تحریک لبیک پر پابندی کا PMLN کو فائدہ اور PTI کو نقصان


وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کے فیصلے پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا سیاسی فائدہ مسلم لیگ نواز کو ہوگا جبکہ اسکا نقصان تحریک انصاف کو ہو گا کیونکہ 2018 کے الیکشن میں ٹی ایل پی نے نواز لیگ کے ووٹ توڑے تھے جس سے پی ٹی آئی کے امیدوارں کو فائدہ ہوا تھا۔
عمران خان حکومت نے تحریک لبیک کو دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دینے کے بعد اب پولیٹکیل پارٹیز ایکٹ کے تحت بھی اسکے مکمل خاتمے کے لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد لیا گیا۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک الیکشن کمیشن کے ساتھ باقاعدہ طور پر بطور ایک سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے اور 2018 کے الیکشن میں یہ پاکستان کی پانچویں بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تحریک لبیک نے بنیادی طور پر دائیں بازو کا ووٹ توڑا جو ماضی میں نواز لیگ کو پڑتا تھا۔تحریک لبیک کا سیاست میں سفر کوئی طویل سفر تو نہیں لیکن پانچ برسوں کی سیاسی مسافت کے دوران یہ ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک لبیک نے 20 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے حیران کن طور پر پاکستان کی پانچویں بڑی سیاست جماعت اور سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت بننے کا معرکہ سرانجام دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک لبیک کو پزیرائی ملنے کی سب سے بڑی وجہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے الیکشن ایکٹ کا متنازع قانون منظور کروانا بنا اور یہی وجہ رہی کہ ماضی میں پنجاب میں مذہبی رجحان رکھنے والے ووٹر نے مسلم لیگ ن کے بجائے تحریک لبیک کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ 2018 کے الیکشن میں تحریک لبیک کے امیدواروں نے مسلم لیگ ن کا نہ صرف ووٹ بینک توڑا بلکہ درجنوں نشستوں پر نواز لیگ کے امیدواروں کی شکست کا باعث بھی بنے۔ اسکا ثبوت یہ ہے کہ درجنوں سیٹوں پر لیگی امیدواروں کی شکست کا مارجن ٹی ایل پی کے امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں سے کم تھا۔
تحریک لبیک کی سیاسی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے 2018 کے چند حلقوں کی انتخابات پر نظر دوڑائیں تو بڑے بڑے سیاسی برج قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ، سابق وزیر مملکت طلال چوہدی، عابد شیر علی سمیت متعدد لیگی رہنما 2018 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں ناکام رہے اور ان کی شکست کا مارجن چند ہزار ووٹ تھے جبکہ ٹی ایل پی کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹ شکست کے مارجن سے زیادہ تھے۔ حتی کے وزیراعظم عمران خان لاہور کے حلقہ این اے 131 میں سعد رفیق کے مقابلہ اپنی نشست چند سو ووٹوں سے جیتنے میں کامیاب ہوئے جبکہ اس حلقے میں تحریک لبیک کے امیدوار کو 9 ہزار سے زائد ووٹ ملے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن کو گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی 15 سے 20 نشستوں پر تحریک لبیک کی وجہ سے شکست ہوئی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے خیال میں تحریک لبیک پر پابندی کے سیاسی اثرات نواز لیگ کے حق میں اور تحریک انصاف کے خلاف جائیں گے۔ انہوں نے کہا اب تحریک لبیک کا ووٹر تحریک انصاف کا شدید مخالف ہو جائے گا جبکہ پہلے یہ ووٹر اینٹی پی ٹی آئی نہیں بلکہ اینٹی مسلم لیگ ن تھا، اس لیے فوری طور پر حکومتی پابندی کا سیاسی نقصان حکومت کو ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر سیاسی جماعتوں پر جب پابندی لگتی ہے تو وہ اسے کسی نئے نام کے ساتھ رجسٹرڈ کروا لیتے ہیں۔ لہازا اب دیکھنا یہ ہو گا کہ تحریک لبیک کی قیادت خود پر پابندی کے فیصلے کو چیلنج کرتی، نئے نام کے ساتھ خود کو رجسٹرڈ کرواتی ہے یا کسی اور جماعت میں ضم ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر ٹی ایل پی والے نئے نام سے پارٹی رجسٹرڈ کرواتے ہیں تو اسکا ووٹ بینک تو اپنی جگہ قائم رہے گا لیکن وہ ووٹ بینک اگلھ الیکشن میں اینٹی پی ٹی آئی کے طور پر استعمال ہوگا جسکا فائدہ نواز لیگ کو ہو گا۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی بالآخر رہا ہو جانے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور جس طرح ماضی میں حافظ سعید وغیرہ نے مختلف جماعتیں بنائی اور کام کرتے رہے، سعد رضوی بھی وہی طریقہ اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تحریک لبیک کے ووٹرز کے ساتھ بظاہر کوئی دوعری جماعت ہمدردی نہیں کرے گی لیکن حکومتی پابندی کے بعد اب تحریک لبیک کی لڑائی مسلم لیگ ن سے نہیں بلکہ پی ٹی آئی سے ہو گی۔
اس معاملے پر دائیں بازو کے تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں میں ووٹ کے اعتبار سے تحریک لبیک ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور اس پر پابندی لگنے سے یقینی طور پر ملکی سیاست پر اثر تو پڑے گا۔ مجیب الرحمن شامی کے خیال میں حکومت کے لیے ایک چیلنج یہ بھی ہوگا کہ تحریک لبیک کو دہشت گرد تنظیم ثابت کرے، ویسے بھی یہ معاملہ اب عدالت میں جائے گا اور حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے، لہازا یہ دیکھنا ہوگا کہ اب حکومت عدالت میں ایسا ثابت کرپاتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک انفرادی طور پر کوئی بڑی سیاسی طاقت تو نہیں تھی لیکن انتخابی نتائج پر کافی حد تک اثر انداز ہوتی رہی ہے۔ انکامکہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی اسمبلیوں میں تو کوئی خاصی تعداد نہیں ہے لیکن یہ کسی بھی انتخاب میں حمایت یا مخالفت کر کے انتخابی نتائج متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیسے اس نے گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو متاثر کر کے ثابت کیا۔ شامی صاحب کے خیال میں تحریک لبیک کے ووٹر ماضی میں مسلم لیگ ن کے ووٹرز رہے ہیں، اب دیکھنا ہوگا کہ تحریک لبیک کا ووٹ بینک تحریک انصاف کی مخالفت میں استعمال ہوتا ہے یا کسی کے حق میں استعمال ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button