اب اسٹیبلشمنٹ عمران کی خاطر اپنی عزت داؤ پر نہیں لگائے گی
معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والا ادارہ اب وہ کچھ کرنے پر آمادہ نہیں ہے جو وہ پہلے کرتا رہا ہے۔ اب وہ مزید فریق بننے پر آمادہ نہیں اور نام نہاد تبدیلی کی خاطر اپنے وقار کو کمپرومائز کرنے سے انکاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمپائر کب تک نیوٹرل رہتا ہے اس کا انحصار نواز شریف اور آصف زرداری کے رویوں پر ہوگا۔
سردست ہم بس اتنا ہی دیکھ سکتے ہیں کہ جن لوگوں نے خان صاحب پر تکیہ کیا ہوا تھا، انہیں بھی سمجھ آ چکی ہے کہ ان سے سنگین غلطی ہوئی اور انکا تجربہ ناکام ثابت ہوا۔ انہیں یہ بھی معلوم پڑ گیا کہ بندہ کپتان نہیں بلکہ کھلاڑی ہے جو ملک چلانے کے قابل تو ہرگز نہیں یے لیکن ان کیساتھ کھیل ضرور کھیلتا ہے۔
نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن پراعتماد ہے جبکہ عمران خان گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے پی ڈی ایم سمیت تمام سیاسی جماعتیں پر اعتماد نظر آ رہی ہیں، اس لئے وزیراعظم سخت پریشانی کا شکار ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ میدان سج چکا یے اور میچ ہونا لازمی ہے۔ اب اس میچ میں کامیاب کون ہوتا ہے، یہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی حکمت عملی پر منحصر ہوگا۔ صافی کا کہنا تھا کہ اس وقت اپوزیشن کی بڑی طاقت ان کی رازداری کی پالیسی ہے، جس کو وہ آگے لے کر چل رہے ہیں اور پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔
جب پوچھا گیا کہ اپوزیشن کی تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کے پاس کون سے پتے ہیں، تو صافی نے کہا کہ حکومت کے پاس بہت طاقت ہوتی ہے۔ اس وقت ان کے پاس ناصرف صوبائی حکومتیں ہیں بلکہ قومی ادارے بھی ان کے ماتحت ہیں۔ چیئرمین نیب کو بھی بلیک میل کرکے خان صاحب نے اپنی جیب میں رکھا ہوا ہے۔
کیا اسٹیبلشمنٹ واقعی عمران کا ساتھ چھوڑ چکی ہے؟
لیکن ان کا کہنا تھا کہ عمران کیلئے پچھلے ساڑھے تین سال گیم کوئی اور کھیلتا رہا، انکی مشکلات کوئی اور حل کرتا رہا۔ اس لئے جو تجربہ زرداری، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کو ہے، وہ ان کے پاس نہیں، عمران ابھی سیاست سیکھ رہے تھے لیکن انکی سرپرستی چھوڑ دی گئی اور ایمپائر نے نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
صافی کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ایمپائر کے مابین جو معاملات تھے ان میں پرویز مشرف کیس اور ڈان لیکس سمیت دیگر معاملات نے ایک کردار ادا کیا تھا۔ لیکن ٹویٹ والا معاملہ بالکل ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد سنجیدگی کیساتھ تبدیلی کی راہ ہموار ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس طرح عمران خان کیساتھ اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں مدو جزر تو آتے رہے لیکن ان کیلئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا معاملہ بنیادی طور پر تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
انکا موقف تھا کہ اگر ایمپائر نیوٹرل نہ ہوتا تو پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ ابھی نہیں آ سکتا تھا؟َ انہوں نے پوچھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ پیچھے نہ ہٹتی تو کیا فیصل واوڈا نااہل ہو سکتے تھے اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا زرداری صاحب اس اعتماد کے ساتھ متحرک ہو سکتے تھے؟
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب صورت حال یہاں تک آ گئی ہے کہ عمران خان مونس الہیٰ کی یقین دہانی پر خوش ہوتے ہیں حالانکہ اسی مونس کی پارٹی کے ایک بندے کو کچھ عرصہ قبل وفاقی کابینہ کے ایک وزیر نے کہا تھا کہ تم لوگ تو صرف ایک میجر کی ٹیلی فون کال کی مار ہو۔صافی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق کی ڈبل گیم کرنے کی حیثیت نہیں ہے۔
میرے خیال میں جو بھی سکیم بنی ہے، اس میں ابھی قاف لیگ کو پوری طرح آن بورڈ نہیں لیا گیا۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ ق لیگ اور ایم کیو ایم خا خان صاحب سے اتحاد بالجر کروایا گیا تھا۔ یہ اتحاد ان جماعتوں کی خوشی اور مرضی سے نہیں ہوا تھا۔
سلیم صافی نے کہا کہ مونسی الہیٰ بے چارے کو وزیر بنانے کیلئے تو پوری مسلم لیگ ق کو ڈھائی سال تڑپایا گیا تھا اور بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد انھیں وزارت کا قلم دان سونپا گیا تھا لہذا جیسے ہی انھیں اشارہ ملے گا وہ اپوزیشن کی جانب آ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایمپائر کب تک نیوٹرل رہتا ہے اس بات کا انحصار نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر کے رویوں پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اہم ترین ادارہ وہ کرنے پر آمادہ نہیں جو خان صاحب کہ خاطر پہلے کیا جاتا رہا ہے۔ وہ اب فریق بننے پر آمادہ نہیں اور نام نہاد تبدیلی کی خاطر مذید اپنے وقار کو کمپرومائز کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
