گنہگار قرار پانے کے بعد گوگی بٹ کو جان کے لالے کیوں پڑ گئے؟

پولیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے امیر بالاج ٹیپو قتل کیس میں گنہگار قرار دیے جانے کے بعد خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں اور اس نے احسن شاہ کی طرح جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔پولیس کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق گوگی بٹ نے اپنے بھائی طیفی بٹ کے ساتھ مل کر امیر بالاج ٹیپو کو قتل کرانے کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ امیر بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ سے آخری وقت تک رابطے میں رہا۔ یاد رہے کہ گوگی بٹ ٹیپو خاندان کے تمام سابقہ قتل کیسز میں بھی نامزد ملزم رہا ہے۔ بالاج کے قتل کے بعد مرکزی ملزم طیفی بٹ لندن فرار ہو گیا تھا جبکہ گوگی بٹ سندھ فرار ہو گیا تھا۔ اب گوگی بٹ واپس لاہور آ چکا یے اور 15 ستمبر تک ضمانت پر ہے جبکہ طیفی بٹ ابھی تک لندن میں ہے۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی آئندہ پیشی پر عدالت سے گوگی بٹ کی ضمانت خارج کرانے کی استدعا کرے گی تاکہ اس کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا سکے۔ تاہم گوگی بٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس اس کو گرفتار کرنے کی بعد بالاج قتل کیس کے نامزد ملزم احسن شاہ کی طرح جعلی مقابلے میں پار کر دے گی۔ احسن شاہ پر الزام ہے کہ اس نے طیفی بٹ سے پیسے لے کر غداری کی اور اپنے دوست بالاج ٹیپو کی نقل و حرکت کی مخبری کی جس کے نتیجے میں وہ قتل ہو گیا۔

یاد رہے کہ امیر بالاج ٹیپو کو 18 فروری 2024 کو ایک شادی کی تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ لاہور پولیس کے مطابق ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج ٹیپو ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال بلا کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شریک تھا۔ تقریب کے دوران کیمرا مین کا روپ دھارے ہوئے ایک کرائے کے قاتل نے بالاج پر فائرنگ کر دی جس سے وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ بالاج ٹیپوکے محافظوں کی فائرنگ سے حملہ آور بھی موقع پر مارا گیا تھا۔ بعدازاں تفتیش کے دوران پولیس نے بالاج کے قریبی دوست احسن شاہ کو  بلاج کی نقل و حرکت کے حوالے سے طیفی بٹ اور گوگی بٹ کو خفیہ معلومات دینے پر گرفتار کر لیا تھا، بعدازاں ملزم احسن شاہ کو اگست 2024 میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ احسن شاہ نے اپنی موت سے پہلے ایک ملاقات کے دوران اپنی ماں کو بتا دیا تھا کہ پولیس نے اسے جعلی مقابلے میں مارنے کا منصوبہ بنایا ہے۔امیر بالاج کے قتل کے بعد اس کے ساتھیوں نے طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کو بھی لاہور میں قتل کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ لاہور کے دو انڈر ورلڈ ڈانز خواجہ گلشن الیاس عرف طیفی بٹ اور مقتول امیر عارف عرف ٹیپو ٹرکاں والا کے درمیان دشمنی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس دشمنی میں ایک جانب ٹیپو ٹرکاں والا کا خاندان ہے تو دوسری جانب طیفی اور گوگی بٹ نامی کردار ہیں۔ اندرون لاہور کے سرکلر روڈ کے باسی ’ٹرکاں والا‘ خاندان سے تعلق رکھنے والے امیر بالاج ٹیپو کو فروری 2024 میں اس وقت گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنے روایتی حفاظتی حصار کے ساتھ لاہور کے ایک پوش علاقے کی نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں اپنے ایک دوست کی شادی کی تقریب میں شریک تھے۔

بالاج کے بھائی امیر مصعب نے قتل کا الزام خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ اور خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ پر عائد کیا تھا۔ لہازا طیفی بٹ کے بیرون ملک فرار کے بعد ان کے بہنوئی جاوید بٹ کو قتل کر کے بدلہ لیا گیا۔ جاوید بٹ دراصل طیفی اور گوگی بٹ کے بہنوئی ہونے کے علاوہ ان کے تمام مالی معاملات بھی دیکھتے تھے۔

Back to top button