مودی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے, طلبہ احتجاج پر وزیر تعلیم مستعفی

 

 

 

 

بھارتی نوجوانوں کی پارٹی کاکروچ جنتا پارٹی کا پیپر لیک کے معاملے پر تقریباً دو ماہ سے جاری احتجاج رنگ لے آیا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے عہدے سے استعفیٰ دےدیا۔

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر استعفے کا متن شیئر کیا جب کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول بھی کرلیا۔

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر بھارت بھر اور بالخصوص نئی دہلی میں طلبہ، نوجوانوں اور اپوزیشن کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پیمانے پر احتجاج کےبعد سامنے آیا ہے۔

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی خبروں پر کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہےکہ اچھا ہوا جو استعفیٰ دےدیا۔

یاد رہے کہ جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کےلیے آج دوپہر تک کی مہلت دیتےہوئے کہا تھاکہ حکومت کو شام 4 بجے سے پہلے وزیر تعلیم کے استعفے پر ہاں یا ناں میں جواب دینا ہوگا۔ بصورتِ دیگر احتجاج کو پورے ملک میں پھیلانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

طلبہ تنظیموں، کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوانوں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دےرکھا ہے اور دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ وزیرتعلیم کے استعفے کا مطالبہ بھی کررہے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہےکہ ان کے دیگر دو دیرینہ مطالبات ابھی منظور ہونا باقی ہیں،جن میں پیپر لیک ہونےکی وجہ سے خودکشی کرنےوالے طلبہ کے اہلِ خانہ کےلیے ایک کروڑ بھارتی روپے اور ملک کے کسی بھی حصے میں اس معاملے پر احتجاج کرنےوالے طلبہ کے خلاف حکومتی کارروائیاں بند کرنا شامل ہیں۔

 

 

 

 

Back to top button