تحریک انصاف نے عمرانڈو وکلاء کو بھی لال جھنڈی دکھا دی

عمران خان کے پابند سلاسل ہونے کے بعد پارٹی قیادت سے محروم تحریک انصاف میں ایک اور بغاوت سامنے آنا شروع ہو گئی ہے۔ آئندہ عام انتخابات کیلئے پارٹی ٹکٹس کی تقسیم میں وکلاء کو نظر انداز کرنے کے خدشے کے پیش نظر عمرانڈو وکلاء نے بھی عمران خان سے راہیں جدا کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات کی خبریں اور چہ مگوئیاں جاری تھیں۔ تاہم اب انتخابات 2024 کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی ٹکٹس کی تقسیم پر حتمی مشاورت نہ ہونے اور پارٹی میں اس حوالے سے اختلافات کھل کر سامنے آنے کے بعد ٹکٹوں کا معاملہ التوا کا شکار ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق گوہر خان کی عمران خان کے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلی حلقوں کے لیے 80 فیصد سے زائد ٹکٹوں پر مشاورت مکمل ہوچکی ہے تاہم جن حلقوں میں امیدوار زیادہ ہیں وہاں مشاورت ابھی باقی ہے.عمران خان زیادہ تر حلقوں کے لیے ان نوجوانوں اور نظریاتی ورکرز کو ٹکٹ دینے کو ترجیح دے رہے ہیں جو 9 مئی واقعے کے بعد پارٹی پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت وکلا کی بڑی تعداد ٹکٹ کی خواہش مند ہے تاہم وکلا کو زیادہ تر ٹکٹس دینے کے بجائے نوجوانوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے انصاف لائرز فورم اور مختلف بارز کے عہدیداروں نے بھی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا شروع کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا یوتھ ونگ بھی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
اس حوالے سے انصاف لائرز فورم خیبرپختونخوا کے صدر قاضی انور کی آڈیو لیک بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں وہ یہ کہتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ عمران خان نے میری فہرست پر مِن وعَن عمل کا کہا تھا لیکن اب بیرسٹر گوہر خان 3 دن سے میرا فون اٹینڈ نہیں کر رہے، سنا ہے کہ وکلا کو کوئی ٹکٹ دینے کو تیار نہیں ہے۔
انہوں نے انصاف لائرز فورم کے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ اگر ہمارے ساتھ انصاف نہ ہوا تو آئندہ کا لائحہ عمل جلد طے کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی واقعات کے بعد سب سے زیادہ قربانیاں انصاف لائرز فورم کی ہیں لہٰذا پارٹی ٹکٹس بھی انصاف لائرز فورم کے ممبرز کو ہی ملنے چاہییں، ان کے حق کے لیے آواز اٹھاؤں گا۔
قاضی انور کا مزید کہنا تھا کہ اگر وکلاء کو ٹکٹ نہ ملے تو صدر رہنے کا حق نہیں رکھتا۔ جلد آئندہ کا لائحہ عمل کل طےکریں گے۔قاضی انور نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے خود کہا تھا کہ ٹکٹ وکلاء کو دیئے جائیں گے لیکن پارٹی ٹکٹ سابق اراکین اسمبلی کو دینا چاہ رہی ہے۔قاضی انور نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے بعد سب سے زیادہ قربانیاں انصاف لائرز فورم کی ہیں، ٹکٹ آئی ایل ایف ممبرز کو ہی ملنے چاہئیں، ان کے حق کیلئے آواز اٹھاؤں گا، اگر
مطالبات نہ مانے گئے تو مجھے صدر رہنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
