نور مقدم قتل کیس کے متعلق آئی جی اسلام آباد کو بریفنگ

نور مقدم قتل کیس کے متعلق آئی جی اسلام آباد کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، آئی جی کی زیر صدارت اجلاس کے دوران اعلامیے کے مطابق تفتیشی افسر سے جرح پربریفنگ لی گئی۔
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ کیس کی کارروائی پر میڈیا میں ابہام اور اعتراضات آئے جنہیں دورکرنا ضروری ہے۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کی پینٹ پر خون نہیں لگا تھا، یہاں پریہ وضاحت ضروری ہے کہ ملزم کی قمیض پرمقتولہ کے خون کے نشانات پائے گئے، فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزم کی شرٹ پر ملزم اور مقتولہ کا ڈی این اے پایا گیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق چاقو پر ملزم کے فنگر پرنٹس نہیں پائے گئے، چاقو جو جائے وقوعہ سے قبضے میں لیا گیا اور اس کا پارسل فارنزک ایجنسی نے تیارکیا، البتہ اس پرمقتولہ کا ڈی این اے پایا گیا، نورمقدم کا فوٹوگرامیٹرک ٹیسٹ کروایا گیا؟ اس کا جواب تفتیشی افسر نے نہیں میں دیا۔
مسلمان ہونے کی وجہ سے وزارت سے ہٹایا گیا
کیس میں ملزم کا فوٹوگرامیٹرک ٹیسٹ کروایا گیا جو کہ مثبت آیا، اس وقوعے کے بعد ملزم نے کافی شہادتیں ضائع کرنے کی کوشش کی، اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق نور مقدم کو قتل کرنے سے پہلے اس سے زیادتی کی گئی، مقتولہ نے قتل سے قبل اپنی جان بچانے کی ہرممکن کوشش کی، ملزم ظاہر جعفرکا ڈی این اے اس کی جلد کی صورت میں مقتولہ کے ناخنوں میں پایا گیا، ملزم کی قمیض پر مقتولہ کا خون موجود تھا، اس کی تصدیق ڈی این اے رپورٹ نے بھی کی۔
