کیا پابندی لگنے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ ختم ہو گئی؟

6 اکتوبر 2024 کو وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم قرار دیے جانے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ سیاسی منظر نامے سے غائب ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پی ٹی ایم کا وجود ختم ہو چکا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، پی ٹی ایم کے کچھ رہنما روپوش ہیں جبکہ کچھ بیرونِ ملک جا چکے ہیں، لیکن اسکے باوجود تنظیم ختم ہونے کا تاثر درست نہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم لیڈرشپ کی جانب سے عارضی خاموشی اختیار کی گئی ہے تاکہ ریاستی دباؤ کم ہو سکے۔
تاہم، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال میں پی ٹی ایم کی جانب سے نہ تو کوئی پریس کانفرنس، ہوئی، نہ جرگہ ہوا اور نہ ہی کوئی مظاہرہ ہوا کیونکہ عوامی رابطے کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2024 میں خیبر پختون خوا کے ضلع خیبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کا ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں آئندہ احتجاج اور عوامی رابطہ مہم کے اعلانات کیے گئے تھے۔ مگر ایک سال گزر گیا، نہ تو وہ مظاہرے ہوئے اور نہ ہی تنظیم یا اس کی قیادت کسی سرگرمی میں نظر آئی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا کالعدم قرار دیے جانے کے بعد پی ٹی ایم ختم ہو گئی ہے یا یہ محض وقتی خاموشی ہے؟اکتوبر 2024 کا جرگہ بظاہر پی ٹی ایم کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اس کا آخری عوامی مظاہرہ بھی تھا۔ پی ٹی ایم کے جلسے کور کرنے والے پشاور کے صحافی انور زیب کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2024 کے جرگے کے بعد سے پی ٹی ایم مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ اگر میں کہوں کہ یہ تنظیم ختم ہو گئی ہے تو غلط نہیں ہوگا، کیونکہ کسی بھی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے عوامی رابطہ ضروری ہوتا ہے انور زیب کے مطابق، نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد منظور پشتین اور انکی تحریک کو غیر معمولی شہرت ملی، اور چند ہی دنوں میں ملک بھر میں پی ٹی ایم کا نام گونجنے لگا۔
ابتدا میں یہ تحریک پشتونوں کے حقوق، لاپتہ افراد اور فوجی آپریشنز کے متاثرین کی آواز تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ریاستی اداروں پر تنقید نے اس کے خلاف ردعمل پیدا کیا۔
جب پشتون تحفظ موومنٹ کی مرکزی قیادت کی جانب سے ریاست اور فوج کے ادارے پر تنقید میں شدت آئی تو وفاقی حکومت نے 6 اکتوبر 2024 کو پی ٹی ایم پر باضابطہ پابندی عائد کر دی۔ وزارتِ داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ تنظیم “ملک دشمن بیانیہ اپنانے اور انارکی پھیلانے” میں ملوث تھی۔ پابندی کے بعد منظور پشتین اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج ہوئے، اور تنظیم کے دفاتر سیل کر دیے گئے۔ اس کے بعد پی ٹی ایم کے رہنما اور کارکن عملاً منظرِ عام سے غائب ہو گئے۔ اس دوران تنظیم پر بیرونی فنڈنگ لینے اور ریاست مخالف بیانیہ اپنانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے، جنہیں پی ٹی ایم کی قیادت نے ہمیشہ مسترد کیا۔ تحقیقاتی صحافی وسیم سجاد کے مطابق، “گزشتہ سال خیبر کا جرگہ پی ٹی ایم کے لیے ایک بڑی آزمائش ثابت ہوا۔ تنظیم کے اندرونی اختلافات، اعلامیے پر اتفاقِ رائے نہ ہونا اور حکومتی کریک ڈاؤن نے اسکی سرگرمیاں ختم کر دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ تنظیم فی الحال غیر فعال ہے، لیکن اگر پی ٹی ایم دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش کرے تو عوام میں اب بھی اس کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔ وسیم سجاد کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پی ٹی ایم مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ تنظیم کی کوئی عوامی سرگرمی، جلسہ یا رابطہ مہم اب دکھائی نہیں دیتی۔ ریاستی اداروں کے الزامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام لگانا آسان ہے کہ کوئی تنظیم بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ پی ٹی ایم نے قبائلی علاقوں کے کئی حقیقی مسائل کو اجاگر کیا۔
آزاد کشمیر میں وزیر اعظم کی تبدیلی مسلسل تاخیر کا شکار کیوں؟
معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق دنیا بھر میں بہت سی تحریکیں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں، خصوصاً جب ان کے بنیادی مطالبات یا نعرے عوامی دلچسپی کھو بیٹھیں۔
انور زیب کے بقول، پی ٹی ایم شاید وقت سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔ مگر اس نے انصاف کی فراہمی، لاپتہ افراد، اور ریاستی رویے سے متعلق جو سوالات اٹھائے وہ آج بھی جواب طلب ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ آج بظاہر مکمل خاموش ہے۔ مرکزی لیڈر منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کا کوئی سراغ نہیں، اسکے جلسے اور مظاہرے ختم ہو چکے ہیں، اور عوامی رابطے کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔ لیکن کچھ مبصرین کے مطابق، یہ خاموشی وقتی بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ سیاسی تحریکیں اکثر دباؤ کے دوران پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں اور حالات سازگار ہونے پر دوبارہ ابھرتی ہیں۔ لیکن تب تک یہ سوال برقرار ہے کہ کیا پی ٹی ایم واقعی ختم ہو چکی ہے یا مناسب وقت کے انتظار میں خاموش ہے؟
