عمران خان کو جیل میں مکھیاں، مچھر اور گرمی ستانے لگی

اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سخت مضطرب اور پریشان ہیں۔ سوشل میڈیا پر بلند وبانگ دعوؤں کے برعکس عمران خان نے جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی پر شکایات کے انبار لگا دئیے۔ توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ عمران خان دن میں مکھیوں اور رات کو مچھروں سے عاجز آگئے۔ ذرائع کے مطابق جیل سے نہ نکلنے کے خوف سے انہیں نیند نہیں آ رہی اور وہ پوری رات جاگتے رہتے ہیں۔ اپنے وکیل کے ساتھ ملاقات میں بھی عمران خان نے صرف یہ کہا کہ مجھے نہیں پتہ مجھے یہاں سے نکالو۔ ذرائع کا دعویٰ ہے جیل سے ٹک ٹاک پر سامنے آنے والی ساری ویڈیوز فیک ہیں ان فیک ویڈیوز میں عمران خان کو نمازیں پڑھتے ہُوئے دکھایا جا رہا ہے جو کہ سرا سر جھوٹ ہے اِس پروپیگنڈے کا مقصد صرف لوگوں میں انتشار کے لئے بےچینی اور اضطراب پھیلانا ہے اور انہیں فساد اور توڑ پھوڑ کے لئے ورغلانا ہے۔۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں کافی شکایات کرتے پائے گئے۔ جیل ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے جبیل سپرنٹنڈنٹ سے مچھروں اور مکھیوں کی شکایت کی اور اس کے ساتھ میز اور کرسی کی مہیا کیے جانے کا بھی کہا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان جیل اٹک میں دو راتیں تو بہتر طور پر کاٹ گئے۔ لیکن تیسری رات حبس ، گرمی اور مچھروں کے باعث پرسکون نیند نہ سو سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جسمانی طور پر بھی کچھ "تکالیف” کی شکایت کی، جس بارے میں ڈاکٹرز اور جیل حکام کچھ بھی بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ جیل اور سٹی پولیس اٹک کے اہم ذرائع نے بتایا کہ عمران خان دو راتیں پرسکون گزار کر تیسری رات کافی ڈسٹرب رہے۔ کیونکہ پہلی اور دوسری رات موسم بہت خوش گوار رہا۔ بلکہ دوسری رات کو زیادہ تر بارش ہوتی رہی ۔ اس لیے عمران خان میٹرس پر چادر تان کرسوتے رہے۔ جبکہ تیسری رات گرمی اور جس نے انہیں بے حال رکھا۔ عمران خان نے تقریبا تمام رات جاگتے گزاری۔ اسٹنٹ سپر نٹنڈنٹ جیل سے بار بار ٹھنڈا امنگواتے رہے اور مچھروں کے بندوبست کے لیے کہتے رہے۔ رات گئے سپرنٹنڈنٹ جیل نے بھی دو باران کی بیرک کا دورہ کیا اور مچھروں کی شکایت سنی۔ لیکن انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ اس وقت کچھ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ صبح پانچ ساڑھے پانچ بجے انہیں نیند آئی اور وہ دو تین گھنٹے تک سوتے رہے۔ اس کے بعد اٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے انہوں نے ورزش کی اور پھر ناشتہ کیا جو جیل مینوئل کے مطابق تھا۔
بعد ازاں ان کی اسی بیرک میں ان کے وکیل سے ملاقات کرائی گئی، جس میں عمران خان نے اپنے وکیل کو ان تکالیف کے بارے بتایا اور انہیں اڈیالہ جیل میں اے کلاس میں شفٹ کرنے کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے کا کہا۔ ذرائع کے مطابق کوئی کمانڈو جیل کے اندرتعینات نہیں ہے۔ البتہ جیل کے باہر سٹی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ عمران خان کی سیکورٹی کی ذمہ داری جیل پولیس کے ایک ڈی ایس پی بلال اصغر نے سنبھالی ہوئی ہے جو دن رات وہاں موجود رہتے ہیں ۔ جب کہ منڈی بہاؤالدین جیل جو کہ بارشوں کے باعث کچھ عرصہ قبل خالی کرالی گئی تھی، اس کے تمام اہلکاروں کو بھی اٹک جیل بلوالیا گیا ہے۔
دوسری جانب اٹک جیل میں قید پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان سے جیل اہلکار کی مبینہ طور پر کوڈ ورڈ میں بات چیت کے بعد تمام عملے کی سیکورٹی کلئیرنس کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اٹک جیل کی جیو فینسنگ کرکے جیل عملے کی طرف سے واٹس ایپ کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا کہ کہ جیل اہلکار کی عمران خان سے گفتگو کی ریکارڈنگ میں کچھ ایسی باتیں سامنے آئی ہیں جنہیں انتظامیہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اٹک جیل میں تعینات ڈیڑھ سو سے زائد جیل عملے کا مکمل بائیوڈیٹا سیکورٹی کلئیرنس کے لئے سپیشل برانچ اور دیگر اداروں کو بھجوایا جائیگا۔سیکورٹی کلئیرنس کے ذریعے اٹک جیل میں تعینات ملازمین کے کسی انتہا پسند تنظیم سے تعلق اور سیاسی پارٹی سے وابستگی سمیت دیگر سرگرمیوں بارے رپورٹس فوری طور پر مرتب کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب جیل کے اطراف سیکورٹی کافی سخت کر دی گئی ہے۔ اٹک جیل کے چار گیٹ ہیں جن میں دو پر جیل حکام، جبکہ دیگر دو گیٹ پنجاب رینجرز نے سنبھالے ہوئے ہیں
۔ جیل کی سیکورٹی کا عالم یہ ہے کہ اگر جیل کے محل وقوع اور اس کی سمت جانی والی سڑکوں کی بات کی جائے تو اٹک جیل شہر میں لاری اڈہ سے20 منٹ کی مسافت پر واقع ہے اور اسے ایک ہی سڑک کے ذریعے رسائی دی گئی ہے۔ اس سڑک پر سٹی اور پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات ہیں، جو گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں اور جیل کی سمت جانے والوں سے تفتیش کرتے ہیں۔ البتہ بعض جگہوں پر رینجرز اہلکار تعینات ہیں۔ جو گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں اور جیل کی سمت جانے والی سڑک پر کرفیو نافذ کیا گیا ہے، بالکل غلط ہے۔ وہ سڑک کھلی ہوئی ہے، البتہ اس پر سیکورٹی کے بھر پور انتظامات موجود ہیں۔
