کیا طالبان جنگجو اسلام آباد کے بعد لاہور بھی پہنچ گئے؟

ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل تنظیم تحریک طالبان نے کپتان حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے پہلے اسلام آباد میں پولیس والوں پر حملہ کیا اور اب لاہور کے انارکلی بازار میں خوفناک بم دھماکا کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے حکومت کو اپنی شرائط پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے بعد اب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو بھی نشانہ پر رکھ لیا ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم کے ذمہ دار ادارے طالبان کی دہشت گردی روکنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
یاد رہے کے لاہور میں ہونے والے 20 جنوری کے دھماکے سے دو روز پہلے 17جنوری کو تحریک طالبان پاکستان نے اسلام آباد میں ایک پولیس والے کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی جس کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید یہ بیان داغ کر اپنی ذمہ داری سے مبرا ہو گے تھے کہ طالبان اب اسلام آباد پہنچ گئے پولیس اہلکاروں پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ایک اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ خیال رہے کہ طالبان پاکستانی سکیورٹی فورسز کو ایک عرصے سے نشانہ بنا رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں دارالحکومت اسلام آباد نسبت زیادہ پرامن رہا ہے۔ 17 جنوری کو موٹرسائیکل پر سوار دو عسکریت پسندوں نے شہر میں گشت کرنے والے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی رھی۔ اس واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ پولیس نے فائرنگ کر کے دونوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ تاہم انہوں نے واقعے کے حوالے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی نے بیان جاری کر کے پولیس اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور ایسے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی تھی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نعیم اقبال نے بتایا تھا کہ ’دہشت گرد حملے کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مستقبل میں پولیس اہلکاروں پر حملے روکنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال دارالحکومت اسلام آباد میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں 55 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ اقبال کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی مجموعی صورت حال قابو میں ہے۔
تاہم اس واقعے کے تیسرے روز 20 جنوری کو لاہور کے انارکلی بازار کے قریب پان منڈی میں بھی ایک خوفناک دھماکہ کر دیا گیا جو ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا تھا۔اس دھماکے میں اب تک تین لوگوں کے جان بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے بعد اب پاکستان اور پنجاب کے دارالحکومتوں پر اس لیے حملہ آور ہوئی یے تاکہ حکومت پر اپنی شرائط کے مطابق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح کے خونی واقعات سے دباؤ میں نہیں آئے گی اور تحریک طالبان کا قلع قمع کرنے کے لیے فوجی آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے گی۔
بجلی 99 پیسے فی یونٹ سستی کر دی گئی
یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ان کے اصرار پر تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے لیکن ٹی ٹی پی نے ہتھیار ڈالنے کہ بنیادی شرط ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد مذاکرات ناکام ہوگئے۔ افغان طالبان کی طرح پاکستانی طالبان بھی کئی سالوں سے پاکستان میں حکومت کا تختہ الٹ کر ’شریعت کے نفاذ‘ کے لیے لڑ رہی ہے۔ ٹی ٹی پی نے کپتان حکومت پر اپنے قیدیوں کی رہائی اور مذاکراتی کمیٹیوں کی تشکیل سمیت مختلف شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی دسمبر 2021 میں ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ جنوری 2022 کے آغاز میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے ٹی ٹی پی کے خلاف دوبارہ مسلح کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے سابق سربراہ خواجہ خالدفاروق نے بتایا کہ ٹی ٹی پی حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو جانے کے بعد اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے بقول انہوں نے اسلام آباد پولیس کو ہدف بنانے کے لیے مارو اور بھاگو کی حکمت عملی اپنا لی ہے تا کہ وفاقی دارالحکومت میں خوف کی فضا پیدا کی جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کے بعد لاہور میں دہشت گردی کی واردات کا مقصد بھی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے مختلف انتہا پسند گروپس نے اتحاد کر لیا ہے۔ انہوں نے کسی بھی بڑے حملے کے حوالے سے شک کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند ملک کے سکیورٹی نظام کے لیے اب بھی چیلنج ہیں۔
خالد فاروق کے مطابق کئی برس جاری رہنے والے فوجی آپریشنز کے نتیجے میں پاکستان میں عسکریت پسند گروپ کمزورہو چکے ہیں لیکن ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کے سلیپر سیل دہشت گردی کی اکادکا کارروائیاں کرنے کے لیے اب بھی موجود ہیں۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عسکریت پسندوں کے خلاف باقاعدہ کارروائیوں سے اس چینلج سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
