سینٹ میں الیکشن التواء کی قرارداد کا پراسرار منصوبہ کہاں بنا؟

مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور سینئر سیاسی تجزیہ کار عرفان صدیقی نے کہا ھے کہ سینٹ میں 8 فروری کے انتخابات ملتوی کرنے کی پُراسرار قرارداد پیش کرنے کی اجازت دینے والے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور قرارداد کے محرک سینٹر دلاور خان سمیت قرارداد کے بیشتر ہمنوا، خود بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ایک اور ’’دردِ مشترک‘‘ یہ ہے کہ سنجرانی اور سینیٹر دلاور خان سمیت بیشتر ’معاونینِ قرارداد‘ مارچ میں سینٹ سے ریٹائر ہورہے ہیں۔ الیکشن میں التوا امکانی طورپر اُن کی معیادِ رُکنیت بڑھا سکتا ہے ۔ اس قرارداد کے محرکات جو بھی تھے، اسکے نتائج واردات کے بالکل برعکس نکلے ہیں۔ 8 فروری زیادہ قوی ہوگیا ہے۔ پتھر پہ لکیر مزید گہری ، مزید نمایاں ہوگئی ۔ اپنے ایک کالم میں عرفان صدیقی سینٹ میں اس قرارداد پیش کرنے روداد لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ شواہد کے مطابق فیصلہ ساز قوتیں یکسُو ہوچکی ہیں۔ وہ جان گئی ہیں کہ 8 فروری کو انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے ورنہ ملک عدمِ استحکام اور بے یقینی کی صلیب پر جھولتا رہے گا۔ کچھ دِن قبل کور کمانڈرز اجلاس نے انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی ہر ممکن مدد کا عہد دہرایا۔ قراردادی کرداروں کا شَجَرَہ سیاست طاقت کے انہی معروف مراکز سے جڑا ہوا ہے لہذا میڈیا میں ایک کہرام بپا ہوگیا۔ قرارداد کے ڈانڈے ’’بارگاہِ خاص‘‘ سے ملائے جانے لگے۔ نتیجہ یہ کہ 8 فروری کا چہرہ ایک بار پھر دھُندلانے لگا۔ یہ جاننے میں کچھ دن لگیں گے کہ فتنہ ساماں قرارداد کی کھچڑی سینٹ کے باورچی خانے میں خود اس کے سربراہ کی نگرانی میں تیار ہوئی یا مارگلہ کی فضائوں میں آنکھ مچولی کھیلتی چڑیاں اس کے لئے دال چاول کے دانے چُن کر لائیں۔ گمانِ غالب یہی ہے کہ یہ ایک ’’خود رو ۔ واردات‘‘ تھی۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ سینٹ کے’ قواعد و ضوابط‘ کا باب 13، ایوان میں پیش کی جانے والی قراردادوں کے بارے میں واضح طریقہ کار طے کرتا ہے۔ کسی بھی رُکن کو سات دِن کا نوٹس دیتے ہوئے اپنی قرارداد کا مسودہ سیکرٹریٹ میں جمع کرانا ہوتا ہے۔ ایک سے زیادہ قراردادوں کی صورت میں ایوان میں لانے کی ترتیب کا تعیّن کرنے کے لئے کھلی قرعہ اندازی ہوتی ہے۔ قرارداد کے لئے ضروری ہے کہ وہ سینٹ رولز کے مطابق ہو جو قرار دیتے ہیں کہ ’’پیش کی جانے والی قرارداد ایسی بحث کا دروازہ نہیں کھولے گی جو عوامی مفاد کے منافی ہو۔‘‘
ایوان میں پیش کی جانے والی قرارداد ’’فرمانِ امروز‘‘ یعنی آرڈر آف دی ڈے میں شامل کرکے ایک دن قبل تمام سینیٹرز کو فراہم کردی جاتی ہے تاکہ وہ مسودہ پڑھ کر اپنے موقف کی تیاری کرسکیں۔ یومِ جمعہ کی قرارداد نے یہ سب کچھ روند ڈالا۔ تین سال کے دوران کبھی نمازِ جمعہ کے بعد اجلاس نہیں ہوا ۔ ہفتہ اتوار کی چھٹی اور پیر کو شام کے اجلاس کے باعث اکثر سینیٹرز دوردراز کے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ 5 جنوری کو نمازِ جمعہ سے قبل اجلاس ختم ہونے کو تھا کہ پی۔ٹی۔آئی کی ایک خاتون نے کہا’’ میں مسئلہ فلسطین پر کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘ چیئرمین سینٹ نے فراخ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ نمازِجمعہ کے بعد 2 بجے پھر مل لیتے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ جمعے کی نماز کے بعد 2 بجے اجلاس شروع ہوا تو واحد رُکن پیپلزپارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان، ایوان میں تھے۔ انہوں نے کہاکہ جناب چیئرمین! تقریر کی خواہش مند خاتون بھی نہیں آئیں، بہتر ہوگااجلاس برخاست کردیا جائے۔ شہادت اعوان، قائمہ کمیٹی داخلہ میں شرکت کے لئے چلے گئے تو ’’باپ‘‘ اور سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے درجن بھر ارکان ہال میں آگئے۔ دوسری جانب کی نشستوں پر صرف پی۔پی۔پی کے بہرہ مند تنگی اور مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر افنان اللہ موجود تھے۔ چیئرمین کی اجازت سے بہرہ مند تنگی نے خود کو ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے امن وامان کی بگڑتی صورت ِ حال ، بڑھتی دہشت گردی اور سیکورٹی معاملات پر زور دار تقریر کی۔ انہوں نے انتخابات کے التوا کا مطالبہ تو نہ کیا لیکن اِس نوع کے مطالبے کے لئے اچھی خاصی زمین تیار کردی۔ یہی لمحہ تھا کہ 2018میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینٹ میں آنے لیکن ثاقب نثار کے شہرہ آفاق فیصلے کے باعث دیگر مسلم لیگی سینیٹرز کی طرح ’’آزاد‘‘ قرار پانے اور مسلم لیگی بندھن سے واقعی آزاد ہوجانے والے سینیٹر دلاور خان نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ چیئرمین نے کہاکہ یہ معاملہ ایجنڈے پر نہیں۔ اس کے لئے رولز کو معطل کرنا ہوگا۔ دلاور خان نے جیب سے کاغذ نکالا اور رولز معطل کرنے کی عرضداشت پڑھ دی۔ رولز معطل کردئیے گئے تو سینیٹر دلاور نے اپنی قرارداد کا انگریزی مسودہ پڑھا۔ بلند آواز کے ذریعے رائے لی گئی تو اکثریت نے قرارداد کی حمایت کی۔ گیلری میں موجود رپورٹرز کے مطابق قرارداد کے خلاف ’’نو‘‘ (No) کی صرف ایک آواز سنائی دی جو ڈاکٹر افنان اللہ خان کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر تنگی، پی۔ٹی۔آئی کے سینیٹر گردیپ سنگھ اور مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغاز کی خاموشی بھی ’’ہاں‘‘ میں شامل کرلی گئی۔ بہرہ مند تنگی اور گردیپ سنگھ کی نشستیں ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر ہیں لیکن ’ڈرامے‘ کے دوران دونوں ساتھ ساتھ جڑے بیٹھے رہے۔ قرارداد کے خلاف واحد تقریر بھی صرف سینیٹر افنان اللہ کی تھی۔ ایوان کی کاراوائی چلانے کے لئے کم ازکم پچیس ارکان کی حاضری ضروری ہے ورنہ کورم ٹوٹ جاتا ہے اور اجلاس جاری نہیں رہ سکتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی رُکن نے کورم ٹوٹنے کی نشاندہی نہ کی اور اجلاس چلتا رہا۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ پیچ در پیچ کئی سوالات، جواب مانگتے ہیں۔ اس قرارداد کا بیج کس کے دماغ میں پھوٹا؟ کیا یہ واقعی خود رو تھا یا کاشت کیاگیا؟ خلافِ روایت، نمازِ جمعہ کے بعد اجلاس کیوں رکھا گیا؟ وہ دِن کیوں چُنا گیا جس دِن سینٹ اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی ہورہا تھا؟ قرارداد کے اصل اہداف ومقاصد کیا تھے؟ نہایت برق رفتاری کے ساتھ یہ قرارداد تمام متعلقہ اداروں کو کیوں بھیج دی گئی؟کچھ حقائق اور بھی ہیں۔ ایک قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ قرارداد کے محرک سینیٹر دلاور خان چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے قریبی دوست ہیں اور اپنا سیاسی مستقبل، مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام سے جوڑ چکے ہیں۔ سینیٹر دلاور کا بھائی اور بیٹا، دونوں نہ صرف باضابطہ طورپر جمعیت میں شامل ہوچکے ہیں بلکہ دونوں ہی جمعیت کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑ رہے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں پر قرارداد کا جواب لازم ہے۔ قواعد وضوابط اِس کے لئے دوماہ کا وقت دیتے ہیں۔ گمان یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے جواب دینے میں زیادہ تاخیر نہیں کرینگے۔ یہ ایک رسم ہے جو جلد پوری ہو جائیگی۔ پُراسرار قرارداد کے محرکات جو بھی تھے، اس سے ایوان بالا کے مرتبہ ومقام پر ضرور ضرب لگی ہے اور ’’اربابِ قرارداد‘‘ بھی پارلیمانی کردار پر فخر کرنے کے بجائے اپنے کئے کی تشریحات اور تاویلات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔پارلیمنٹ کے ایوانوں کو شکار گاہ کی مچانوں کا درجہ دیتے ہوئے گھاتوں اور وارداتوں کیلئے استعمال کیا جانے لگے تو صرف ایوان ہی نہیں، جمہوریت بھی بے توقیر ٹھہرتی ہے اور وہ نمائندے بھی جنہیں اُجلی جمہوری اقدار کے تحفظ اور باوقار طرز عمل کی توقعات کیساتھ ایوانوں کی زینت بنایا جاتا ہے۔ پوری قوم نے جمعۃالمبارک کی سہ پہر سینٹ کے باورچی خانے میں تیار ہونے والی کھچڑی کو بدذائقہ قرار دیکر جس کَراہَت کیساتھ اُگل دیا ہے، وہ اُسے پکانے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے

تحریک انصاف نے عمرانڈو وکلاء کو بھی لال جھنڈی دکھا دی

Back to top button