بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش بارے نئے انکشاف

پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے بعد ملک چھوڑ کر ہالینڈ جا بسنے والے پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے والے برطانوی نژاد پاکستانی گوہر خان نے انکشاف کیا ہے کہ اسے جس خفیہ ایجنسی نے مڈل مین مزمل قمر کے ذریعے واردات کے لیے آمادہ کیا وہ پاکستان میں مقیم ان کا ایک پرانا دوست ہے۔

لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ میں زیر سماعت قتل سازش کیس میں گرفتار مرکزی ملزم گوہر خان نے اس مڈل مین سے اپنے تعلقات کے بارے میں ثبوت پیش کر دیے ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے اپنے دلائل مکمل کیے اور مطلوبہ ہدف وقاص گورایا کی گواہی بھی پڑھی گئی۔ سماعت 31 سالہ مدعا علیہ محمد گوہر خان سے وکیل دفاع کی جرح کے کچھ ہی دیر بعد ملتوی کر دی گئی۔ گوہرخان نے کہا کہ وہ مڈل مین، مزمل عرف مدز، زیڈ یا پاپا کو پاکستان میں اپنے اسکول کے دنوں سے ہی جانتا تھا۔ کیس کی گزشتہ سماعتوں میں جیوری کو بتایا گیا تھا کہ کس طرح مزمل نے سال 2021 میں گوہر خان کے لیے 80 ہزار پاؤنڈز اور خود اپنے لیے 20 ہزار پاؤنڈز کی پیشکش کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ مزمل کس کے لیے کام کر رہا تھا، لیکن اس بات کا ثبوت عدالت میں پیش کیا گیا ہے کہ 5 ہزار پاؤنڈ پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں ادا کیے گئے جو لندن میں ہنڈی ٹرانسفر کے ذریعے گوہر خان نے وصول کیے گئے۔

اگرچہ گوہر خان کی پیدائش اور زیادہ تر پرورش برطانیہ میں ہوئی لیکن وہ 13 سال کی عمر میں اسکول جانے کے لیے لاہور چلا گیا اور شریف ایجوکیشن کمپلیکس لاہور میں بورڈنگ کے طالب علم کے طور پر قیام پذیر رہا۔ سال 2007 میں وہ فائنل امتحان دیے بغیر لندن واپس آ گیا۔ گوہر خان چھ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہے اور سب سب سے چھوٹا ہے۔ اس کے والدین ستر کی دہائی میں پاکستان سے برطانیہ منتقل ہو گئےتھے۔

گوہر خان لندن میں پیدا ہوا اور پوری زندگی اپنے فاریسٹ گیٹ ایڈریس پر گزاری، وہ شادی شدہ ہونے کے ساتھ 3 سے 11 سال تک کی عمر کے 6 بچوں کا والد بھی ہے جن کا پیٹ بھرنے کے لیے اس نے کرائے کا قاتل بننے کا فیصلہ کیا۔

جنرل باجوہ کو توسیع نہ ملی تو اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟

گوہر خان نے عدالت میں بتایا کہ شروع میں وہ لندن میں اپنے چچا کے ساتھ کام کرتا تھا جو وائٹ چیپل میں ایک بازار کے اسٹال پر کام کرتے تھے اور وہاں وہ خواتین کے کپڑے اور لوازمات فروخت کرتے تھے۔ بعد ازاں وہ اپنے دوست چچا کے ساتھ حج اور عمرہ پیکجوں میں مہارت رکھنے والی ٹریول ایجنسی میں کام کرنے لگا۔

گوہر خان نے بتایا کہ کچھ ہی عرصے بعد اس نے اپنے والد کے کاروبار، ورلڈ وائیڈ کارگو سروسز کے لیے کام کرنا شروع کر دیا جو کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان سامان منتقل کرتا ہے۔ گوہر نے کہا کہ خاندانی کاروبار میں اسکی شمولیت نے اسے ترقی اور کامیابی دی۔ اس نے بتایا کہ برطانیہ اور یورپ میں پی ٹی وی کے ساتھ اشتہارات کے علاوہ گوگل کے اشتہارات نے اسکے کام کو فروغ دیا لیکن بعد میں وی بری طرح زوال کا شکار ہوگیا۔

جب وکیل دفاع نے گوہر خان سے پوچھا کہ اسے احمد وقاص گورایہ کے قتل کے لیے مڈل مین کا کردار ادا کرنے والے مزمل عرف پاپا کے بارے کیسے پتہ چلا تو گوہر خان نے کہا کہ وہ اسے تب ملا جب وہ اسکول کی چھٹیوں میں لاہور میں اپنے خاندانی گھر جایا کرتا تھا۔ گوہر نے کہا کہ مزمل کو لمبے ‘قد کی وجہ سے’ پاپا کا لقب دیا گیا تھا جب کہ اسے ‘چھوٹے، گنجے اور موٹے’ کہہ کر پکارا جاتا تھا، اس نے کہا کہ اسکا عرفی نام معروف کارٹون سیریز پاپا اسمرف کے نام پر رکھا گیا تھا۔

گوہر خان نے کہا کہ وہ اپنے اسکول کے دنوں میں مزمل کو اچھی طرح نہیں جانتا تھا لیکن جب وہ سکول کی تعطیلات کے دوران اپنے چچا کے گھر جاتا، تب اسکی مزمل سے ملاقات ہوتی۔ پولیس سے اپنے انٹرویوز میں، جو استغاثہ نے عدالت میں پڑھ کر سنایا، شروع میں گوہر خان نے کہا کہ اسے مزمل کا آخری نام یاد نہیں لیکن بعد میں کہا کہ شاید اسکا پورا نام مزمل قمر ہے۔

Back to top button