اب کپتان خودکش حملہ کرے تو ہی موجودہ سسٹم گرے گا

معروف لکھاری اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ منی بجٹ کے معاملے پر حکومت کے ہاتھوں اپوزیشن کی حالیہ شکست کے بعد ان ہاؤس تبدیلی کے غبارے سے بھی ہوا نکل چکی ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کی باگ ڈور نہ تو حکومت کے ہاتھ میں ہے اور نہ اپوزیشن کے۔ انکا کہنا یے کہ آج کی پارلیمنٹ اسٹیٹس کو اور اسے برقرار رکھنے والی قوتوں کے ہاتھ میں ہے لہذا ابھی فوری تبدیلی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ انخے مطابق، سسٹم کو ابھی اندر سے ممکنہ خطرہ نہیں، سوائے اس کے کہ اقتدار سے نکالے جانے پر خطرناک ثابت ہونے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان کوئی خود کش حملہ نہ کر بیٹھیں اور اپنے ساتھ سسٹم کو بھی لے بیٹھیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ریاستِ مدینہ کا روحانی خواب دکھانے والے وزیراعظم اب دلاسہ دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ریاستِ مدینہ کا حال بھی پہلے پانچ برسوں میں۔پاکستان جیسا ہی برا تھا۔ ایسے میں بے پر کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج ان کے فیک بیانیے کو بیچے بھی تو کیسے جو ایک دھیلے کا بھی نہیں رہس۔ ایک جمہوری طور پر فیک حکومت، اپنے فیک بیانیے اور فیک اخلاقی جواز کی بیساکھیوں کے سہارے وقت گزاری نہ کرے تو کرے بھی کیا، کہ اس کے پاس ماسوائے اپوزیشن کو کوستے رہنے کے اور کچھ ہے بھی نہیں۔

لیکن بقول امتیاز عالم، پلے اپوزیشن کے بھی کچھ نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہ محتسبوں کے پلے بھی کچھ نہ پڑا اور حزب اختلاف کی قد آور قیادت اب احتساب کے شکنجے سے صاف بچ نکلتی نظر آرہی ہے، اپوزیشن کو خود اپوزیشن مات دینے پہ تُلی بیٹھی ہے۔ جس طرح سینیٹ میں اسٹیٹ بینک کی ’’خود مختاری‘‘ کے بل پر نام نہاد اکثریتی متحدہ اپوزیشن کو شکست ہوئی اُس پر تو شرمندگی چھپائے نہیں چھپتی۔ قائد حزبِ اختلاف یوسف رضا گیلانی سمیت اپوزیشن کے 8 اراکین غیر حاضر پائے گئے، معلوم نہیں کس کے فون پر۔

حکومت کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے فیصلہ کن ووٹ کے ساتھ 43 ووٹ اور حزبِ اختلاف کو 42 ووٹ پڑے۔ اس پر اب ماتم کیسا؟ ایسے میں امتیاز عالم سوال کرتے ہیں کہ کیا یوسف رضا گیلانی میں رتی بھر اخلاقی جرأت ہے کہ وہ ایسے منصب سے دستبردار ہوجائیں جس کے وہ پہلے بھی اہل نہ تھے۔ سینیٹ میں اپوزیشن کی اس خود شکستگی کے بعد تو ان ہائوس تبدیلیوں کے غبارے سے ہوا نکل جانی چاہیے۔ ویسے بھی ان ہائوس تبدیلیوں کی باگ ڈور حکومت کے ہاتھ میں ہے نہ اپوزیشن کے۔

جس سرعت سے پارلیمنٹ سے درجنوں بل بمعہ منی بجٹ منظور کروائے گئے ہیں، اس کے بعد کیا اُمید رہ جاتی ہے؟ بقول امتیاز، ہم تیسری پارلیمنٹ کے آخری برس کے ایسے دور میں ہیں جہاں اسٹیٹس کو، اسٹیٹس کو برقرار رکھنے والی قوتوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔ حزبِ اختلاف کی صفوں میں ان ہائوس تبدیلی کے محرکین کی تمام تر اُمیدیں تو صفحہ پلٹنے سے وابستہ تھیں جو ظاہر ہے برنہ آئیں۔ ان ہائوس تبدیلیوں کے غبارے سے ہوا نکلنے پر اب پیپلزپارٹی اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ طوعاً و کرہاً سڑکوں پہ ایجی ٹیشن کی راہ لیتی نظر آئیں گی۔

یہ مرحلہ غالباً سیاسی تعطل یا سٹیلمیٹ کا ہے۔ حکومت ہے کہ چل نہیں رہی اور حزب اختلاف ہے کہ مخمصے سے دوچار ہے۔ اور وہ مخمصہ یہ ہے کہ سیاست مقتدرہ سے مل کر کھیلی جائے یا پھر عوامی قوت کے بل پر۔ اس پر مسلم لیگ نواز بھی منقسم ہے اور پیپلزپارٹی بھی۔ نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان ڈائریکٹ ایکشن کی جانب چلتے ہیں تو شہباز شریف اور لیگی شرفا پائوں پڑ جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو بے نظیر سیاست کی راہ لیتے ہیں تو شفقت پدری آڑے آجاتی ہے کہ مزید شہادتوں کی سکت نہیں۔

چین کو پاکستان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے اعتراض نہیں

لہٰذا، اپوزیشن کی ہر دو جماعتیں اپنی اندرونی کمزوریوں کی گرفت میں آجاتی ہیں۔ جس عطار کے لونڈے سے دوا مل سکتی ہے، اُس سے ابھی دوا مل نہیں رہی اور ملے بھی تو اُسی پرانی تنخواہ پہ سیاسی چاکری باعثِ ندامت ہے۔

امتیاز عالم کا کہنا یے کہ بحران پہلے ہی اتنا گونا گوں ہے کہ ہمارے ناخدا کیوں بے یقینی کے حالات میں ایک اور سیاسی بحران کا درد سر لیں گے؟ سسٹم کو ابھی اندر سے ممکنہ خطرہ نہیں، سوائے اس کے کہ اقتدار سے نکالے جانے پر خطرناک ثابت ہونے کا دعویٰ کرنے والے خود کش حملہ نہ کر بیٹھیں اور اپنے ساتھ ساتھ سسٹم کو بھی لے بیٹھیں۔

ویسے بھی بااصول جمہوری سیاست کو ایسی کیا جلدی پڑی ہے؟ اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کے ملبے کی مصیبت اپنے سر لے۔ سیاسی بدقسمتی یہ ہے کہ تحریک انصاف سمیت اسٹیٹس کو کی تمام جماعتیں بشمول ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے پاس ملک کو درپیش ہمہ گیر بحران اور ملک کو وجودی بھنور سے نکالنے کا کوئی متبادل پروگرام نہیں۔ نہ ہی ان جماعتوں کے پاس ایسی عوامی قوت متحرکہ ہے جو اسٹیٹس کو کو بدل دے۔

امتیاز کے بقول ’’فقط ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے سے آپ سیاسی اقتدار اعلیٰ کی آئینی کایا پلٹ نہیں سکتے، نہ ہی پرانے گھسے پٹے دست نگری و پسماندگی کے نسخوں سے آپ ملک کی معاشی سلامتی اور انسانی سلامتی کو یقینی بناسکتے ہیں۔ بطور ریاست پاکستان کو ہر اعتبار سے ایک سیاسی، معاشی اور سماجی کایا پلٹ کی ضرورت ہے جس کی پشت پر ایک عظیم عوامی جمہوری تحریک ہو۔

تبھی کچھ ہوسکتا ہے۔ لیکن اپوزیشن کے پاس نہ کوئی متبادل ایجنڈا ہے، نہ عوامی سکت۔ ایسے میں روکھی سوکھی سیاست پر گزارا کرنے والے پارلیمنٹ کو اپنی فطری موت کی طرف بڑھنے کا انتظار کیوں نہیں کرتے۔ آزادانہ، منصفانہ انتخابات کے ذریعے رائے دہندگان کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیئے، نہ کہ صدارتی نظام کا راگ الاپنے والوں کو سازش کا ایک اور موقع دیا جائے۔

Back to top button