کیا اسٹیبلشمنٹ واقعی عمران کا ساتھ چھوڑ چکی ہے؟
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے باوجود ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کوئی ایسے واضح اشارے نہیں ملے جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ اپنے سلیکٹڈ کپتان سے جان چھڑوانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کپتان کے سر سے ہاتھ اٹھانے کا بڑا اشارہ تب آئے گا جب حکومتی جماعت تحریک انصاف میں بغاوت ہو گی اور پارٹی کا ایک دھڑا علیحدہ ہوجائے گا۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، کپتان کی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم، قاف لیگ، جی ڈی اے اور باپ بھی انکا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ تو کیا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانب دار ہو چکی ہے لیکن اس دعوے کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ابھی تک اسٹیبلشمنٹ یا اسکے اشاروں پر چلنے والی کسی جماعت کی جانب سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا کہ کپتان کو نکالنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر تو اسٹیبلشمنٹ تبدیلی کے اس کھیل میں شامل ہے تو سب سے پہلے تحریک انصاف کے اندر دراڑ پڑے گی اور ایک گروپ حکومتی جماعت سے علیحدہ ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو پھر حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی ایک ایک کرکے اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کر دیں گے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ایسا کب ہوتا ہے کیونکہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے۔
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی اتحادی جماعتیں مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں اور تحریکِ انصاف کے بعض اراکین بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں گلے شکوے کرتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت نے کپتان کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ انہیں اپنا ساتھ دینے پر آمادہ کیا جا سکے۔
اس دوران اپوزیشن ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ 28 فروری سے پہلے حکومت تبدیل ہوجائے گی اور عمران خان کی چھٹی کروا دی جائے گی۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تحریکِ عدم اعتماد پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کل تحریک لے آئے، تحریک انصاف اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی انہیں سرپرائز دیں گے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حزب اختلاف کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان ایک بڑا قدم ہے تاہم اس کی کامیابی کے لیے حکومتی اتحادیوں اور تحریکِ انصاف کے ناراض اراکین کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ البتہ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اپوزیشن عدم اعتماد میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کے بعد حکومت کون بنائے گا؟
دوسری جانب حزب اختلاف کی حکومت مخالف تحریک کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف نے عوام کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم اور جلسوں کا اعلان کر دیا یے جن سے وزیر اعظم عمران خان خطاب کریں گے۔ حکومت کی اہم اتحادی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) کے قائدین تو حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جب کہ بلوچستان کی حکمراں جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور سندھ کے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے رہنما بھی اعلانیہ تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب بھی آرمی چیف کی معیاد ختم ہونے کے قریب آتی یے تو اپوزیشن جماعتوں کو بھی متحرک کر دیا جاتا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ پچھلی مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا جس کے نتیجے میں عمران خان نے جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دے دی تھی اور اس عمل میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے بھی حصہ ڈالا تھا۔
فیصل واوڈا کی نااہلی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد دراصل اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر لائی گئی ہے اور اس کا مقصد جنرل قمر جاوید باجوا کے عہدے میں ایک برس کی مزید توسیع کروانا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آرمی چیف کو توسیع اس مرتبہ عمران خان دیں گے یا اگلا وزیراعظم دے گا؟
تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حزب اختلاف کا وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ اس کی کامیابی کے لیے حکومتی اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف کے ناراض اراکین اسمبلی کو کس حد تک اپنی جانب راغب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد لانے کا اعلان یقینی طور پر اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جب بھی تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو پورا نظام حکومت رک جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پارلیمانی نظام میں تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانا ایک مشکل کام ہے اور اسی وجہ سے وفاق کی سطح پر آج تک عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پارلیمانی تاریخ میں صرف ایک مرتبہ محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیابی کے قریب پہنچ سکی تاہم اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے باوجود وہ بھی ناکام رہی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ماضی میں باہمی عدم اعتماد کے باعث حزب اختلاف کے حکومت کے خلاف اقدامات کامیاب نہیں رہے تاہم عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے اپوزیشن قائدین سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بری حکمرانی کے بعد مہنگائی اور بے روزگاری نے حزب اختلاف کو موقع دیا ہے کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا موجودہ حالات میں بھی آسان نہیں ہو گا اور اس کے لیے حزب اختلاف کو خاصا زور لگانا ہو گا۔
سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کا عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان محض سیاسی اعلان نہیں بلکہ وہ اس میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس کی کامیابی کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ انکے خیال میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں وثوق سے اس لیے بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانب دار تو ہے مگر ایسا اشارہ نہیں ملا کہ وہ حکومت کو ہٹانا چاہتی ہے۔
تاہم اہم سوال یہ یے کہ عمران خان کو ہٹانے کے بعد اپوزیشن جماعتیں کیا کرنا چاہتی ہیں؟ کیا وہ عبوری حکومت بنوانا چاہتی ہیں یا پھر نئے الیکشن کروانا چاہتی ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں ہے کیونکہ ماضی میں نواز شریف صرف نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم ایسا بھی سننے میں آرہا ہے کہ اگر وزارت عظمی پیپلز پارٹی کو دے دی جائے تو حکومت کی بقیہ ڈیڑھ سال کی مدت بھی پوری کی جا سکتی ہے۔
انکا کہنا یے کہ ماضی میں حزب اختلاف سینیٹ میں اکثریت رکھنے کے باوجود متعدد مواقع پر حکومت کو ناکام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔ وجہ یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کے پاس بہت سے وسائل اور ادارے موجود ہوتے ہیں جو اس مرتبہ بھی اپنا کام کریں گے۔ لہذا تان وہیں پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ اگر تو اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں حصہ ڈالتی ہے تو وزیراعظم عمران خان کا بچنا مشکل ہے، وگرنہ وہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کریں گے۔
