بلوچستان بحران: ڈاکٹر مالک بلوچ کی اسلام آباد میں ملاقاتوں کا اصل مقصد کیا؟

بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حالیہ دہشت گرد حملوں اور سیاسی بے یقینی کے ماحول میں سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی قیادت سے مسلسل ملاقاتوں نے صوبے کی سیاست میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ گزشتہ چار روز کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ہونے والی دو اہم ملاقاتوں کے بعد یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا وفاق بلوچستان میں کسی نئی سیاسی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے یا پھر ڈاکٹر مالک بلوچ کو ایک مرتبہ پھر سیاسی مفاہمت اور مذاکراتی عمل میں اہم کردار دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تاہم ڈاکٹر مالک بلوچ نے تمام قیاس آرائیوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارٹی سے مشاورت کے بعد باقاعدہ مؤقف جاری کریں گے۔
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے چار روز کے اندر اسلام آباد میں دو اہم ملاقاتیں کیں۔ پہلے انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس کے بعد انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں نیشنل پارٹی کے پارلیمانی ارکان بھی شریک تھے۔ان ملاقاتوں کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقاتوں کو میڈیا میں غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، اس لیے وہ اپنی جماعت سے مشاورت کے بعد ہی اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری کریں گے۔
خیال رہے کہ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب بلوچستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً ھنہ اوڑک اور زیارت میں مسلح حملوں کے بعد درجنوں افراد اور سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ان واقعات کے خلاف سیاسی جماعتوں اور متاثرہ خاندانوں نے کئی روز تک احتجاجی دھرنے بھی دیے۔ انہی حالات میں ڈاکٹر مالک بلوچ کی اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو ہوا دی، اگرچہ نہ حکومت اور نہ ہی ڈاکٹر مالک بلوچ نے ایسی کسی تبدیلی کی تصدیق یا تردید کی ہے۔
اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو دوبارہ وزیراعلیٰ بلوچستان بنانے یا بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر سے مذاکرات کے لیے اہم ذمہ داری سونپنے پر غور کر سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ملاقات کے دوران بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبے کے عوام کی معاشی ترقی، خوشحالی اور دیرپا امن کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ اس ملاقات میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، سینیٹر جان محمد بلیدی، قومی اسمبلی کے ارکان پولین بلوچ اور جمال شاہ کاکڑ، جبکہ نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملک بھی شریک تھے۔
تاہم نیشنل پارٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں عوام کو حقیقی معنوں میں ووٹ کا حق حاصل نہیں اور عوامی مینڈیٹ کو مسلسل متاثر کیا جاتا رہا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں عوامی رائے کا احترام کریں اور حقیقی سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کی جائے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس موقع پر واضح کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا ہے، جس کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، اعتماد سازی اور سیاسی مفاہمت میں پوشیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ماحول سازگار بنانا، رویوں میں مثبت تبدیلی لانا، اعتماد کی فضا بحال کرنا اور آئین و قانون کی بالادستی یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر قسم کی ماورائے آئین اور ماورائے عدالت کارروائیوں سے گریز کیا جائے تاکہ دیرپا سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے اور جمہوری جدوجہد کا حق دیتا ہے، اس لیے اگر کوئی آئین سے انحراف کرتا ہے تو اس کا حل بھی آئینی طریقہ کار کے اندر موجود ہے۔ ان کے مطابق عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کا احترام ہی جمہوری استحکام کی بنیاد ہے اور انتخابی عمل میں مداخلت یا دھاندلی نہ عوام کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ریاست کے۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے سرحدی تجارت کی بحالی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے، اس لیے اس تجارت کی بندش سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بارڈر ٹریڈ فوری بحال کی جائے اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حالیہ ملاقاتیں بلوچستان کی آئندہ سیاسی سمت کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کے اصل نتائج اور ممکنہ اثرات کا اندازہ آنے والے دنوں میں سامنے آنے والے سرکاری فیصلوں اور نیشنل پارٹی کے باضابطہ مؤقف کے بعد ہی ہو سکے گا۔
