بزدار نے 40 ماہ میں ڈی جی خان کے دس کمشنر بدل دیے

پنجاب کے نااہل ترین وزیر اعلی کا اعزاز رکھنے والے عثمان بزار کی کنفیوژڈ فیصلہ سازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے گذشتہ ساڑھے تین برس میں اپنے آبائی شہر ڈیرہ غازی خان کے دس کمشنرز کو تبدیل کیا ہے اور پھر بھی ان کی تسلی نہیں ہو پائی۔ یوں بزدار کی اپنی ڈی جی خان ڈویژن میں کمشنر کا عہدہ میوزیکل چیئر بن گیا ہے۔
ناقدین کا کہنا یے کہ بزدار حکومت کی جانب سے پچھلے 40 ماہ کے اقتدار کے دوران راولپنڈی اور لاہور میں چھ چھ کمشنرز اور گجرانوالہ میں سات کمشنرز تبدیل کرکے اچھی طرز حکمرانی کو ثابت کرنے میں کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ انہوں اپنے آبائی شہر ڈیرہ غازی خان کے دس کمشنرز کو بدل کر پوری کر دی۔
روزنامہ جنگ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 40 ماہ میں ڈیرہ غازی خان کے ہر کمشنر کے عہدے کی اوسط معیاد صرف چار ماہ رہی، یہ تین سے چار سال کی مطلوبہ معیاد کے برعکس ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں چالیس ماہ کے عرصے میں دس کمشنرز کو تبدیل کرنے کا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا لیکن وزیراعظم عمران خان کے وسیم اکرم پلس نے اپنے ہی ڈویژن میں یہ کام کر دکھایا ہے۔
پچھلے 40 مہینوں میں جن دس کمشنرز کو ڈی جی خان سے تبدیل کیا گیا ہے ان کے نام یہ ہیں: رانا گلزار (اکتوبر 2018)، طاہر خورشید (اپریل 2019)، اسد اللہ فیض (جولائی 2019)، مدثر ریاض ملک (نومبر 2019)، نسیم صادق (اپریل 2020)، ساجد ظفر (اکتوبر 2020)، ڈاکٹر ارشاد احمد (اگست 2021)، سارہ اسلم (نومبر 2021)، ذیشان لاشاری (دسمبر 2021) اور لیاقت چٹھہ (دسمبر 2021)۔ یاد رہے کہ ان افسران کو کمشنر کے عہدے پر لگانے سے قبل وزیراعلیٰ بزدار نے خود ان کا انٹرویو کر کے پاس کیا تھا۔
بیوروکریسی کے ذرائع کا کہنا یے کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کو پاکستان میں گورننس کا اہم انتظامی یونٹ سمجھا جاتا ہے۔ کمشنر ڈویژنل لیول پر حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے اور صوبائی دارالحکومت سے دور ہے۔
تمام صوبائی محکموں کی نگرانی کرنا اور تمام ڈپٹی کمشنرز کی اے سی آرز لکھنا اور اسسٹنٹ کمشنرز دیگر صوبائی محکموں کے سربراہان کی اے سی آرز پر کائونٹر سائن کرنا کمشنرز کی ذمہ داری میں آتا ہے۔ وہ کچھ اہم وفاقی اداروں کی نگرانی کا کام بھی کرتے ہیں۔ پنجاب میں انتظامی لحاظ سے 9؍ ڈویژنیں ہیں جن میں راولپنڈی، گجرانوالہ، سرگودھا، لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، فیصل آباد اور ڈی جی خان شامل ہیں۔
یاد رہے کہ انتظامی اور سیکورٹی نقطہ نظر سے ڈی جی خان اہم ڈویژن ہے۔ اس میں مظفرگڑھ، راجن پور، لیہ اور ڈی جی خان ضلع آتے ہیں۔ اس کی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور کے پی سے ملتی ہیں اور اس میں راجن پور اور ڈی جی خان کا کچھ قبائلی علاقہ بھی شامل ہے جو ڈی جی خان کے کمشنر کی براہِ راست ذمہ داری میں شامل ہیں
جو بلوچ ملٹری پولیس کو کنٹرول کرتے ہیں۔یہ وہ ملیشیا ہے جو ڈی جی خان کے قبائلی علاقے کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس ملیشیا کے اثر رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچ ملٹری پولیس میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار ’’لیویز حوالدار‘‘ ہیں۔
ایک سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ اس ڈویژن میں کئی اہم سیکورٹی تنصیبات موجود ہیں اور یہاں توانائی سے جڑا انفرا اسٹرکچر اور انڈس ہائی وے بھی موجود ہے جو ملک کے شمالی ریجن کو کراچی سے جوڑتی ہے اور یہ شاہراہ ڈی جی خان سے ہو کر گزرتی ہے۔
پی ڈی ایم کا لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ
سیکورٹی کے لحاظ سے یہ ڈویژن فرنٹ لائن پر ہے کیونکہ یہ بلوچستان، کے پی کے قبائلی علاقہ جات سے جڑی ہے جبکہ مقامی سطح پر امن عامہ کی صورتحال بھی پر خطر ہے کیونکہ یہاں کئی جرائم پیشہ گینگز موجود ہیں۔ ایک سرکاری ذریعے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حساس انتظامی ریجن میں عدم استحکام کیلئے آخری حربہ انتظامی عدم استحکام ہو سکتا ہے۔ اس خطے میں ترقی کا فقدان ہے اور یہاں کے لوگ پنجاب کے غریب ترین عوام ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کے کلچر پر سردار نظام کا غلبہ ہے اور یہ علاقہ خطرناک حد تک جاگیر دارانہ طرز کا ہے، اس کلچر میں موثر، غیر جانبدار اور پیشہ ور سرکاری ملازمین ہی مقامی عوام کی آخری امید ہیں۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ جاگیردار سردار کے غلبے میں پی ٹی آئی کی حکومت نے ڈی جی خان ڈویژن میں اہم ترین سرکاری عہدے کو مضحکہ خیز اور راستے کا پتھر بنا کر رکھ دیا ہے۔
کئی بیوروکریٹس کیلئے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبائی حکومت کو ساڑھے تین سال میں ایسا کوئی قابل افسر نہیں ملا جو وزیراعلیٰ کے اپنے آبائی شہر کی اہم ترین انتظامی ذمہ داری کو سنبھال سکے۔ ان کے خیال میں مسئلہ کمشنر بدلنے سے نہیں بلکہ وزیراعلی بدلنے سے حل ہوگا۔
