کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر سکتی ہے؟

کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پاکستانی ٹیم کو افغانستان کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی مداح مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں، سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے ٹیم کی جلد واپسی کی پیشگوئی کر دی ہے لیکن پاکستانی ٹیم ابھی بھی میگا ایونٹ میں کم بیک کرتے ہوئے سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔پاکستانی ٹیم کے لیے ناک آؤٹ تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شاہینوں نے نیدرلینڈز اور سری لنکا کے خلاف جیت کے ساتھ اچھی شروعات کی، لیکن پھر انڈیا، آسٹریلیا اور اب افغانستان سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، چنئی کے چدم برم سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جس کے بعد گرین شرٹس نے مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 282 رنز بنائے، افغانستان نے پاکستان کی جانب سے دیا گیا 283 رنز کا ہدف 49 ویں اوور میں حاصل کرلیا، پاکستان کے باقی میچز جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہیں، چار حریفوں میں سے کم از کم تین آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مراحل میں جگہ کے لیے مدمقابل ہوں گے۔یہاں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ پوانٹس ٹیبل پر پاکستان سے بہتر پوزیشن پر ہیں، انگلینڈ ٹیبل میں سب سے نیچے ہے، جبکہ پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔
پاکستان سے اوپر آسٹریلیا 4 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی اور جنوبی افریقہ 6 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن پر ہے۔اگر پاکستان گروپ مرحلے میں اپنے بقیہ میچز جیت بھی جاتا ہے، تب بھی وہ 12 پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہوگا، انڈیا اور نیوزی لینڈ کے پہلے ہی بالترتیب 10 اور آٹھ پوائنٹس ہیں، انگلینڈ اور بنگلہ دیش کو شکست دینے سے وہ اہلیت کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے، لیکن پھر بھی انہیں آسٹریلیا کے نتائج پر انحصار کرنا پڑے گا۔اگر پاکستان باقی تمام میچ جیت جائے اور پھر نیوزی لینڈ کم از کم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سے ہارے۔ پھر ان کے پانچ میچز جیتنے کے بعد 10 پوائنٹس ہوں گے اور پاکستان چھ میچ جیتنے کے بعد 12 پوائنٹس حاصل کر پائے گا۔اگر پاکستان اپنے باقی تمام میچ جیت جائے اور پھر جنوبی افریقہ کم از کم انڈیا اور نیوزی لینڈ سے ہارے۔ اس صورت میں جنوبی افریقہ کے پانچ میچز جیتنے کے بعد 10 پوائنٹس ہوں گے اور پاکستان چھ میچ جیتنے کے بعد 12 پوائنٹس حاصل کر پائے گا، صورتیں مزید بھی ہیں لیکن پیچیدگیوں کے باعث ان پر انحصار کرنا اور قیاس آرائی کرنا غیر مناسب عمل ظاہر ہوتا ہے، پاکستان اپنے گروپ مرحلے کے اختتام پر زیادہ سے زیادہ 12 پوائنٹس تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، 2019 کے ورلڈ کپ میں جو کچھ ہوا اسے دیکھتے ہوئے، کسی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے 12 پوائنٹس کافی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان
آسٹریلوی بلے باز میکسویل کا تیز ترین سنچری کا ریکارڈ
یہاں سے کوئی غلطی نہیں کر سکتا۔
