوم شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔وزیراعظم نے زخمیوں کو

تھائی لینڈ،آتشبازی کے سامان کے گودام میں دھماکہ،12 افراد ہلاک

بہترین طبی سہولیات اور ہیلی کاپٹر سے اسپتال پہنچانے کی ہدایت کی۔

Back to top button