اسلام آباد ایئرپورٹ متحدہ عرب امارات کو دینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عوام کیلئے معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئےاسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظامی اختیارات متحدہ عرب امارات کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے جہاں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مسافروں کو امیگریشن کی تیز رفتار سہولیات میسر آئیں گی وہیں بیگیج ہینڈلنگ میں بھی شفافیت آئے گی جبکہ اس فیصلے سے ٹرمینل کے اندر صفائی اور سہولتوں میں بہتری کی بھی امید کی جا رہی ہے۔ یو اے ای سے معاہدے کے بعدمسافر اسلام اآباد ائیر پورٹ پر بین الاقوامی معیار کی کسٹمر سروس، ڈیوٹی فری شاپس، ریٹیل آؤٹ لیٹس اور فیملی فرینڈلی سہولیات سے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ ساتھ ہی پروازوں کی بروقت روانگی اور سامان کی ترسیل میں درپیش مسائل میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظامی معاملات متحدہ عرب امارات کے سپرد کرنے کی تمام کارروائی دونوں ممالک کے درمیان بین الحکومتی یعنی جی ٹو جی معاہدے کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی معاشی اصلاحات اور نجکاری پالیسی میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ذریعے حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور قومی ایئرپورٹس کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے باوجود سکیورٹی اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے تمام اختیارات سول ایوی ایشن اتھارٹی ہی کے پاس رہیں گے۔ حکام کے مطابق لینڈنگ اور ٹیک آف کے تمام معاملات، نیویگیشن سسٹم اور ایئرپورٹ کے اثاثوں کی ملکیت پاکستان کی ریاست کے پاس ہی رہے گی۔ 20 سالہ معاہدے کے اختتام پر جو بھی نئی سہولیات یا اثاثے کمپنی فراہم کرے گی وہ حکومت پاکستان کی ملکیت بن جائیں گے اور کمپنی خالی ہاتھ واپس جائے گی۔سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فی الحال پاکستان کو اپنے ہوائی اڈوں سے سالانہ تقریباً 30 ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے لیکن چونکہ مجوزہ معاہدہ ڈالرز میں طے کیا جائے گا، اس لیے توقع ہے کہ اس سے قومی خزانے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا جبکہ یہ معاہدہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھائے گا اور ملک میں مزید بین الاقوامی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گا۔
حکومت کی جانب سے اسلام آباد ائیرپورٹ کے انتظامی امور متحدہ عرب امارات کے سپرد کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب 2018 میں ایک ارب دالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا اسلام آباد ایئرپورٹ ناقص سہولیات اور انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی حکومت نے سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے عالمی ٹینڈر کے ذریعے ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کی کوشش کی تھی مگر سرمایہ کاری کے مطلوبہ نتائج سامنے نہ آنے پر یہ راستہ ترک کر دیا تھا۔ تاہم اب حکومت نے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ماڈل کے تحت یہ ذمہ داری امارات کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایک تجربہ کار اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ آپریٹر ایئرپورٹ کے معاملات کو زیادہ مؤثر انداز میں چلا سکے۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای انتظامیہ کے اسلام اآباد ائیرپورٹ کے انتظامات سنبھالنے کے بعد قطاروں میں کمی، خودکار چیک اِن سسٹمز، جدید سکیورٹی اسکینرز، بروقت فلائٹ اپ ڈیٹس، اور سامان کی بروقت کلیم جیسی سہولیات مسافروں کے سفر کو مزید سہل بنادیں گی۔ ایئرپورٹ کے اندر بین الاقوامی معیار کی ریٹیل اور ڈائننگ آپشنز، بہتر لاؤنچز اور فیملی فرینڈلی سہولیات پاکستان کے دارالحکومت کے گیٹ وے کو ایک جدید عالمی ایئرپورٹ کا روپ دے دیں گی۔ یہ سب تبدیلیاں نہ صرف مسافروں کے اعتماد میں اضافہ کریں گی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کے لیے بھی پاکستان کو ایک پرکشش منزل ثابت کریں گی۔ ماہرین کے بقول مفاشی لحاظ سے بھی یہ معاہدہ نمایاں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس معاہدے سے جہاں ایئرپورٹ کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا وہیں نان ایرو ریونیویعنی پارکنگ، ریٹیل اور رینٹل اسپیس سے آمدن میں بہتری، اور کمرشل ری ڈویلپمنٹ کے ذریعے نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے جو مستقبل میں لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر کے دیگر شعبوں میں بھی وسعت پا سکتے ہیں۔
