تاخیر سے الیکشن کا انعقاد بھی غیر قانونی کیوں نہیں؟

وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلان کے مطابق عملا آج وفاقی حکومت ختم ہو جائے گی۔ جس کے بعد پاکستان میں سب کی نظریں آنے والے عام انتخابات پر ہیں لیکن ان کا انعقاد کب ہو گا اس بارے میں اب بھی کافی ابہام پایا جاتا ہے۔
سنہ 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست 2018 سے شروع ہوئی تھی اور اس کی پانچ سال کی مقررہ مدت 12 اگست 2023 کی رات 12 بجے مکمل ہونی ہے تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ اسمبلی مقررہ مدت سے تین دن قبل نو اگست کو ہی تحلیل کر دی جائے گی۔اس اعلان کے باوجود حال ہی میں حکومت کی جانب سے مردم شماری کی منظوری کے بعد الیکشن کا انعقاد التوا کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد اب تک ان دونوں صوبوں میں انتخابات نہیں ہو سکے۔ تحریک انصاف کی احتجاجی تحریکوں اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اب ان صوبوں میں انتخابات بھی دیگر صوبوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات کے ساتھ ہی منعقد ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 52 میں قومی اسمبلی کی مدت کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ اس میں درج ہے کے قومی اسمبلی کی مدت پانچ برس ہے۔یہ مدت کسی حکومت کی نہیں بلکہ قومی اسمبلی کی ہے جس کا آغاز ہر پانچ سال بعد الیکشن کے باعث ہوتا ہے اور اگر اسے مدت سے پہلے تحلیل نہ کر دیا جائے تو یہ مدت پوری ہونے پر خودبخود تحلیل ہو جاتی ہیں۔آئین کے آرٹیکل (1) 224 کے تحت اگر اسمبلیاں مدت پوری ہونے سے قبل تحلیل کر دی جائیں تو اس کے بعد 90 دن میں الیکشن کروانے لازم ہیں۔
آئینی ماہر اور پاکستان میں الیکشن کی نگرانی کرنے والے غیرسرکاری ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک فافن کے ترجمان مدثر رضوی نے بتایا کہ ‘اگر اسمبلیاں آئین کی بتائی گئی مدت پوری کر رہی ہیں تو اس دن کے بعد 60 دن کے اندر اندر الیکشن ہو جانے چاہییں اور اگر اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل کر دیا جاتا ہے تو 90 دن کے اندر الیکشن ہوں گے۔’
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا آئین میں دی گئی مدت میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہے؟ قومی اسمبلی کی تحلیل سے قبل ہی وفاقی وزرا کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کا انعقاد آئین کے تحت مقررہ وقت پر ممکن نہیں ہو سکے گا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے منگل کے دن نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین میں درج ہے کہ 2017 میں جو مردم شماری ہوئی، اس پر 2018 میں انتخابات کے بعد دوسرا الیکشن نہیں ہو سکتا۔‘رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’آئین میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جب ایک بار مردم شماری نوٹیفائی ہو جائے تو نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔‘’نگران حکومت اس آئینی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے حلقہ بندی کروائے گی اور اس حلقہ بندی میں تقریبا 120 دن لگتے ہیں۔ جیسے ہی حلقہ بندی کا عمل مکمل ہو گا، الیکشن ہو جائے گا۔‘
حکومت کی جانب سے مردم شماری کی منظوری کے بعد یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد میں التوا کا کافی امکان موجود ہے۔اس منظوری کے بعد حکومت کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو ملکی آبادی کے تازہ تخمینے کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کی از سر نو حد بندی کرنی ہوگی۔
سابق وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق ’وزیر اعظم نے نئی مردم شماری کے مطابق جو عندیہ دیا، وہ آئین اور قانون کے مطابق درست ہے۔‘’الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئین کے آرٹیکل 51 کی ذیلی دفعہ 5 کے تحت ازسرنو حلقہ بندیاں کروانا ہوں گی اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کا شیڈول جاری ہوگا۔‘کنور دلشاد کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن چار مہینے کے دوران حلقہ بندیاں کروا پائے گا اور اس سے زیادہ جلدی شاید ممکن نہیں ہو پائے گا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد نگران حکومتیں معرض وجود میں آئیں گی۔اسی دوران الیکشن کمیشن کو مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کو مکمل کرنا ہو گا جس میں چار ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔اس حساب سے دیکھا جائے تو دسمبر کے اختتام تک حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کرنے کے بعد الیکشن کمیشن الیکشن شیڈول کا اعلان کر سکتا ہے۔اگر الیکشن کمیشن نوے دنوں کے حساب سے الیکشن کا وقت طے کرتا ہے تو پھر مارچ میں الیکشن ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں غیرمعمولی حالات کو وجہ بتا کر انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔تاہم یہ التوا کس صورت میں کیا جا سکتا ہے اس بارے میں قانونی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس حوالے سے آئین میں واضح طور پر نہیں بتایا گیا ہے۔ کسی غیر معمولی صورتحال میں الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کر سکتاہے۔
ماہر قانون بیرسٹر ظفر اللہ کے مطابق ’پاکستان کے آئین کی دفعہ 254 یہ کہتی ہے کہ آئین میں اگر کسی کام کا وقت مقرر ہو اور وہ اس وقت پر نہ ہو سکے تو وہ کام خراب نہیں ہوتا۔ اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔‘’اگر قانون کے تحت کسی بھی کام کا وقت مقرر ہو اگر آپ وہ کام اتنے دنوں میں نہیں کریں تو وہ غیر قانونی ہو گا، غلط ہو گا اور اسے اگر نہ کیا تو اس میں سزا ملے گی ‘انھوں نے مزید بتایا کہ ’جب سپریم کورٹ میں بتایا گیا کہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو فیصلے میں عدالت نے لکھا کہ اس کام میں تاخیر ہو سکتی ہے لیکن کوشش کریں کہ کم سے کم وقت آگے جائے۔۔۔ گویا انھوں نے بات طے کر دی۔‘بیرسٹر ظفر اللہ کے مطابق ’پاکستان کے آئین کی دفعہ 254 کے مطابق
الیکشن لیٹ بھی ہوئے تو بھی یہ درست عمل ہو گا خلاف قانون نہیں۔
